ہفتہ، 24 اپریل، 2010

یہ اعزاز کہیں چھن نہ جائے

اگر دنیا کی صابر ترین اقوام کی فہرست مرتب کی جائے تو پاکستانی قوم کانام بلاشبہ سرِ فہرست ہوگا۔ مثل تھرمامیٹر کے صبر ماپنے کا اگر کوئی آلہ ہوتا اور اس سے پاکستانی قوم کی قوتِ برداشت کو جانچا جاتا تو نتائج حیران کن نکلتے۔ راہ گزر کے وہ پتھر جو ہمیشہ ٹھوکروں کی ضد میں رہتے ہیں اور اس دیس کے عوام جو ازل سے ظلم و ستم کی چکی میں پستے آئے ہیں ہر دو کا درجہِ برداشت ایک سا نکلتا۔ ہر طلوع ہونے والاسورج پاکستانی قوم کے صبر کا ایک نیا امتحان لیتا ہے اوراس منفرد قوم کو ہر ابتلا سے ٹھنڈے پیٹوں سرخرو ہوتا دیکھ کر انگلیاں دانتوں میں داب لیتا ہے۔  اس قوم کے چوسٹھ سالہ عرصہِ حیات میں کبھی یوں نہیں ہوا کہ ظلم و استبداد کی ہوائے سنگین سے گھبرا کر اس کے صبر کا پیمانہ چھلک پڑا ہو یا جبرو استحصال کے نیزوں کی ضرب سے اس کی برداشت کی حدیں ٹوٹ کر بکھر گئی ہوں ۔ بتِ بے خبر کی طرح ایستادہ اس قوم کو ظلم سہنے کی ان تھک عادت تو ہے پر بغاوت کرنے کا ذرہ بھر مادہ بھی شاید قدرت نے اس کے اندر نہیں رکھا۔
روسی استعمار کی غارت گرِ دین و ایماں اشتراکیت تلے چھ دہائیوں تک پسنے والے کر غزستان کے مسلمان اپنے مذہب ، ثقافت اور اقدار کے ساتھ ساتھ اگر اپنی طاقتِ گویائی بھی کھو دیتے ، سالہاسال تک اشتراکیت کے آہنی ہتھوڑے تلے سسکتے سسکتے اور اس کے مکروہ پراپیگنڈے کو سہتے سہتے اگر وہ ہر حال میں راضی بہ رضا رہنے کی صو فیانہ منش اپنا بھی لیتے تو کچھ باعثِ حیرت بات نہ تھی لیکن کرپشن اور اقربا پروری کے جوہڑ میں رقص کرتے اپنے کو ر نگاہ حکمرانوں کی خر مستیاں یہ قوم زیادہ دیر تک برداشت نہ کر سکی۔ سات اپریل کو کر غزستان کے وہ عوام جنہیں سوویت یونین کے اشتراکی فلسفے نے بھیڑ بکریوں کی طرح منہ پر قفل باندھ کر صرف چرنا سکھایا تھا دارالحکومت بشکیک کی گلیوں میں دھاڑتے ہوئے نکلے اور اپنے بدعنوان صدر قرمان بیک یووف کو سر پر پاؤں رکھ کر بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ہمارے دوسرے پڑوسی اہلِ ایران اگر مغربی ثقافت اور عریانگی کی افیون کھا کر اپنے حال و مستقبل سے بے نیاز حال مست ہو جاتے تو بھی کچھ عجیب بات نہ تھی لیکن 1979 کو رضا شاہ پہلوی کو ایرانی عوام نے امریکی سامراجیت کی چاکری کرنے کے جرم میں اس نفرت اور استہزا سے دھتکارا کہ اسے آنیوالی نسلوں کے لیے نمونہِ عبرت بنا دیا۔پاکستانی عوام کے نقطہِ نظر سے دیکھا جائے تو قرمان بیک یووف اور رضا شاہ پہلوی کے قصور اس درجیکے نہ تھیکہ ان کے ساتھ ایسا غیر شاہانہ سلوک روا رکھا جاتا۔قرمان بیک یووف نے اپنے پانچ سالہ دورِ اقتدار میں اپنوں کو نوازنے ، بد عنوانی و رشوت ستانی کی سر پرستی کرنے اور مہنگائی و گراں فروشی کے ذریعے عوام کی زندگی اجیران کرنے جیسے معمولی اشغال ہی تو کیے تھے۔ رضا شاہ پہلوی نے اپنے استحصالی ہتھکنڈوں کے ذریعے ایرانی عوام کے خون سے امریکی یارانے کی شمع روشن کرنے کا عام سا فعل ہی تو کیا تھا۔ یہ دونوں مردانِ عبرت اگر پاکستان میں پیدا ہوتے تو سر آنکھوں پر بٹھا ئے جاتے ۔اقتدار کی کرسی تا حیات ان کی جاگیر رہتی اور کرپشن و بدعنوانی کا کوئی شغل ، امرکی چاکری کا کوئی الزام ان سے اقتدار نہ چھین سکتا۔یہ محض ہوائی دعوٰ ی نہیں ۔ آپ پاکستان کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لی جیے۔ پاکستانی رضا شاہوں اورقرمان بیک یووفوں کے سامنے یہ دونوں بے چارے تو نہایت منحنی سے بونے لگتے ہیں ۔سکندر مرزا سے لے کر آصف زرداری تک پاکستای رضاشاہوں اور قرمانوں کی تاریخ اتنی تابناک ہے کہ نگاہیں چند ھیا جاتی ہیں ۔ اس تاریخ کا ایک ایک ورق ایسے شاندار کارناموں سے رقم ہے کہ بے اختیار پاکستانی قوم کے جذبہ برداشت کو داد دینے کو جی چاہتا ہے۔

