بدھ، 24 فروری، 2010

اب ہمیں لطیفے بھی سنانے ہیں

ہمیں حیرت ہے کہ امریکا بہادر ہمارے ناتواں کندھوں پر ذمہ داریوں کے اور کتنے بوجھ لادے گا ۔ ہماری کمر ابھی فرنٹ لائن اتحادی ہونے کے بوجھ سے ہی سیدھی نہیں ہوئی تھی کہ اب امریکا نے ہمارے ذمے اپنے پالیسی سازوں کو ہنسنے ہنسانے کا جانگسل کام بھی لگا دیا ہے۔

 چناچہ اگلے روز ہمارے وزیرِ خارجہ صاحب نے نہایت سنجیدگی سے یہ انکشاف کیا کہ پاکستانی حکومت نے سوات اور قبائلی علاقوں میں کیے جانے والے آپریشن کسی کی ڈکٹیشن پرشروع نہیں کیے بلکہ یہ اس کاذاتی فیصلہ تھا اور یہ کہ اگر شمالی وزیرستان میں کوئی آپریشن شروع کیا جاتا ہے تو اس کا سارا کریڈٹ بھی اان کی گورئنمنٹ کو ہی جائے گا ۔ ہمیں اپنے وزیر صاحب کے اس بیان پرپورا یقین ہے اورہم یہ بھی جانتے ہیں کہ 16 دسمبر 1971ء کو ریس کورس گراؤنڈڈھاکہ میں اختتام پذیر ہونے والے گرینڈ آپریشن سے لے کر جنوبی وزیرستان تک ہماری پیاری حکومتوں اور بہادر فوج نے سارے کارنامے وسیع تر ملکی مفاد کے لیے خود ہی سر انجام دیے ہیں اور جو لوگ ان میں کوئی بیرونی ہاتھ تلاش کرتے ہیں وہ یقیناًرا اور موساد کے نمک خوار ہیں۔ وزیر صاحب کے اس بیان پر جہاں ہم سر دھن رہے ہیں وہیں ہمیں لگتاہے کہ جملہ امریکی منصوبہ ساز زیرِلب خنداں ہوں گے اور ان میں سے جن کے ہاتھ میں جادو کی ان ڈوریوں کے سرے ہیں جنہیں ہلا کر وہ ہر کام جھٹ پٹ کروا لیتے ہیں وہ تو یقیناً ہنسی سے لوٹ پوٹ رہے ہوں گے اور ایک دوسرے کے ہاتھ پر ہاتھ مار کر کہ رہے ہوں گے ’لو کر لو گل‘۔ببہر حال اس دلچسپ بیان سے ہمارے وزیر صاحب نے یہ تو بخوبی ثابت کر دیا ہے کہ ہم رزم ہی کے مردِ میدان نہیں بزم میں بھی ہررنگ کے شگوفے کھلا سکتے ہیں۔

