ہفتہ، 28 جون، 2014

انقلابی سیاست اور ہمارے گلو بٹ

روایت پرست پاکستانی عوام نے طاہر القادری کے نعرہِ انقلاب کو جس سنجیدگی سے لیا اس کا اندازہ گلو بٹ کی روز افزوں مقبولیت سے کیا جا سکتا ہے ۔ سماجی رابطے کی ویب سائیٹس پر گلو کے جارحانہ انداز پر بنائے گئے سینکڑوں لطائف اگرچہ صرف طفننِ طبع کے لیے شئیر کیے جارہے ہیں لیکن ان سے قادری صاحب کے انقلاب کی شان میں جو پے در پے گستاخیاں سرزد ہو رہی ہیں وہ قابلِ افسوس ہیں۔ انقلاب چاہے کینیڈا سے بزنس کلاس میں ہی سفر کر کے کیوں نہ آئے اس کی تضحیک انقلاب پسند قوم کا شیوہ نہیں ہو نا چاہیے۔ یہ بات سمجھ میں آنے والی نہیں کہ گلو بٹ جس نے گلی محلوں کے بے قابو لفنگوں اور پنجابی فلموں کے بے مغز ہیرو کی طرح ادارہ منہاج القران کے سامنے کھڑی گاڑیوں کو اپنی وحشت کا نشانہ بنایاکیوں کر عوام میں اتنا مقبول ہوا کہ لوگ ماڈل ٹاؤن سانحے میں مرنے والے مظلوموں کو بھول کر اس مضحکہ خیز کردار کے مناقب گننے میں مگن ہیں۔