جو قوم ملک کو دو لخت کرنے والوں کے باجماعت ترانے گا سکتی ہے اور انہیں اقتدار کے سنگھاسن پر عزت و تکریم سے بٹھا سکتی ہے ، جس قوم کی مروت اس درجے تک بڑھی ہوئی ہو کہ اپنے ان سورما جرنیلوں کوجو پیشیہ وارانہ مہارت کی تاریخ رقم کرتے ہوئے نوے ہزار فوجیوں کو دشمن کے سامنے ہتھیار ڈلوا دیں مرنے پر نہایت عزت و احترام کے ساتھ توپوں کی سلامیاں دے دے کر رخصت کرسکتی ہو، جس قوم کو روئے ارضی کے بد عنوان ترین افراد حکومت کے لیے منتخب کرتے وقت رائی برابر احساسِ پشیمانی نہ ہو ، جس قوم کا ہر نام نہاد راہنما خوابوں اور سرابوں کی ایک حسین دنیا دکھا کر اقتدار کے تخت پرتشریف لائے اور بھوک و افلاس کے تحفے دے کر اس بد نصیب قوم کی رگوں سے زندگی کا آخری قطرہ تک چوس کر لے جائے ایسی سخت جان قوم کے درجہ برداشت کوداد نہ دینا اس کے ساتھ صریح زیادتی ہے۔

پاکستانی قوم کا یہی ایوبی صبر ہے جس کے صدقے یہ اس نہج پر پہنچ گئی ہے جہاں اس پر ایسی بلائیں حکمران بن بن کر نازل ہو رہی ہیں جن پر ایک اچھے حکمران تو کجا اچھے انسان ہونے کا بھی شک نہیں کیا جا سکتااور جو کسی ملک تو کجا اپنے گھر پر حکومت کرنے کے بھی لائق نہیں۔ کرپشن اور بدعنوانی کی غلاظت میں لت پت یہ وہ مخلوق ہے جس کی کوتاہ بینی اسے اپنی دم کے گرد چکر کاٹنے اور اپنے مفادات کی پوجا پاٹ کرنے سے ہی فرست نہیں لینے دیتی۔ پاکستان کی حکومتی سیج پر کھلنے والا ہر نیا شگوفہ لوٹ گھسوٹ اور بدعنوانی کے نت نئے طریقے لے کر اس یقین سے آتا ہے کہ وہ ملک کی لٹیا ڈبو کر بھی کامیاب و کامران مسرت کے بین بجاتا جائے گا اور چند سال اپنے کسی بھائی بند کو اقتدار کے جام سے لذت کوشی کروانے کے بعد دوبارہ نیا روپ بھر کر عوام کو الو بنانے کے شغل میں لگ جائے گا۔

