بدھ، 22 اگست، 2012

توہینِ رسالت کا قانون اور دو انتہائیں

کیا توہینِ رسالت کی ہر نئی جسارت پر ہماری بے غیرت بریگیڈ کی اچھل کود کو روکنے کے لیے کسی ممتاز قادری کو کسی سلیمان تاثیر کے جسم میں ستائیس روشن دان کھولنا پڑیں گے؟ کیا قانون اور عدالتوں کے کسی فیصلے پر پہنچنے سے پہلے ہم اپنے فیصلے دینے کی اپنی احمقانہ روش کو کبھی ترک کر پائیں گے؟ پاکستان کے مرکز اسلام آباد میں توہینِ مذہب کے الزام میں گرفتار ہونے والی عیسائی لڑکی کے کیس نے پاکستانی معاشرے میں موجود دو انتہاؤں کو دوبارہ ہمارے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ ایک طرف مذہب کی اصل روح سے نابلد وہ انتہا پسند ہیں جو واقعے کی جزئیات کو پرکھے بغیر توہینِ رسالت کے قانون کے تحت گرفتار ہونے والے ہر ملزم کو مجرم سمجھتے ہیں اور جوشِ جنون میں یہ بنیادی نقطہ فراموش کر بیٹھتے ہیں کہ اسلام کسی بے گناہ کواذیت دینے یا اس کی جان لینے کو پوری انسانیت کے قتل کے مترادف سمجھتا ہے تو دوسری طرف مغرب زدہ احمقوں کا وہ غول ہے جو پاکستان کو مادر پدرآزادمغرب کی بے حیا عینک سے دیکھتے ہیں چناچہ توہینِ رسالت جیسے قوانین انہیں نہایت لغو لگتے ہیں اور وہ اس قانون کے تحت گرفتار ہونے والے ہر شخص کو نہ صرف بے گناہ سمجھتے ہیں بلکہ اسے ہیرو کا درجہ دیتے ہیں۔ہمارا مظلوم معاشرہ انہی دو جنونی گروہوں کے جاہلانہ خبط کا شکار ہے ۔

جب بھی توہین رسالت یا توہینِ مذہب کے تحت کسی کے خلاف الزام عائد کیا جاتا ہے تو تین ممکنات ہو سکتے ہیں۔پہلا یہ کہ ملزم نے واقعتا توہین کا ارتکاب کیا ہے چاہے کسی بہکاوے میں آکریہ قبیح حرکت کی ہو یا کسی ذاتی بغض نے اسے اس کام پر ابھارا ہو۔ دوسرا یہ کہ الزام عائد کرنے والے شخص کو غلط فہمی ہوئی ہو اور اس نے ملزم کی کسی غیر شعوری حرکت کی غلط تعبیر کی ہو اور تیسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ الزام عائد کرنے والا کسی ذاتی عناد ، ماضی کی کسی عداوت یا مذہبی و فرقہ وارانہ بغض کا مظاہرہ کر رہا ہو اور مذہب کی آڑ لے کر اپنا کوئی حساب برابر کرنا چاہتا ہو۔ اس حقیقت کا تعین کرنا کہ ملزم نے واقع ارتکابِ توہین کیا ہے یا اسے کسی سازش کے تحت پھنسایا جا رہا ہے نہ مذہبی جنونیوں کا کام ہے نہ ہی مغرب زدہ احمقوں کی ذمہ داری۔پولیس اور عدالتوں کی موجودگی میں یہ کام اپنے ذمے لے کر یہ دونوں طبقے خود کو عقلِ کل اور منصفِ کامل ثابت کرنے کی جو کوشش کرتے رہے ہیں اس نے ہمارے بٹے ہوئے معاشرے کو مزید انتشار زدہ کرنے میں نمایاں کردار اد کیا ہے۔