بدھ، 25 جون، 2014

پاکستانی سیاست کے ’’ڈئیر ڈیولز‘‘ اور ہواس باختہ حکومت

جہالت، پسماندگی اور افلاس کے جان لیوا شکنجوں میں جکڑے ہوئے پاکستانی اگر طاہر القادری جیسے کرداروں کو مسیحا سمجھ لیں تو کچھ اچنبھے کی بات نہیں۔طاہر القادری کی لیڈر شپ کے ڈرامائی انداز پر انگلیاں اٹھانے والے کیا ہماری تاریخ میں کوئی ایک بھی ایسا لیڈر دکھا سکتے ہیں جس نے ناٹک بازی ، مکرو فریب اور ڈھونگ رچا کر اقتدار کی کرسی نہ حاصل کی ہو۔ جمہوری لیڈر وں کی نوسر بازیاں تو رہیں ایک طرف مقدس وردی پہنے ہمارے مسیحائو ں کی قلابازیوں کا مقابلہ کیا دنیا کا بڑے سے بڑا کوئی شعبدہ باز کر سکتا ہے ؟۔ ضیا الحق گیارہ سال تک اسلامی نظام کے نام پر قوم سے جو بھونڈا مذ اق کرتے رہے ۔پھرو مشرف نو سال تک رشن خیالی کے جس جھولے پر قوم کو جھلا تے رہے، کیا اس کی نظیر
دنیا کے کسی مہذب ملک کی تاریخ میں ڈھونڈی جا سکتی ہے؟
قادری صاحب پر الزام یہ ہے کہ انہوں نے لاہور ائیر پورٹ پر جو ڈرامہ کیا اس سے پوری دنیا میں پاکستان کی جگ ہنسائی ہوئی ۔ لیکن نکتہ چین پچھلی پوری دہائی میں کوئی ایک ایسا واقعہ نکال کر دکھا سکتے ہیں جس سے پاکستان کا نام ساری دنیا میں بلند ہوا ہو؟آمریت، دہشت گردی ، بھوک ، بد عنوانی ، جبر، لا قانونیت اور قتل و غارت پوری دنیا میں لفظ پاکستان کے مترادفات بن چکے ہیں۔چند روز قبل کراچی ائیر پورٹ پر ہونے والا حملہ عالمی برادری میں پاکستان کی ناک کٹوانے میں جو کسر چھوڑ گیا تھاقادری صاحب نے اماراتی ایئر لائن کے جہاز کو پانچ گھنٹے یرغمال بنا کر وہ کسر پوری کر دی۔ پاکستانی قوم کا مجروح وقار ایسے پے در پے چرکوں سے اب نڈھا ل ہو کر جاں کنی کے عالم میں ہے اور کسی اصلی مسیحا کی تلاش میں بے چارہ جعلی مسیحائوں کی چاند ماری کامسلسل شکا ر ہو رہا ہے ۔ ایسے واقعات سے ملنے والے پیغام سے ہم کبوتر کی طرح آنکھیں پھیر لیں تو یہ اور بات ہے ورنہ دنیا نے اس سے واضح طور پریہ سمجھ لیا ہے کہ ایٹمی پاکستان کی اوقات بس یہی ہے کہ کوئی جنونی بھی اٹھ کر کسی لمحے اسے یر غمال بنا سکتا ہے ۔
اگر دنیا بھر میں اقتدار کی ہوس میں کچھ بھی کر گزرنے والے ’’ڈئیر ڈیولز‘ کی فہرست بنائی جائے تو پاکستانی جاہ پرست یقینا سب سے نمایاں ہوں گے ۔ دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں کے برعکس جہاں اقتدار ذمہ داریوں سے بھرا کانٹوں کا وہ راستہ ہے جس سے سب کتراتے ہیںپاکستان میں اقتدار کرپشن کرنے کا وہ جادوئی سرٹیفیکیٹ ہے جس کے حصول کے لیے اپنی جان اور ایمان تک فدا کر دینے والے سرِ راہ دکانیں سجائے بیٹھے ہیں ۔ ایسے آلودہ ماحول میں اگر قادری صاحب قسمت آزمانے نکلے ہیں اور اپنے سبز انقلاب کی رتھ پر سوار ہو کر اقتدار کی سنہری کرسی تک پہنچنے کے سفر میں کچھ ہواس باختتگیوں کے مرتکب ہو رہے ہیں تو یہ زیادہ حیرانی کی بات نہیں۔ ان کے پیش رو ڈئیر ڈیولز اس سے بڑے بڑے کارنامے سر انجام دے چکے ہیں۔
قادری صاحب کے غیر مرئی انقلاب کو زندگی بخشنے میں پنجاب حکومت کا پورا پورا ہاتھ ہے ۔ ماڈل ٹاؤن میں گولیاں چلوا کر حکومت نے قادری صاحب کی جماعت کو وہ لاشیں فراہم کر دی ہیں جن کے سر پر انقلاب کے باقی سفر کو طے کیا جائے گا۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن سے شروع ہونے والا حکومت کی بوکھلاہٹوں کا سفر ہر روز نت نئے گل کھلا کر انقلاب کے مردہ گھوڑے میں جان ڈال رہا ہے ۔
قادری صاحب کو اسلام آباد نہ اترنے دینے کا فیصلہ بدحواسیوں کے اسی سلسلے کی کڑی ہے۔اگر قادری صاحب اسلام آباد ائیر پورٹ سے اپنے فدائین کے جلو میں پوری تام جھام کے ساتھ لاہور چلے جاتے تو اس سے حکومت کی صحت پر یقینا کوئی اثر نہیں پڑنا تھا۔ آخر پچھلے سال جنوری میں قادری صاحب نے چار دن ہزاروں مریدین کے ساتھ اسلام آباد میں دھرنا دے کر پیپلز پارٹی کی حکومت کا کیا بگاڑ لیا تھا جو اب ان کے انقلابی مارچ سے کسی کو خطرہ ہوتا۔ لیکن ن لیگ کی حکومت اپنے احساسِ عدم تحفظ کے ہاتھوں خود ہی وہ گڑھے کھود رہی ہے جن سے بچ نکلنااس کے لیے مشکل ہوتا جائے گا۔
مانا کہ دودھ کے جلے ہوئے کو چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پینی چاہیے لیکن ن لیگ کی حکومت کو نادیدہ ہاتھوں کی سازشوں کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنے ہوش و حواس کو قائم رکھنا ہو گا۔ رسی کو سانپ سمجھ کر پیٹنے سے سوائے جگ ہنسائی کے اور کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ پچھلی تین دہائیوں سے اقتدار کے ایوانوں میں رہنے کے باوجود اگر ن لیگ مچھر کو توپ سے مارنے کو ہی سیاست سمجھتی ہے، توپھر اس جماعت کا اللہ ہی حافظ ہے۔
یوں لگ رہا ہے کہ کچھ حقیقی اور بہت سے غیر حقیقی خوفوں کا شکار مسلم لیگ ن کے اعصاب بہت تیزی سے شکستہ ہو رہے ہیں ۔نادیدہ ہاتھوں کی بچھائی گئی شطرنج کے پہلے مہرے کی چال پر ہی اگر ن لیگ کا پتہ پانی ہورہا ہے تو اس کے بعد آنے والے ڈئیر ڈیولز کا مقابلہ کون کرے گا؟ قادری صاحب کی انٹری تو صرف ٹریلر تھا اصل کہانی تو ابھی پردوں میں ہے!