مشرف کے نو سالہ دورِ زیاع میںیوں لگ رہا تھا جیسے بدعنوانی ، نااہلیت اور مسخرہ پن اپنے انتہا کو پہنچ گئے ہیں اور پاکستانی قوم کو مشرف اور اس کے جوکروں سے بڑھ کر شاید کوئی عذاب اب مستقبل میں برداشت نہ کرنا پڑے ۔ پاکستان کے بے خبر عوام جب مشرف کے رخصت ہونے پر خوشیوں کے بین بجا رہے تھے تو کون اندازہ کر سکتا تھا کہ پرویزوں ، وصی ظفروں اور شیرافگنوں کی ایک نئی کھیپ نئے رنگ روپ میں ان کی آرزؤں اور تمناؤں کا تمسخر اڑانے کی تیاری کر رہی ہے۔ مشرف کے جانے کے بعد بہت جلدہی پاکستانی قوم پر یہ عقدہ وا ہو گیا تھا کہ سیاسی سرکس میں جوکروں نے صرف لباس بدلا ہے ا ور چہروں پر نئے غازے مل لیے ہیں ان کا اندروں مشرف کے جوکروں کی طرح تاریک تر ہے۔

پاکستان کے مجبور و مقہور عوام پی پی کی عوامی حکومت کو بھگتتے دو سال سے زائد کا عرصہ کاٹ چکے ہیں ۔ ظلم و استحصال کو پاکستانی عوام چھ دہائیوں سے سہتے آئے ہیں اس لیے یہ گھنگورتاریکی ان کے لیے نئی بات نہیں۔ان کے صبر کا پیمانہ نہ پہلے کبھی چھلکا نہ آئندہ چھلکنے کاڈر ہے، نہ پہلے انہوں نے کسی حکمران کو بدعنوانی و کرپشن کے جرم میں پھانسی پر چڑھایا نہ آئندہ چڑ ھائیں گے لیکن اتنا ضرور ہے کہ پے در پے آفات نے انہیں آزرد کر دیا ہے ۔ ان کی آنکھیں جن میں کبھی ایک فلاحی مملکت کے خواب چراغاں کیے رکھتے تھے اب ہر دم چھلکنے کو بے تاب رہتی ہیں ۔ جن سینوں میں کبھی اپنے وطن سے عشق ٹھاٹھیں مارا کرتا تھا اب اس پہ غم و غصے کے سیاہ بادل سایہ فگن رہتے ہیں ۔ جو زبانیں صرف زندہ باد کے نعروں سے آشنا تھیں اب مردہ باد کا ورد بھی سیکھنے لگی ہیں۔ پاکستانی عوام کی تاریخِ صبر تو ایسا کچھ نہیں بتاتی لیکن جانے کب وہ ہاتھ جو تالیاں پیٹنے کے عادی ہیں بھنچ کر مکوں کی شکل اختیار کر جائیں اور پاکستانی دنیا کی صابر ترین قوم ہونے کا اعزاز گنوا بیٹھیں۔

منگل، 20 اپریل، 2010

نقلی ویڈیو کے اصلی فائدے

پاکستانی قوم کو روشن خیال اعتدال پسندی کے جھولے پے اٹھکیلیاں کرتے ابھی کچھ زیادہ مدت نہیں بیتی لیکن اس کے ثمرات نے اس دیس کے کوچہ و بازار کوابھی سے معطر کرنا شروع کر دیا ہے۔ چارسو پھیلتی حسینانِ توبہ شکن کے جاں فزا جلوں کی بہتات ،  پروینانِ نیک آرا کے عاشقانِ پاک طینت کے ہمراہ بھاگنے کے روز افزوں واقعات اور رشوت ستانی و بد عنوانی کے پھلتے پھولتے کاروبار پہ ہمارے حکمرانوں کا شفقت بھرا ہاتھ یہ سب واضح علامات ہیں اس امر کی کہ روشن خیالی کے نخل نے برگ و بار لانا شروع کر دیے ہیں اور اب پاکستان بھی ترقی و خوشحالی کی ریس میں سرپٹ دوڑنے کے قابل ہو گیا ہے۔