اس امر سے انکار کرنا انتہا درجے کی سادگی یا حماقت ہو گی کہ ہمارا قانون انتہائی کمزور اور ناقص ہے یہ طاقتور کے لیے کھلونے اور کمزور کے لیے کسی شکنجے کی طرح ہے۔اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ پاکستان جیسے ملک میں اس کے کمزور اور پیچیدہ قانون کو اکثر ذاتی مخاصمتیں مٹانے کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے اور خود قانون کے نام نہاد رکھوالے زیادہ تر اس گھناؤ نے کھیل کا حصہ ہوتے ہیں لیکن ہر دفعہ خاص توہینِ رسالت کے قانون کے مبینہ سقم کے خلاف بے غیرت بریگیڈ کی طرف سے اٹھنے والا طوفان جس میں ان کے مربی مغربی آقاؤں کی غراہٹیں بھی شامل ہوتی ہیں پاکستان کے عام لوگوں کے لیے ہمیشہ ایک سوالیہ نشان چھوڑ جاتا ہے۔مذہبی اور لبرل انتہا پسندی سے دور ایک عام پاکستانی کے لیے ہمیشہ سے یہ سوال نہایت اہم ہے کہ مغرب کے ٹکڑوں پر پلنے والی ہماری این۔ جی ۔اوز کے پیٹ میں صرف اسی وقت مروڑ کیوں اٹھتے ہیں جب معاملہ ناموسِ رسالت کے قانون کا ہو۔ قتل کے جھوٹے مقدموں میں ٹھوکریں کھاتے مظلوموں کے لیے ان کے پاس ہمدردی کا کوئی بول نہیں ، ناکردہ گناہوں کی سولی پر لٹکتے ہزاروں بے کسوں کے لیے ان کے دل میں کوئی درد نہیں اٹھتا ہاں جب بات ان کے آقاؤں کے ہم مذہب کسی توہینِ رسالت کے ملزم کی ہو تو ان کے مردہ دہن پٹر پٹر بولتے ہیں اور یہ رٹے رٹائیسبق پوری وفاداری اور جانبازی کے ساتھ دہراتی چلی جاتی ہیں اور اپنے خبط میں یہ حقیقت فراموش کر دیتی ہیں کہ توہینِ رسالت کے قانون کے خلاف ان کا سارا واویلا اور بیہودہ گوئی ان کے پسندیدہ ملزم کوفائدہ پہنچانے کی بجائے نقصان پہنچا رہا ہے۔ چناچہ توہینِ رسالت جس کی سزا موت ہے آج تک اس قانون کے تحت تو کسی ملزم کو موت کی سزا پاکستان کی کسی عدالت نے نہیں سنائی ہاں عام لوگوں نے اکثر توہین رسالت کے ان ملزموں کو جن کے حق میں ان مغرب زدہ احمقوں نے مسلسل پروپیگنڈہ کیا خود سزا دی۔

وہ مذہبی جنونی جن میں سے زیادہ تر کا مذہب سے بس روایتی سا رشتہ ہوتا ہے اور وہ عام لوگ جو بھیڑ بکریوں کی طرح ریوڑ کے ساتھ دوڑنے کا وطیرہ رکھتے ہیں توہینِ رسالت کے ہر الزام پہ سیخ پا ہو کر مبینہ ملزم کی جان کے درپے ہوجاتے ہیں اوریہ بھول جاتے ہیں کہ مذہب کا دفاع کرنے اور ناموس رسالت کا تحفظ کرنے کے لیے ان کے مذہب نے کون سا راستہ بتایاہے۔ناموسِ رسالت پر کٹ مرنے کی تمنا رکھنے والے سچے عاشقانِ محمد ﷺ یقیناًاس بنیادی نقظے کو کبھی نہیں بھول سکتے کہ کسی بے گناہ کو کسی بد طینت کے لگائے گئے الزام کی بنیاد پر نشانہ بنا کر وہ کبھی بھی اپنے آقا ؐ کی نظروں میں بلند نہیں ہو سکتے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں زبانی جمع خرچ سے کام لینے والے نبی ؐ کے ایسے مصنوعی عاشقوں کی بہتات ہے جو مذہبی عبادات کی ریاضتوں سے دور بھاگتے ہیں اور ایسے موقعوں کو جب کسی پر توہینِ رسالت کا الزام لگے اپنی عمر بھر کی سیاہیاں دھونے کے لیے غنیمت سمجھتے ہیں۔چناچہ یہ گروہ ملزم کو گھیرنے ، زدو کوب کرنے، مارنے،جلانے جیسے افعال کو اپنے عمر بھر کے گناہوں کا کفارہ سمجھتا ہے اور ایسے لرزہ خیزافعال سر انجام دے کر خود کو جنت کا حقدار سمجھتا ہے۔