ہفتہ، 21 جون، 2014

شمالی وزیرستان کے حرماں نصیب

شمالی وزیرستان سے بنوں جانے والا راستہ آج کل ان خانما ں بربادوں کی شکستہ دھول سے اٹا ہوا ہے جو ’’ ضربِ عضب ‘‘کی ضرب کا پہلا شکار ہوئے ہیں۔ناکردہ گناہوں کی سزا کا ٹنے والے ان بدنصیبوں کو حکومت نے اپنے گھر بار چھوڑ کر ان جانی منزلوں کی طرف جانے کے لیے صرف پانچ دن دیے۔ شمالی وزیرستان کے سات لاکھ مکینوں میں سے کچھ سر پھرے قبائل نے تو اپنی دھرتی کو چھوڑنے سے صاف انکار کر دیا ہے کہ شاید در بدری کاٹنے کی ان میں سکت نہیں،باقی مانندہ اب شب و روز محفوظ علاقوں کی طرف رواں دواں ہیں ۔جون کی چلچلاتی دھوپ میں کچھایسے بھی ہیں جو پیادہ پا ہی ان راستوں کی خاک چھان رہے ہیں کیونکہ ان کی عسرت گاڑیوں پر ہجرت کرنے کی عیاشی افورڈ نہیں کر سکتی ۔ کاش پاکستان سڑ سٹھ سالوں میں ان کو اتنا تو عطا کر دیتا کہ جب ان کی بستیوں کو بموں سے جلایا جانے لگے تو ان کی جیبوں میں اتنے پیسے تو ہوں کہ گاڑیوں پر ہجرت کر سکیں ۔ بے گھری کے کرب سے گزرتے ایک قبائلی نے درست کہا کہ حکومت اگر سنبھال نہیں سکتی تو ہم پر ایک ایٹم بم مار کر سارا قصہ ہی ختم کر دے۔

ایسا نہیں ہے کہ حکومت نے شمالی وزیرستان آپریشن کا فیصلہ کسی کولیشن سپورٹ فنڈکی رکی ہوئی ناہنجار قسط جاری کروانے کے لیے جلدی میں کیا ہوبلکہ اطلاعات کے مطابق یہ آپریش کئی سال سے حکومت کے زیرِ غور تھا اوراس نے تین محاذوں پر اس کی تیاری کی ہوئی تھی جس میں آپریشن کے ہدف گروہوں کو الگ کرنا، فوجی کاروائی کے لیے سیاسی حمایت حاصل کرنا اور شہروں کوآپریشن کے ممکنہ ردِعمل سے بچانے کے لیے اقدامات شامل ہیں۔ انتظامی سطح پر حکومت کے ان اقدامات کے ساتھ ساتھ ہماری فوج نے بھی اس کے لیے جامع عسکری منصوبہ بندی کر رکھی تھی ۔ غرض اس ہم آپریشن کی تمام جزئیات طے ہو چکی تھیں بس حکومت یہ طے کرنا بھول گئی کہ وہ سات لاکھ قبائلی جو اس بدقسمت سر زمین کے باسی ہیں جب گھروں سے نکالے جائیں گے تو کہاں جائیں گے۔ وہ جن کی کل کائنات کچے گھر اور دو چار مویشی ہیں جب اپنی زمین سے بے زمیں کیے جائیں گے تو کہاں کہاں کی ٹھوکریں کھائیں گے۔ اس چھوٹی سی بھول کی وجہ سے اب شمالی وزیرستان کے باسیوں کو چند چھوٹے چھوٹے مسائل کا سامنا ہے۔ ان کے سروں پر چھت نہیں، پیٹ میں کھانا نہیں اور کرنے کے لیے حکومت و طالبان کو کوسنے کے علاو ہ اور کوئی کام نہیں۔
 