اتوار، 14 فروری، 2010

پر تین حرفNRO

این -آر-او پر تین حرف بھیجنے والے سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلے نے جہاں عوام کو یہ امید افزاء پیغام دیا ہے کہ پاکستان کی عدالتیں نظریہ ضرورت کے منحوس آسیبی چکر سے نکل کرآزادانہ اپنے فیصلے کرنے کا اپنا حق حاصل کر چکی ہیں وہیں اس اہم فیصلے نے ان چند لوگوں کے چہروں پر پڑے ملمعے بھی اتار دیئے ہیں جو اب تک کسی ذاتی مفادو کی تار سے بندھے آزاد عدلیہ کے نعرے لگاتے تھکتے نہ تھے۔ اس فیصلے نے جہاں کرپٹ اور اور غیر کرپٹ عناصر کے درمیان حدِ فاصل کھینچ دی ہے وہیں اس نے پھسپھسے حیلے بہانوں اور لولی لنگڑی دلیلوں سے کرپشن کا دفاع کرنے والے مکروہ چہروں سے بھی نقاب اتار کے رکھ دیا ہے ۔
 چناچہ پاکستانی عوام آجکل رنگا نگ کے رونے سن رہے ہیں ۔ کسی انسانی حقوقکی ٹھیکیدارکے لیے اسلام کا ذکر سوہانِ روح بنا ہوا ہے تو کسی وکیل صاحب کی زندگی کا مقصد صدر صاحب کا استشناثابت کرنا ٹھہرا ہے۔طرح طرح کی ان بولیوں کی آوازیں اور سر جدا جدا ہیں پر ان کا مقصد ایک ہی ہے کہ کسی طرح ان بے چاروں کو سزاسے بچایا جائے جو پچھلی کئی د ہائیوں سے کرپشن کے جو ہڑ میں بلا خوف وخطر اٹھکیلیاں کر رہے تھے اور اس نئی عدلیہ نے آکر جن کے رنگ میں بھنگ ڈال دیا ہے۔ہمیں امید ہے کہ ہماری ہر دم بیدار عدلیہ نہ صر ف ان بے چاروں کو ان کے منطقی انجام تک پہنچائے گی بلکہ پاکستان کے قانون اور آئین سے مسخریاں کرنے والے اس جوکر کو بھی انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا جو پاکستانی عوام کے ساتھ نو سال تک رنگ برنگے ڈرامے رچاکر اپنے دورِسیاہ کو طول دیتا رہا۔ حق وانصاف کا تقاضا بھی یہی ہے کہ جہاں کرپشن کرنے والوں کوانکے کیے کیسزا دی جائے وہیں کرپشن کو تحفظ دینے والے کا بھی گریبان پکڑا جائے۔ظالم کو پکڑلینا اورظلم کی سر پرستی کرنے والے اور اس کو تحفظ دینے والے کو نظر اندازکر دینا یقیناًایک مستحسن قدم نہیں قرار دیا جا سکتا۔ ہماری نئی عدلیہ نے جس جراء ت کے ساتھ پچھلے کچھ عرصے میں چند نہایت اہم فیصلے کرکے سمجھوتوں اور پسپائیوں سے لبریز عدلیہ کی تاریخ میں عزیمت اور بے باکی کے ایکنئے باب کا اضافہ کیا ہے ہم امید کرتے ہیں کہ پاکستان کی تاریخ کے بیہودہ ترین آمر کا احتساب کرکے ہماری عدلیہ یہپیغام بھی مستقبل کے پرویزوں تک پہنچائے گی کہ آئین اور قانون سے کوئی ماورا نہیں چاہے کسی نے خاکی وردی اوڑھ رکھی ہو یا سیاہ شیروانی سے اپنے آپ کو ڈھانپ رکھا ہو۔پاکستانی عوام شدت سے اس روزِ سعید کے منتظر ہیں جب مشرف کو نہایت عزت و احترام سے اس کے موجودہ بل سے نکال کرواپس اس ملک لایا جائے گا جس کی تقدیر کے ساتھ وہ نو سال تک مسخریاں کرتا رہا اور اسے اس کے جملہ کارناموں کا ٹھیک ٹھیک صلہ دیا جائے گا۔

جمعہ، 12 فروری، 2010

سارا فساد میڈیا کا ہے

حالات کی بلاکم و کاست ٹھیک ٹھیک تصویر کشی کرنامیڈیاکا بنیادی فرض ہے جس کو پورا کرنے میں بدقسمتی سے ہمارا میڈیا بری طرح ناکام رہا ہے۔ اس ناکامی کا ایک مظاہرہ اگلے دن اس وقت سامنے آیا جب میڈیا نے ہماری عوامی حکومت کے خلاف نہایت شر انگیز انداز میں یہ رپورٹ سامنے لائی کہ زندگی پچھلے دو سالوں میں عام آدمی کے لیے پچاس فیصد مہنگی ہو گئی ہے ۔

 فروری 2008 سے جنوری 2010 تک کا احاطہ کرتی اس رپورٹ میں نہایت گمراہ کن انداز میں مختلف اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کا موازنہ کرنے کے بعد یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ بعض اشیائے صرف کا اڑھائی سو سے تین سو فیصد تک مہنگا ہونا ہماری عوامی حکومت کی ناکامی ہے ۔ ہماری خیال میں یہ ایک متوازن رپورٹ نہیں ہے کیونکہ اس میں ہماری عوامی حکومت کو خواہ مخواہ تنقید کا نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے ۔ ہماری حکومت جس طرح دن رات عوام کی خدمت میں لنگوٹی کس کر لگی ہوئی ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ تسلیم کہ پچھلے دو سالوں میں بعض ناگزیر وجوہات کی بنا پر زندگی گزارنا پچاس فیصدمہنگا ہو گیا لیکن اس کے تکملے کے طور پر موت کو سو فی صد سستا کرنا بھی تو ہماری اسی حکومت کا کارنامہ ہے ۔ چناچہ اب مرنے کے لیے پاکستانیوں کو کوئی جوکھم اٹھانے کی ضرورت نہیں۔ وزیرستان کے پہاڑوں سے لے کر کراچی کی سڑکوں تک موت جابجا ارزاں کر کے ہماری حکومت نے مہنگائی تلے پستے عوام کو کم از کم یہ سہولت تو مہیا کی ہے کہ اگر وہ آسانی سے جی نہ سکیں تو سہولت کے ساتھ مر تو سکیں۔ہمیں جہاں حکومت کی خامیوں پرنہایت ادب کے ساتھ تنقید کرنی چاہیے وہیں ا س کے کارناموں پر داد کے ڈونگرے بھی برسانا ہماری ذمہ داری ہے ۔