مغرب زدہ احمقوں کے سوا ہر ہوش مند پاکستانی توہینِ رسالت کے قانون کی ضرورت و افادیت سے آگاہ ہے اور یہ جانتا ہے کہ یہ قانون در اصل پاکستانی معاشرے کی مذہب سے وابستگی اور اپنے نبی ؐ سے محبت کا اظہار ہے۔ اس گئے گزرے دور میں بھی پاکستان کا کوئی ادنی سیاہ کار مسلمان بھی اپنے نبیؐ کی شان میں ہونے والی ذرہ برابر گستاخی کو برداشت نہیں کر سکتا ۔ اس لیے ہماری مس این۔جی ۔او کی یہ کوشش نہایت بھونڈی ہے کہ توہینِ رسالت کے قانون کو ختم کرنے سے پاکستانی مسلمان گستاخانِ رسول ؐ کوچھوڑ دیں گے۔یہ قانون دراصل انارکی کی راہ میں ایک بند کی حیثیت رکھتا ہے اور اس کی عدم موجودگی میں ہر شخص خود توہین کے مرتکب افراد کو سزا دینے کے راستے پر چل پڑے گا جس سے معاشرہ بد نظمی کا شکار ہو گا۔ اس لیے اس قانون کو ختم کرنے کی مغرب اور اس کے ٹکڑوں پر دم اور زبان ہلانے والی ہماری این ۔ جی ۔اوز کی دیرینہ خواہش تو کبھی پوری نہیں ہو سکتی کیوں کہ پاکستان کا کوئی حکمران بھی اس حماقت کا ارتکاب کرنے کی جراء ت نہیں کر سکتا۔ہاں اس قانون میں موجود خامیوں کو دور کرنے کے لیے مزید قانون سازی کی جاسکتی ہے کیوں کہ انسانوں کا بنا یا ہو ا کوئی بھی قانون حرفِ آخر نہیں ہوتا اور اس میں ہمیشہ بہتری کی گنجائش موجود ہوتی ہے۔توہینِ رسالت کے تحت درج کروائے جانے والے بہت سے الزامات میں یہ اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ اس قانون کو ذاتی عداوتوں یا فرقہ وارانہ رنجشوں کو مٹانے کے لیے بعض بد بخت افراد کی طرف سے ایک ہتھیا ر کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ کوئی ایسا قانون بنا یا جا سکتا ہے جس کے تحت ان افراد کے خلاف جو کسی بے گناہ شخص کے خلاف کسی سازش کے تحت توہینِ رسالت کا الزام عائد کریں مقدمہ چلایا جائے اور انہیں سخت سے سخت سزا دی جائے کیوں کہ کوئی بھی ایسا سیہ کار جو نبی ؐ کی حرمت کے تحفظ کے لیے بنائے جانے والے قانون کو اپنی ذاتی مخاصمتیں مٹانے کے لیے استعمال کرتا ہے نبی کریم ؐ کا سب سے بڑا گستا خ ہے اس لیے کسی ہمدردی اور رعایت کا مستحق نہیں۔