المیہ یہ ہے کہ آپریشن کے لیے یک زبان ہو کر عرصہ دراز سے راگ الاپنے والی سیاسی جماعتیں اپنے اپنے صوبوں کے دروازے اس آپریشن کے متاثرین پر بند کر چکی ہیں۔اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں کے نغموں پر قوم کوتھر کانے والے لیڈر خود کو علاقائیت کے حصار میں بند کر کے شمالی وزیرستان کے حرماں نصیبوں کا بوجھ اٹھانے سے پوری ڈھٹائی کے ساتھ انکاری ہو چکے ہیں۔ پیپلز پارٹی جس کے نو آمو ز چئیر مین آپریشن کے اعلان پر ایک انہونی خوشی سے سر شار ہو کر دما دم مست قلندر کے نعرے لگا رہے تھے شمالی وزیرستان کے لٹے پٹے بے کسوں کو سندھ کی دھرتی پر قدم نہیں رکھنے دینا چاہتے۔

حیرت ہے کہ وہ سیاسی جماعتیں جو آپریشن کی سب سے بڑی حامی تھیں صرف آگ و بارود کو اپنانے پر مصر ہیں وزیرستان کے لٹے پٹے باسیوں کے لیے ان کے دلوں میں ہمدردی کی کوئی رمق نہیں۔بھلا ہوخیبر پختونخواہ کی حکمراں تحریکِ انصاف اور جماعتِ اسلامی کا جنہوں نے اپنے بازو آپریشن کے متاثرین کے لیے وا کر کے پاکستانی قوم کے جعلی اتحاد کا بھرم رکھ لیا۔ خیبر پختونخواہ پچھلے کئی سالوں سے قبائلی علاقوں کے آپریشنوں سے متاثر ہونے والے خانماں بربادوں کے لیے اپنے دل اور در وا کیے ہوئے ہے ۔آپریشن سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے اس صوبے کی حکومت کو آخری لمحے تک آپریشن کے فیصلے سے آگاہ کرنے کی زحمت نہیں کی گئی اور نہ ہی اسے کوئی خصوصی فنڈ جاری کیا گیا لیکن اب سارا بوجھ اسے ہی اٹھا نا ہے ۔وفا قی حکومت تحریک انصاف کو نیچا دکھانے کے لیے اس نادر موقعے کو بھی شاید ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہتی۔
 
دوسری طرف سارے جہاں کا درد رکھنے والی ہماری این جی اوز کے دلوں میں ابھی تک شمالی وزیرستان کے متاثرین کے لیے کوئی درد نہیں اٹھا۔ خیبر پختونخواہ حکومت میں شامل جماعتِ اسلامی کی الخدمت فاؤنڈیشن باقی این جی اوز کی بے حسی کا کفارا تن تنہا ادا کرنے کی کوشش کر رہی ہے لیکن لاکھوں متاثرین کا بوجھ خیبر پختونخواہ یا الخدمت فاؤنڈیشن کے بس کی بات نہیں ۔ شمالی وزیرستان آپریشن دو چار ہفتوں کا کھیل نہیں نہ جانے کب تک متاثرین کو اپنے ہی ملک میں مہاجر بننے کے عذاب سے گزرنا پڑے۔ شمالی وزیرستان کے باسیوں کا جرم یقینابہت بڑاہے کہ انہوں نے تین دہائیوں سے دہشت گردوں کو اپنے ہاں پناہ دے رکھی تھی۔ ان دہشت گردوں کو جو کبھی ہماری حکومت اور فوج کی آنکھوں کا تارا تھا۔ ہم نے امریکا کے کہنے پر جنہیں مجاہدکہا امریکا ہی کے اشارے پر انہیں دہشت گرد مان لیا۔ پسماندہ قبائلی ہماری طرح ہوا کے رخ کے ساتھ نہ چل سکے ا ورآج اسی لیے در بدر بھٹکتے پھر رہے ہیں۔ لیکن ہمیں ان کی سادہ لوحی کے سبب اب انہیں معاف کرنا ہو گا۔ اپنے دل اور دروازے ان کے لیے کھولنے ہوں گے ورنہ ہجرت کا ایک اور المیہ ہماری ناقابل فخرِ تاریخ میں رقم ہونے جا رہا ہے۔