وہ انتہا پسند اور قدامت پرست طبقہ جو پاکستان کو روشن خیالی کے زینے پر چڑھتے کسی صورت نہیں دیکھ سکتا اور جو ہمیشہ اس تاک میں رہتاہے کہ کب موقع ملتے ہی پاکستان کی ٹانگیں کھینچ کر اسے واپس رجعت پسندی کے دوزخ میں دھکیل دیا جائے حالاتِ موجودہ پر نہایت غمگین ہے اور اس بے چارے کو سمجھ نہیں آرہی کہ روشنیوں کے اس سیلاب کا کیسے مقابلہ کیا جائے۔ چناچہ کو ئی مناسب صورت نہ پاکر اب یہ طبقہ اوچھے ہتھکنڈوں سے اس شمع کو بجھانے کے درپے ہے جسے حضرت مشرف اپنے مبارک ہاتھوں سے روشن کر گئے تھے۔ سوات والی ویڈیو کے خلاف حالیہ دنوں اٹھنے والا طوفان درا صل انتہا پسندوں کا ایسا ہی ایک اوچھا وار ہے جس کی مدد سے وہ روشن خیالی کے خوبصورت چہرے تلے چھپی مکر و فریب کی جھریوں کی اشاعت عام کر کے اسے چاروں شانے چت گرانے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ اس خبر نے کہ ایک سال پہلے سوات آپریشن سے قبل منظر عام پر آنے والی وہ ویڈیو جس میں ایک نوجوان لڑکی کو سرِ عام کوڑے ماے جاتے دکھایا گیا تھا اور جس کا سہرا طالبان کے سر باندھا گیا تھا کلی طور پر جعلی تھی ہمارے انتہا پسند طبقے کے شکستہ حوصلوں اور پست امیدوں میں جان ڈال دی ہے ۔ چناچہ اس ویڈیو کلپ کی کامیاب ڈائریکٹر اور  پروڈیوسر محترمہ ثمر من اللہ کی شان میں نہایت نامناسب گستاخیوں کا ایک غیر مختتم سلسہ شروع ہو گیا ہے جس میں انہیں اور ان کی این۔ جی۔ او ایتھنو میڈیا کو امریکا کی پالتو ایجنٹ اور مغرب کی زرخرید آلہ کار ثابت کرنے کی کامیاب کوشش کی جارہی ہے۔ ایک طرف قدامت پرست اس واقعے کے ذریعے ہماری پیاری این ۔ جی۔ اوز کے ان چہروں کو عوام کے سامنے لانے کی کوشش کر رہے ہیں جو اب تک نہات کامیابی سے تہذیب و شائستگی کے میک اپ تلے چھپے ہوئے تھے تو دوسری طرف روشن خیال اس فتنہ ساماں ویڈیو کو اصلی ثابت کرنے کے لیے کمر کس کر میدان میں اتر آئے ہیں اور ایسے ایسے دلائل اور نکات اٹھا رہے ہیں جن میں دلیل سے زیادہ ان کے جدت طبعی اور نکتہ رسی جھلکتی ہے۔غرض ان دونوں متحارب گروپوں کے درمیان گھمسان کی جنگ جاری ہے اور ہمارے جیسے ضروریاتِ زمانہ اور سیاستِ حاضرہ سے ناواقف سر بہ گریباں ہیں کہ کس کی بات مانیں اور کس کو جھو ٹا گردانیں۔ البتہ حالیہ دنوں میں ہماری حکومت کے کارپرداز خصوصاََہمارے وزیر داخلہ صاحب نے جس شدومد سے اس ویڈیو کے اصلی ہونے کا بار بار اعلان کیا ہے اسے دیکھتے ہوئے ہمیں گمان ہوتا ہے کہ یہ ویڈیو واقعتا جعلی تھی ۔