توہینِ رسالت کے قانون کے خلاف واویلا کرنے والے مغرب کے کٹھ پتلے چند بنیادی امور کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اول یہ کہ مذہب بیزار اور ہوس پرست مغرب اورروایت پسند مسلمان معاشروں کے نقطعہ نظر میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ مغرب جو حضرت عیسیٰ ؑ کا تمسخر اڑانے کو اظہارِ رائے کی آزادی اور ان کے مجسمے پر (نعوذ باللہ) پیشاب کر کے اس قبیح عمل کی تصویر کشی کو آرٹ کا شاہکار سمجھتا ہے کبھی بھی مسلمانوں کے دل و دماغ میں محمد ؐ عربی کے لیے پائی جانے والی محبت کو نہیں سمجھ سکتا ۔مغرب اپنی بیہودہ گوئی نما آزدی کا جو درس اپنی این۔ جی ۔اوز کے ذریعے مسلمان معاشروں کو سکھانا چاہتا ہے وہ اس میں کبھی کامیا ب نہیں ہو سکتا کیوں کہ مغرب مغرب ہے اور مشرق مشرق ان دونوں کی سوچ کبھی ایک جیسی نہیں ہوسکتی۔ ضرورت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ہماری بے غیرت بریگیڈ آنکھوں پر بندھی ڈالروں کی پٹی کو ہٹاکر اور دل و دماغ پر چھائے بد بختی کے بادل سرکا کر اس معاملے کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے اپنے مغربی آقاؤں سے کم از کم اس مسئلے میں ان کا ساتھ دینے سے معذرت کر لے۔ ڈالر بٹورنے کے دستیاب سینکڑوں طریقہ ہائے واردات پر مہارت ہونے کے باوجود اس معاملے میں بھی مغرب کی زبان بول کر سوائے شرمناک ناکامی اور ازلی رسوائی کے اسے اور کچھ حاصل نہیں ہوگا

بدھ، 1 اگست، 2012

چار شیطان


یہ بات ہضم کرنا کچھ لوگوں کے لیے شاید آسان نہ ہو کہ پاکستان کے شرمناک زوال کابنیادی سبب چار شیطان ہیں! روزِ اول سے پاکستان کے درودیوار پران   چا رمکروہ شیطانوں کا سایہ ہے ۔ان کا بھیانک آسیبی اثر اس مظلوم دیس کی رگوں سے زندگی کے رس کو قطرہ قطرہ چوس رہا ہے اور ہم بے حسی و بے بسی کی تصویر بنے اس شیطانی کھیل کو گھناؤنا تر ہوتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔بظاہر اب یہ حسرتِ نا آسودہ ہی لگتی ہے کہ اس دیس کی پاک فضائیں ان چار شیطانوں کی نجاست سے کبھی پاک ہو پائیں ! مستقبل قریب میں ایسا ہونااس لیے ممکن نظر نہیں آتا کہ یہ شیطان مکرو فریب کے وہ جال پھیلائے بیٹھے ہیں جن سے بچ کر نکلنا اس سادہ لوح مٹی کے باسیوں کے لیے شاید ممکن نہ ہو۔بحرحال ان شیطانوں کا جاننا اس لیے ضروری ہے کہ شاید کبھی ہمیں کوئی ایسا ’کامل عامل‘ مل جائے جو ان کے پرفریب جال چاک کر کے اس سرزمین کو اصلی آزادی کی لذت سے روشناس کر سکے۔
خاکی وردی والا شیطان۔  توپ و تفنگ سے لیس یہ شیطان سب سے طاقتور اور سب سے مکار ہے۔ دشمن کے سامنے بھیگی بلی بن جانے اور اپنوں پہ غرانے کے فن میں اسے کمال حاصل ہے ۔ دشمن سے پے در پے شکست کھانے اور اپنے ملک کوبار بار فتح کرنے کا اسے وسیع تجربہ ہے۔ ملک کی سرحدوں کا دفاع اس کا آزمودہ نعرہ ہے اور ملکی سلامتی اور خودمختاری کاتحفظ اس کا وردِ خاص ہے۔ سرحدوں کا تعین یہ خود کرتا ہے چناچہ فضائی حدود میں ہونے والی ڈرونی در اندازیوں سے اس کے ماتھے پر کوئی شکن نہیں پڑتی ۔ کبھی سرحدوں کو کھینچ کر ایبٹ آباد سے پرے لے جاتا ہے تاکہ اس کے آقا بغیر حیل و حجت کے پاکستان کی عزت کو پامال کر سکیں۔کرائے کے کسی حریص قاتل کی طرح صرف پیسے پر نظر رکھتا ہے جو اس کی قیمت دے سکے اس کا پالتو غلام بن کر بڑی تندہی سے دم ہلاتا ہے اور ہر وہ کام کرتا ہے جو اس کا آقا چاہے۔ رزمِ حق و باطل میں اپنا مفاد دیکھ کر کودتا ہے لیکن یہ کمال اسے حاصل ہے کہ چاہے اپنوں کا قتلِ عام کرے یا غیروں کو مارے یہ ہمیشہ حق پہ ہوتا ہے اس لیے شہادت اور جنت کو اپنی جاگیر سمجھتا ہے۔اقتدار کی کرسی پر ہمیشہ اس کی نظر ہوتی ہے اوراسے دیکھ دیکھ اس کثرت سے رال ٹپکاتاہے کہ مجنوں لگنے لگتا ہے۔اقتدار حاصل کرنے کے لیے ہرراستہ اختیار کرتا ہے چناچہ اس مقصدِ دلپذیر کے لیے اپنے دیس کے لوگوں کو اغوا کرنے ان کا غیر ملکی آقاؤں سے سودا کرکے اپنے اقتدار کی دوامی سند حاصل کرنا اس کا محبوب طریقہ واردات ہے۔کبھی پھولوں کے ہار اسے پہنائے جاتے ہیں کبھی گالیوں سے اس کی تواضع کی جاتی ہے لیکن اس کی صحت پے نہ پھولوں کے ہار اثر ڈالتے ہیں نہ گالیوں کی مار اسے متاثر کرتی ہے۔ کچھ لو گ اسے عقل سے عاری سمجھتے ہیں لیکن مال و متاع اکھٹا کرنے کے لیے کی جانے والی اس کی عیاریوں پر نظر ڈالی جائی تو اس غلط فہمی کا ازالہ ہو جاتا ہے ہاں جنگ لڑتے ہوئے دماغ کا ستعمال نہیں کرتا اس لیے ہمیشہ منہ کی کھاتا ہے اپنے دیس کو فتح کرتے ہوئے اس کا دماغ خوب چلتا ہے اس لیے ہمیشہ کامیاب رہتا ہے۔