جمعرات، 19 جون، 2014

نون لیگ کا نامعلوم فرد

لاہور میں عوامی تحریک کے سادہ لوح کارکنوں پر ٹوٹنی والی قیامت جہاں ایک طرف پنجاب حکومت کے مثالی نظامِ حکومت کا پول کھول گئی وہیں پنجاب پولیس کے شاہ سے زیادہ شاہ کا وفادار ہونے کا پردہ بھی فاش کر گئی۔ پچھلے کئی سالوں سے شہباز شریف گڈ گورننس کے نام پر سرکاری افسروں کی سر عام تذلیل کے جس راستے پر چل رہے تھے اس کا لا محالہ انجام یہی ہو نا تھا کہ افسر اپنی دھوتی بچانے کے لیے آئین و قانون سے ماورا ہر وہ کام کریں جس سے تختِ لاہور خوش ہو۔ اگرچہ ابھی اس امر کا تعین ہونا باقی ہے کہ عوامی تحریک کے نہتے کارکنوں پر پولیس افسروں نے گولی چلانے کا حکم محکمانہ ترقی کے خواب کو عملی جامہ پہنانے کے لیے خود کیا یا اس بھیانک سانحے کا منصوبہ کہیں اور تیار کیاگیا تھا تاہم گلو بٹ جیسے کرداروں کی موجودگی ان شکوک و شبہات کو تقویت دیتی ہے کہ اب تک اہنسا کے اصولوں پر بظاہر کاربند ن لیگ کی حکومت ضبط کا دامن چھوڑ بیٹھی ہے اورطا قت کے اس بے ڈھنگے مظاہرے سے اس نے کینیڈا میں بیٹھے امامِ انقلاب کو کوئی پیغام دینا چاہا ہے۔


بدقسمتی سے ہماری سیاسی جماعتیں ہمیشہ سے اچکوں، اٹھائی گیروں اور بدمعاشوں کے سہارے چلتی رہی ہیں ۔ وجوہات جو بھی ہوں اتنا واضح ہے کہ ہمارے لیڈروں اور ان دادہ گیروں کے درمیان کچھ ایسی صفات مشترک ہیں جو ان دونوں کو اٹوٹ رشتوں میں باندھے رکھتی ہیں۔ یہ لوگ جلسے جلوسوں میں زندہ باد مردہ باد کے نعرے لگاتے ہیں ، ہڑتالوں میں نامعلوم افراد بن کر توڑ پھوڑ کرتے اور املاک کو نقصان پہنچاتے ہیں ، گلی محلوں میں دھونس دھاندلی اور دنگا فساد کے ذریعے اپنے لیڈر کا رعب داب قائم رکھتے ہیں اور جب ضرورت پڑے مخالفین کا پتہ صاف کر کے اپنے لیڈر کی نظروں میں سر خرو ہوتے ہیں۔ ن لیگ کا نامعلوم فرد گلو بٹ اگرچہ الیکٹرانک میڈیا کے کیمروں کی برکت سے معلوم بن چکا ہے اور اس کو ’ گرفتار ‘ کر کے پولیس نے اس کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کر لی ہے لیکن لگتا یوں ہی ہے کہ حسبِ روایت باقی جماعتوں کے نامعلوم افراد کی طرح یہ بھی ناکافی ثبوتوں اور گواہوں کی عدم دستیابی کی وجہ سے باعزت بری ہو کر دوبارہ اپنی ڈیوٹی سنبھال لے گا۔ن لیگ جو ہمیشہ سے گولی اور گالی کی سیاست سے پاک ہونے کا دعویٰ کرتی تھی آج عین چوراہے میں اپنی پاکدامنی نیلام کر بیٹھی۔