قطع نظر اس امر سے کہ یہ ویڈیو اصلی تھی یا نقلی اس سے نہایت مختصر مدت میں متنوع فوائد حاصل ہوئے۔ طالبان کے خلاف اس ویڈیو نے ہمارے سادہ لوح عوام کی رائے ہموار کرنے میں تاریخی کردار ادا کیا۔ پاکستانی عوام جو پچھلے کئی برسوں سے طالبان کے خلاف پھس پھسی حکومتی دلیلیں اور آئی۔ ایس ۔ پی۔ آر کے مضحکہ خیز بھاشن سن سن کر عاجز آچکے تھے اور جنہیں یہ سمجھ نہیں آتی تھی کہ وہ جارح امریکی استعمار سے بر سرِ پیکار طالبان کے خلاف ہماری اس حکومت کی بات کیسے مان لیں جو غلامیِ مغرب میں اپنا تن من نچھاور کر کے کاسہ لیسی اور دریوزہ گری کی نئی تاریخ رقم کر رہی ہے ۔ یہ ایک تاریخی امر ہے کہ یہود و نصاری کی دوستی پاکستانی عوام کے گلے سے کبھی بھی نہیں اترپاءی۔ چناچہ منظر نامہ یہ تھا کہ امریکی ڈور پر تھر کتی ہماری حکومت کا اپنی ہی سر زمین پر آپریشن کرنے کا فیصلہ عوام الناس میں سخت غیر مقبول تھا کہ اچانک مارچ 2009 کو ایک بے بس لڑکی کو مبینہ طالبان کے ہاتھوں کوڑے کھاتے دکھا کر کایا پلٹ دی گئی۔ پاکستان کی بھولی بھالی عوام جو 1971میں بھی مکتی باہنی اور بھارتی افواج کے خلاف ہماری بہادر افواج کی فتوحات پر آخری دم تک سر دھنتی رہی اب پھر جھانسے میں آگئی۔ ہماری فوج کے جوانوں کے ڈانواں ڈول مورال کے لیے اس ویڈیو نے مہمیز کا کام کیا اور محمد بن قاسم کے فرزند ایک بے کس لڑکی کی مظلومانہ پکار پر لبیک کہتے ہوئے میدانِ کارزار میں دیوانہ وارکود پڑے۔ سوات آپریشن کی برکت سے آپریشن در آپریشن کا ایک سلسلہ شروع ہوا جس نے پاکستان کی معاشی اور سماجی حالت کو بے حال کر دیا۔ ان آپریشنوں میں بہنے والے خونِ ناحق کی ذمہ داری جہاں امریکہ کی بے لگام استعماری خواہش اور پاکستان کی دا ئمی ہوسِ زر ہے وہیں اس ویڈیو جیسے چھوٹے چھوٹے عوامل نے بھی جلتی پر تیل کا کام کیا۔ اس ویڈیو کے جعلی ہونے کے انکشاف نے جہاں ان تمام تجزیہ نگاروں اور دانش وروں کو کھسیانا کر دیا ہے جو اس کے ظہور پذیر ہونے پر گھنٹوں اس کی مذمت میں نہایت پر مغز اور پر اثر تبصرے کرتے رہے وہیں وہ سیاسی پارٹیاں جو اس کے سامنے آنے پر انسانی حقوق کے چیمپین بننے کے شوق میں اس کے خلاف نہایت جوشیلے مظاہروں کا اہتمام کرتی رہیں اب اصل حقیقت کے کھلنے پر دَم سادھے اور دُم دبائے بیٹھی ہیں۔ ہمارے میڈیا نے جو اس ویڈیو کے منظر عام پر آنے پہ نہایت جوش و خروش سے اس کی ترویج میں دن رات مشغول رہا اب دوسری تصویر سامنے آنے پر نہایت ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے چپ ہے۔

ہم یہ تو نہیں جانتے کہ طالبان کو رسوا کرنے والے اس منفرد آئیڈیے نے محترمہ ثمر صاحبہ کے خلاق دماغ میں جنم لیا یا ہمیشہ کی طرح اس کی پشت پر دانشِ افرنگ کار فرما ہے لیکن اتنا بحرحال واضح ہے کہ کسی قوم کو بحیثیتِ مجموعی الو بنانے کی شاید ہی کوئی ایسی مثال اس سے قبل موجود ہو۔اگر یہ محترمہ ثمر صاحبہ کی تخلیق ہے تو ان کے ذہنِ رسا کی داد دینی چاہیے اور ہمیں بحیثیتِ قوم فخر کرنا چاہیے کہ ہماری سر زمین نے مشرف کی روشن خیالی کے صدقے ایسے دیدہ ور پیدا کرنے شروع کر دیے ہیں جو کسی عالی مقصد کے حصول کے لیے  ملی، ملکی یا اخلاقی اقدار کو پاؤں تلے روندتے ہوئے ذرا نہیں ہچکچاتے ۔