لغو گوشیطان۔   اسے سیاسی شیطان بھی کہا جاتا ہے۔ جھوٹ بولنا اس کی فطرتِ ثانیہ ہے۔ عوام کو بے وقوف بنانے کے فن میں یہ مہارتِ تامہ رکھتا ہے۔ نسل در نسل جھوٹ بول بول کر اس کی رگوں میں خون کی بجائے کذب دوڑتا ہے۔اس کے اب و جدیا تو انگریزوں کے کتوں سے محبوبانہ سلوک کرنے کی وجہ سے بڑی لمبی چوڑی جاگیروں سے نوازے گئے تھے یا کرپشن کے جوہڑ میں بے حیا ہو کر کودنے کے سبب انہوں نے خوب مال و متاع اکھٹا کیا چناچہ یہ اسی دولت کے بل بوتے پہ سیاست کو غلاظت میں بدلنے کے اپنے مشن میں ہمہ وقت مصروف رہتا ہے۔ چونکہ خود عقل و خرد کے جملہ’ عیوب‘ سے پاک ہوتا ہے اس لیے ٹائی زدہ بیوروکریسی کے بل بوتے پہ چلتا ہے۔سیاست کرنا اس کا مشغلہ بھی ہے اور مجبوری بھی کیونکہ خباثت نما سیاست کرنے کے علاوہ یہ اور کوئی کام نہیں کر سکتا۔ عموماًاس کا آئی ۔کیو لیول فرزانگی و دیوانگی کی درمیانی سرحدکے آس پاس ہوتا ہے اس لیے جو فیصلہ کرتا ہے غلط کرتا ہے ۔اپنے تئیں ملک کے تمام مسائل کا حل اس کے پاس ہوتا ہے لیکن یہ حل کسی کو بتاتا نہیں اور یہ خاندانی نسخہ قبر میں اپنے ساتھ لے کے چلا جاتا ہے۔دولت اکھٹی کرنے کی ہوس اس کو کسی پل چین نہیں لینے دیتی چناچہ اس کا شکمِ دوزخ ہر وقت ہل من مزید کا راگ الاپتا رہتا ہے۔ملک کا بیڑہ غرق کرنے میں اس شیطان کا بڑا اہم ہاتھ ہے اس لیے باقی شیطانوں کی نسبت سب سے زیادہ لعنتیں بھی اسی کے حصے میں آتی ہیں۔