بحر حال جو بھی ہو ن لیگ کا یہ نامعلوم فرد پولیس کی سر پرستی میں جس ’احساس ذمہ داری‘ سے اپنا فرض پورا کر رہا تھا اس سے صاف لگتا ہے کہ ن لیگ والے قادری کے انقلاب سے بظاہر جتنی بے اعتنائی برتیں ، خواجہ سعد رفیق قادری صاحب کو بہروپیا ، فراڈیااور منافق قرار دے کر ان کی اہمیت کو کم کرنے کی جتنی کوشش بھی کریں کہیں اندر ہی اندر یہ خوف ضرور موجود ہے کہ قادری انقلاب لائے نہ لائے ان کی حکومت کا دھڑن تختہ کر سکتا ہے ۔قادری صاحب اور ان کی بھولی بھالی جماعت کا قد کاٹھ یقیناًاتنا نہیں کہ ان سے حکومت کو اس طرح کا کوئی خوف ہو۔ اصل خوف ان خفیہ ہاتھوں سے ہے جو قادری صاحب کو کینیڈا کے ٹھنڈے ٹھارنخلستان سے اٹھا کر پاکستان کے تپتے ہو ئے ریگزار میں لا کھڑا کر رہے ہیں۔ ن لیگ کی حکومت تحریک انصافوں ، عوامی لیگوں اور عوامی تحریکوں کو خاطر میں لانے والی نہیں تھی لیکن برا ہو خفیہ ہاتھ کا جس نے ان انقلاب آوروں کے سر پردستِ شفقت رکھ کر ن لیگ کے بگ مینڈیٹ کا سار اکانفیڈنس خاک میں ملا دیا ہے۔

طاہر القادری کی سالانہ انقلاب یاترا ان کے دیرینہ خواب کے عین مطابق اس دفعہ خون سے رنگین ہے۔ یہ ان مظلوموں کے خون سے لت پت ہے جو اپنی آنکھوں پر بندھی انقلاب کی پٹی سے تلخ حقیقتوں کا ادراک نہ کر سکے۔ پچھلے سال بھی پیپلز پارٹی کے دور میں قادری صاحب اسلام آباد کے ڈی چوک کو کربلا بنانے کی آرزو رکھتے تھے اور کینٹینر میں کھڑے ہو کر اپنے خطبات میں انہوں نے کربلا کے واقعات کو نہایت گلو گیر انداز میں بیان کرنا بھی شروع کر دیا تھا لیکن وہ تو بھلا ہو حکومت کی بے عملی کا کہ قادری صاحب کو انقلاب کی خواہش سینے میں دبا کر واپس کینیڈا جانا پڑا۔ لیکن اس دفعہ حالات بدل چکے ہیں ۔ ن لیگ کی حکومت خفیہ ہاتھ کی چالوں سے پریشان ہو کر بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔ ۲۳ جون کو جب انقلاب اسلام آباد میں لینڈ کرے گا تو حکومت کو ہر فیصلہ سوچ سمجھ کر اور ہر قدم پھو نک پھونک کر رکھنا ہو گا ۔ بوکھلاہٹ میں کیے گئے فیصلے اور نادان مشیروں و نامعلوم افراد پر انحصار خودکشی کے برابر ہو گا۔ ن لیگ کو چو مکھی جنگ لڑنی ہے اور گلو بٹ بھی گرفتار ہو چکا ہے۔ اللہ خیر کرے۔

منگل، 17 جون، 2014

آپریشن فیور

پاکستانی قوم دنیا کی سب سے محبِ وطن قوم ہے ۔ یہ انکشاف ایک ایسے تازہ ترین سروے میں کیا گیا ہے جس میں لوگوں سے یہ پوچھا گیا کہ اگر ان کے ملک پہ مشکل وقت پڑا تو وہ اس کے لیے ہتھیار اٹھائیں گے یا نہیں۔ اپنے وطن کے لیے جان ہتھیلی اور ہتھیار کندھے پر رکھ کر لڑنے کا عزم کرنے والوں میں پاکستانی سر فہرست رہے جن میں سے ۸۸ فیصد نے ہاں میں جواب دیا ۔ باقی مانندہ بارہ فیصد نے اس اہم ملکی و ملی فریضے سے کیوں مونہہ موڑایہ ایک پریشان کن سوا ل ہے جس کی جزئیات میں نہ جانا ہی مناسب ہے ۔ قرین قیاس یہی ہے کہ ان کا تعلق غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں یا طالبان سے ہو گا۔ سروے کے نتائج نہایت چشم کشا ہیں اور ان کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ یہ ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب پاکستانی فوج شمالی وزیرستان میں ایک فیصلہ کن جنگ کا آغاز کر چکی ہے۔ اس اہم مرحلے پر سروے کے یہ نتائیج یقیناًایک ’غیبی امداد‘ ہیں اور ان سے معرکہ حق و باطل میں ڈوبے ہمارے فوجی جوانوں کو بھی یہ حوصلہ ملے گا کہ اگر کبھی ضرورت پڑی تو پوری قوم یا قوم کا ایک بڑا حصہ ہتھیار اٹھائے ان کے پیچھے کھڑا ہو گا۔ مشرقی پاکستان آپریشن سے پہلے بھی اگر ایسا ہی ایک سروے کر لیا جاتا تو ہمارے فوجی جوانوں کو حوصلہ ہوتا اور وہ ہتھیار نہ ڈالتے۔ بحرحال دیر آید درست آید۔
 