بدھ، 10 فروری، 2010

بھونڈ حملے

راست گوئی میں رسوائی کا کٹھکا تو لگا ہی رہتا ہے لیکن کا ر زارِ سیاست میں سچ گوئی کا پھل کبھی کبھی گالیوں اورجوتوں کی صورت میں بھی کھانا پڑتا ہے اس لیے ہمارے سیاست دان عموماًسچ بولنے سے احتراز برتتے ہیں اورعوام کو جھوٹ کی میٹھی گولیاں کھلا کر اپنی دھوتی صاف بچا لے جاتے ہیں ۔ اس عمومی روایت سے البتہ چندایسے سیاست دان مستشنیٰ ہیں جو ہر حال میں حق گوئی اور بے باکی کا دامن تھامے راستی از فتنہ انگیز کو دروغ ازمصلحت آمیز پر ترجیح دیتے ہیں

 اور اپنی اسی صاف گوئی کے جرم میں اکثر مخالفین کے ٹھٹھول کا نشانہ بنتے ہیں۔ ہمارے وزیرِ دفاع صاحب کا شمار بھی ایسے ہی نابغہ روزگاروں میں ہوتا ہے جوسچائی کو مصلحت کے پردوں میں چھپانے کے قائل نہیں۔اگلے روز انہوں نے یہ تسلیم کر کے کہ پاکستان ڈرون حملوں کو نہیں روک سکتا پاکستان کے ناقابلِ تسخیر دفاع پر کماحقہ روشنی ڈالی ۔ مخالفین چاہے کتنے بھی چیں بہ جبیں ہوتے رہیں حقیقت یہی ہے جو ہمارے دفاع کے ذمہ دار وزیر صاحب نے کھل کر بتا دی۔ اس بیان سے یہ بھی صاف عیاں ہے کہ ہمارے لیڈران کرام جو اکثر پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے والے کی آنکھ کا حشر نشر کرنے کی دھمکیاں دیتے رہتے ہیں وہ ازراہِ تفنن ہی ہوتی ہیں کیونکہ ہم طالبان کی طرح اجڈ تو ہیں نہیں کہ دشمنوں کی آنکھیں نکالتے پھریں۔وزیر صاحب کی اس بیان سے ہم نے اپنے ملک کی دفاعی تیاریوں کا تو بخوبی اندازہ لگا لیا ہے لیکن ایک بات کی وضاحت وزیرمحترم کے اس بیان سے نہیں ہو سکی کہ آیا پاکستان کے پاس ان بھونڈ حملوں کو روکنے کی حربی صلاحیت ہی نہیں یا ایسا کرنے کی ہمت مفقود ہے۔ہمارے قیاس میں معاملہ دوسرے والا ہے کہ پچھلے چند سالوں میں امریکی ڈالروں کی اعصاب شکن مہک نے جہاں ہمارے حواسںِخمسہ پر نہایت خمار آور اثرات ڈالے ہیں وہیں اس نے ہماری جراتوں کو بھی تہذیب یافتہ کر کے ہمیں ہر قسم کے جنگ و جدل سے دور کر دیا ہے ۔ویسے منطقی طور پر بھی ہمارا ڈرون حملوں کو روکنا ملک کے وسیع تر مفاد کے خلاف ہے کیونکہ انہی کی برکت سے ہمارا زود رنج دوست امریکا ہم پہ مہربان رہتا ہے۔ چند شدت پسندوں کو بچانے کے لیے ہم اپنے اتنے عزیز دوست کی رنجش بھلا کیوں مول لیں۔ہمارے وزیر صاحب نے کڑوا سچ جس جرات اور سہولت سے بیان کیا یہ انہی کا خاصہ ہے ۔ انہی جیسی نادر شخصیات سے پی پی کا کلاہِ سلطانی ہمہ وقت جگمگ جگمگ کرتا رہتا ہے۔