۔کالے کو ٹ والا شیطان۔       قانون کا رکھوالا ہونے کا دعویدار یہ شیطان سب سے زیادہ نجس ہے کہ اس کے پاس ہر غیرقانونی فعل کی قانونی دلیل موجود ہوتی ہے۔اس نے قانون کو مکڑی کا وہ جالا بنا دیا ہے جس میں پھنس کر ہر کمزور جان کی بازی ہار جاتا ہے اور ہر طاقت ور اس جالے کو توڑتا ہوا نکل جاتا ہے۔چاہے یہ انصاف کی وکالت کر رہا ہو یا منصف کی مسند پر براجمان ہو ہر دو صورتوں میں جھوٹ اس کا وطیرہ ہوتا ہے ۔ پیسہ اس کا ملجا وماوا ہے جس کے لیے شیطانیت کا ہر ہتھکنڈہ استعمال کرتا ہے۔ ڈٹ کر کرپشن کرتا ہے لیکن کسی کو خودپہ انگلی نہیں اٹھانے دیتا۔ خاکی وردی والے شیطان کو حکومتی قبضے کو جائز بنانے کے گر یہ شیطان ہی بتاتا ہے۔ پہلے لوگ اس کے پیدا ہونے پہ بڑے شیطان کے خوش ہونے کے شعر پڑھا کرتے تھے لیکن جب سے خاکی وردی والے سابقہ مخبو ط الحواس شیطان کو اس نے بھگایا ہے ملک میں اس کی بڑی واہ واہ ہو رہی ہے اور ایسا لگ رہا ہے جیسے اس نے گنگا نہا کر خود کو تمام گناہوں سے پوتر کر لیا ہو۔

۔کاغذی شیطان۔ اس بڑبولے کو مائیک والا شیطان یا قلمی شیطان بھی کہا جاتا ہے۔ پہلے صر ف اخبارات کے صفحوں کو اپنی گندہ دہنی سے آلودہکیا کرتا تھالیکن آج کل ٹیلی ویژن کی سکرین پہ بھی اپنی جہالت کے مظاہرے کر رہا ہوتا ہے۔ بہت بولتا ہے اس لیے فضول بولتا ہے۔خود کو ملک و ملت کا سب سے بڑا خیر خواہ سمجھتا ہے اس لیے ہر معاملے میں اپنی رائے چھوڑتا رہتا ہے جو اکثر نہایت لغو ہوتی ہے۔ سیاسی شیطان سے اس کی گاڑھی چھنتی ہے کیونکہ اسی کی نوازشوں سے اس کا خرچا چلتا ہے۔ دانش مندی کے میدان میں اس کی حالت مندی ہوتی ہے لیکن خود کو ارسطو و افلاطون ایسے اساتذہ سے کسی طرح کم نہیں سمجھتا ۔ گرگٹ اور اس میں ایک گونہ مشابہت پائی جاتی ہے کہ ہر حکومت گرتے ہی یہ بھی اپنا چولا بدل لیتا ہے۔ جہا ں سے مال ملتا رہے وہاں اسے سب ہرا ہی ہرا نظر آتا ہے جہاں سے بندش ہو جائے اس کوچے کا شیر بھی اسے کتا نظر آنے لگتا ہے۔ مفاد پرستی اور مطلب براری کے فن میں اس کا کوئی ثانی نہیں۔تعریفوں کے پل اور تضحیک کے دفترہر وقت اس کے پاس ریڈی میڈ پڑے ہوتے ہیں جہاں مکھن کی ضرورت ہو مکھن لگاتا ہے جہاں تیل چھڑکنا ہو وہاں تیل چھڑکتا ہے اس لیے ہمیشہ کامیاب رہتا ہے۔ چہرے پر پھٹکار خدا کی مار ہر وقت پڑی رہتی ہے اس لیے دور سے پہچانا جاتا ہے۔