شمالی وزیرستان آپریشن نے جہاں ہمارے بہت سے قومی لیڈروں کی باچھوں کے طول و عرض میں اضافہ کر دیا ہے وہیں بہت سے لوگوں کو بھو نچکا ہونے پر مجبور بھی کر دیا ہے ۔ عمران خان جو آپریشن سے دو دن قبل تک اسے خود کشی قرار دے رہے تھے اب اچانک اس کی حمایت پر آمادہ تو ہو گئے ہیں لیکن انہیں حکوت سے پھر بھی یہ گلہ ہے کہ اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ عمران خان خوش قسمت ہیں کہ کم از کم وہ حکومت سے گلہ تو کر سکتے ہیں ورنہ کہنے والے تو یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ خود حکومت کو بھی اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ یہ بے چاری کس کے آگے اپنا رونا روئے۔

بحر حال سونامی کی طرح دھاڑتے عمران کو پچھلے ایک سال میں ہماری سیاست کے جوار بھاٹے کا یقیناًپتہ چل گیا ہے اس لیے وہ اب ’بروقت ‘ فیصلے کرنے لگے ہیں۔ اپنے دیرینہ موقف سے الٹے پھرنے کا بروقت فیصلہ اگر وہ نہ کرتے تو ان کی سیاست الٹ پھیر کا شکار ہو سکتی تھی جس سے یقیناًوہ بچنا چاہتے ہیں۔ جذباتی ہو نے کے باوجود عمران اب اتنا سمجھ گئے ہیں کہ حکومت کو کوسنا آسان ہے ’اصلی حکمرانوں ‘ پہ انگلی اٹھا ناآسان نہیں۔

آپریشن کے بین الاسطور میں تمام بڑے شہروں میں فوج کی تعیناتی پر شیخ رشید نے فرمایا ہے کہ ملک میں منی مارشل لا لگ چکا ہے ۔ بوٹ ہمارے اعصاب سے کبھی اترے ہی نہیں اس لیے لگ چکنے کی بات غلط ہے۔ شیخ صاحب کا ٹرین مارچ آپریشن کی وجہ سے پسِ پشت چلا گیا ہے جس کی وجہ سے وہ آپریشن کی ٹائمنگ پہ جز بز ہو رہے ہیں ۔ دوسری طرف کینیڈا سے انقلاب کی رتھ پر سوار طاہر القادری کو بھی اب اپنے انقلاب کو کچھ دنوں کے لیے کولڈ سٹوریج میں رکھنا پڑے گا ۔ آپریشن نے انقلابیوں کو جون کی گرمی میں خوار ہونے سے بچا لیا! عمران ، قادری اور شیخ رشید کی تکون کو فوج نے حکومت پر دباؤ ڈال کر آپریشن کے لیے آمادہ کرنے کے لیے استعمال کیا یا حکومت نے فوجی آپریشن کو ان تینوں کے فن فئیر سے ہوا نکالنے کے لیے استعمال کیا یہ سوال بڑا اہم ہے اور اس کا جواب آنے والے چند دن دیں گے۔

جنگی ترانے گاتی اور جوش آور رزمیوں پہ جھومتی ہماری قوم کو آپریشن مبارک ہو! اس آپریشن سے مرض ختم ہو گا یا بیماری بگڑ جائے گی ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا ۔ہماری دعا ہے جو بھی ہو مریض بچ جائے۔