اس ویڈیو کے جعلی ثابت ہونے پر لوگوں کا مضطرب ہونا ہماری سمجھ سے باہر ہے ۔  اگر یہ الزام درست بھی ہے کہ اس ویڈیو کی تخلیق کے لیے امریکی لابی نے لاکھوں ڈالر محترمہ ثمر صاحبہ کو دیے تو بھی بھلا اس سے پاکستان کے مفادات پر کہاں زک پڑتی ہے؟ غیروں سے ڈالر لے کر اپنوں کی گردنیں مارنا ہمارے ملک میں اب اتنا انوکھا فعل نہیں رہا کہ محترمہ کی اس حرکت پر ان کے خلاف واویلا برپا کر دیا جائے۔ آخر امریکا و یورپ سے ڈالر کھینچ کھانچ کر پاکستان لانا ہی تو ہماری حکومت کا اول و آخر مقصد و منشور ہے جس کے حصول کے لیے ہم پچھلے کئی سالوں سے اپنے قبائلی علاقوں میں آگ و خون کا ہولناک کھیل رہے ہیں۔ پس اگر محترمہ نے اس مقصد کے لیے ذرا مختلف انداز اپنا لیا تو کیا برا کیا ؟

مذکورہ ویڈیو سے محترمہ ڈائریکٹر صاحبہ اور ان کی این۔ جی۔ او کو توجو فوائد و ثمرات حاصل ہوئے وہ ان کی محنت کا پھل ہیں اور انہیں ملنا ہی چاہیے تھے لیکن خود پاکستان بھی اس کے ثمرات سے نہال ہوئے بغیر نہیں رہا۔ اقوامِ عالم میں شہرتِ عام کا جو تمغہ اس ویڈیو کے صدقے پاکستان کے گلے میں ڈالا گیا اس نے ہمارے نام کو چار چاند لگا دیے ہیں۔ اس خیال انگیز ویڈیو کے حق میں محترمہ ثمر صاحبہ کی یہ دلیل مخالفین کی دراز زبانیں بند کرنے کے لیے کافی ہے کہ اس میں وہی تو دکھایا گیا تھا جو طالبان کے زیرِ سایہ سوات میں آئے روز ہو رہا تھا۔ ہم ان کی بے نظیر منطق کی نہ صرف تائید کرتے ہیں بلکہ ان سے استدعا کرتے ہیں اس معاشرے میں دندناتی دوسری قبیح برائیوں جیسے زنا ، چوری ، ڈکیتی اور قتل و غارت وغیرہ کو بھی فلما کر ساری دنیا کے سامنے پیش کریں تا کہ پاکستان کے نام اور مقام کو مناسب طور پربلند کیا جاسکے۔

جو لوگ مشرف کو ایک ناکام اور نکما ڈکٹیٹرسمجھتے ہیں مذکورہ ویڈیو ان کی آنکھیں کھول دینے کے لیے بھی کافی ہونی چاہیے ۔ مشرف کے لگائے گئے روشن خیالی کے بوٹے نے ثمر من اللہ جیسے پھل دینے شروع کر دیے ہیں ۔ دیکھنا یہ ہے کہ اب اور کتنے ثمر ٹپکنے کو ہیں۔

ہفتہ، 10 اپریل، 2010

صبح نو کا پیام

بدامنی، لاقانونیت اور مہنگائی کی مسموم گھٹاؤں میں گھرے ہوئے مظلوم پاکستانیوں کے لیے یقیناًیہ خبر بادِ صبا کے کسی روح پرور جھونکے سے کم نہیں ہونی چاہیے کہ پاکستان کی بھٹکتی ہوئی ناؤ کو پار لگانے کے لیے پرویز مشرف نے آل پاکستان مسلم لیگ کے نام سے ایک نئی جماعت کے قیام کی داغ بیل ڈال دی ہے۔ پاکستانی عوام اگر سیاسی شعور کی دولت سے بہرہ ور ہوتے تو وہ اِس نویدِ مسرت پر خوشی کے شادیانے بجاتے ، اپنے گھروں پے گھی کے چراغ جلاتے اور اس مسیحا سے جو بعض بیہودہ وجوہات کی بنا پر مجبوراََ دیس سے بھاگ کر پر دیس جاچھپا ہے واپس لوٹ آنے کی التجا کرتے۔


