تحفظ پاکستان بل کی قومی اسمبلی سے منظوری پاکستان کے پہلے سے بے حال
،سسکتے بلکتے بنیادی انسانی حقوق پر بجلی بن کر گری ہے ۔اس بل کے ذریعے
قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہاتھوں میں کچھ ایسی جادہ کی چھڑیاں دے دی
گئی ہیں جن کے ذریعے ان کے لیے اب کوئی بے نوا پاکستانی عارضی یا دائمی طور
پر روئے ارضی سے غائب کرنا مسئلہ نہیں رہے گا۔ پاکستانی آئین کی دسویں شق
سے براہِ راست متصادم یہ بل عرش کے جس کونے سے بھی نازل ہوا ہو لیکن منظور
اس اسمبلی سے کروایا گیا ہے جس کا گلا آئین کی حکمرانی کے راگ گاتے گاتے
رندھ چکا ہے۔ ہنگامی حالات یقیناًہنگامی قوانین کے متقاضی ہوتے ہیں لیکن ان
قوانین کو بنانے کے لیے جس ہنگامی شعور کی ضرورت ہوتی ہے بدقسمتی سے وہ
موجودہ اسمبلی کے قانون سازوں میں مفقود نظر آرہا ہے۔ یہ قانون اسمبلی کی
اجتماعی سوچ سے زیادہ فرشتوں کی فکراور ضروریات کاترجمان لگتا ہے ۔ اس بل
کے شانِ نزول کو سمجھنے کے لیے پاکستان کے دفاعی اورقانون نافذ کرنے والے
اداروں کے ہاتھوں پچھلی ایک دہائی میں ہونے والے ماورائے عدالت قتل اور
اغوا کے اس طویل سلسے پر نظر ڈالنی ضروری ہے جسے عدالتِ عالیہ کے پے در پے
سو موٹو بھی ختم نہ کر سکے۔
بدھ، 23 جولائی، 2014
جمعرات، 3 جولائی، 2014
ارضِ مقدس کا بے انت مرثیہ
اردو
عالمی ضمیر تین اسرائیلی نوجوانوں کی ہلاکت پر افسردہ ہے۔۱۲ جون کی ایک سہہ پہر کو اسرائیلی بستی سے غائب ہونے والے ان تین یہودی آباد کار نوجوانوں کی لاشیں اسرائیل ہی کے زیرِ انتظام مقبوضہ مغربی پٹی سے ملی ہیں۔ ان نوجوانوں کی اٹھارہ روزہ تلاش میں اسرائیلی فوج نے چار سو فلسطینیوں کو گرفتار کیا جن میں سات سال کے بچے سے لے کر ستر سال کے بوڑھے شامل ہیں۔گرفتار ہونے والے ان فلسطینیوں کی بقیہ زندگی اب اسرائیلی کے ان اندھے قید خانوں میں گزرے گی جو عالمی ضمیر کی نظروں سے اوجھل ہیں۔ تین نوجوانوں کے اغوا نے سارے اسرائیل پر افسردگی کی چادر تان دی تھی جسے اسرائیلی فوج کے ہاتھوں مارے جانے والے پانچ فلیسطینیوں کا خون بھی نہ چھٹ سکا۔ اب ان نوجوانوں کی لاشیں ملنے پر سارا اسرائیل بدلے کی آگ میں دہک رہا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم نے حماس پر الزام عا ئد کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ حماس سے اس خون کا بدلہ لیا جائے گا۔
بدھ، 2 جولائی، 2014
اپنا اپنا چاند
رویت ہلال حسبِ روایت اس سال بھی اسلام کے قلعے میں متنازع رہا ۔ پشاور کی مسجد قاسم خان میں بیٹھے مفتی شہاب الدین پاپولزئی کو چاند نظر آ گیا کراچی میں بیٹھے مفتی منیب الر حمن اس سعادت سے محروم رہے ۔ فرقہ واریت ہمارے خون میں یوں رچ بس گئی ہے کہ ہم چاہیں بھی تو اس سے دامن نہیں بچا سکتے۔ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چئیر مین کو خیبر پختونخواہ سے ملنے والی شہادتیں قبول نہیں کہ ان شہادتوں کا فرقہ مختلف ہے ۔ مفتی پاپولزئی سرکاری کمیٹی کو اس لیے ماننے کے لیے تیار نہیں کہ اس کاتعلق ایک دوسرے فرقے سے ہے۔ ہر فرقے کو دوسرے فر قے کی شہادتیں ہضم نہیں ہوتیں۔ ہٹ دھرمی کو اگر مجسم صورت میں دیکھنا مقصود ہو تو پاکستانی فرقہ پرستوں سے بہتر کوئی اور مثال نہیں۔
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں
(
Atom
)