عاقبت نااندیشی اوراحساسِ سودوزیاں سے بے نیازی کی بھلااور کیا انتہا ہو گی کہ مشرف کے اس تاریخ ساز فیصلے کو اکثر پاکستانیوں نے نہایت غیر سنجیدہ انداز میں لیا۔ ملک و قوم کی تقدیر بدل دینے والی ایک انقلابی جماعت کے قیام پر پاکستان کے نا سمجھ عوام کا یہ غیر ذمہ دارانہ رویہ ہماری سمجھ سے باہر ہے اور ہمیں حیرت ہے کہ پاکستانی عوام مشرف جیسے عظیم لیڈر کی قائدانہ صلاحیتوں کو ٹھکراکر اس کا مضحکہ اڑانے کا قابلِ مذمت وطیرہ کب تک اختیار کیے رکھیں گے۔

دسمبر 1906ء کو ڈھاکہ میں آل انڈیا مسلم لیگ کے قیام نے جس طرح انگریز سامراج کی مکروہ چکی میں پستے ہوئے بر صغیر کے بے زبان مسلمانوں کی کایا پلٹ ڈالی ہمیں یقین ہے کہ اب مشرف کی بے مثل قیادت میں آل پاکستان مسلم لیگ بھی با لکل اسی طرح پاکستانی مسلمانوں کی کایا کو الٹ پلٹ کر رکھ دے گی۔ ان دونوں لیگوں میں اس لحاظ سے کس قدر مماثلت بھی ہے کہ جہاں قائد والی لیگ کی بنیاد وقار الملک اور محسن الملک جیسے جید سیاست دانوں کے ہاتھوں اٹھائی گئی وہیں آل پاکستان لیگ کی بنیاد وں میں بھی مشرف جیسے منجھے ہوئے لیڈر کی سیاست کاری ، شیر افگن جیسے بے باک راہنما کا متنوع تجربہ اور ارباب غلام رحیم جیسے زیرک سیاستدان کی مشاورت شامل ہے۔ بلکہ اگر ان دونوں جماعتوں کے راہنماؤں کا تقابلی مطالعہ کیا جائے تو کئی لحاظ سے مشرف والی لیگ کو توفق حا صل ہے مثلاََ پاکستان کے قیام کی کئی سالوں پر محیط جدوجہد میں کبھی ایک دفعہ بھی کسی لیگی راہنما نے جوتیاں کھانے کا اعزاز حاصل نہیں کیا جبکہ مشرف لیگ کا کردار اس میدان میں نہایت درخشاں ہے ۔ اسی طرح ہندؤں کی تمام تر مخالفتوں اور مخاصمتوں کے باوجود اس تعداد میں اور اس معیار اور جسامت کی گالیاں آل انڈیا مسلم لیگ کے کل راہنماؤں کو بھی نہیں پڑیں جتنی گالیاں کھانے کا اعزاز تنہا مشرف صاحب کو حا صل ہوا ۔

آئینِ نو سے ڈرنے اور طر زِ کہن پر اَڑنے والی پاکستانی قوم بھلا ایک انقلابی جماعت کے قیام کو کیسے ٹھنڈے پیٹوں بر داشت کر سکتی ہے چناچہ اس اعلان کے ساتھ ہی اس نئی پارٹی کے متعلق نہایت مضحکہ انگیز لطائف کا اک سلسلہ شروع ہو گیا ہے اور بد گمانی کی انتہا تو یہ ہے کہ اگر شیر افگن نیازی نئی جماعت کے وجود میں آنے کی تاریخی خوش خبری سناتے ہوئے فراست سے کام نہ لیتے اور پارٹی کے ساتھ لفظ سیاسی پر زور نہ دیتے تو پاکستانی عوام کی اکثریت مشرف کی اس نو زائیدہ پارٹی کو ان کی طبلے اور سارنگی سے جذباتی تعلق کے سبب بینڈ پارٹی سمجھ لیتی۔ ہم اکثر کم فہم پاکستانیوں کے اس خیال سے تو اتفاق نہیں کرتے کہ مشرف اپنے اور اپنی ٹیم کی ہفت رنگ فنکارانہ صلاحیتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اگر سیاسی پارٹی کی بجائے کوئی تھیٹریکل کمپنی ، کوئی میوزیکل گروپ یا پھر لکی ایرانی طرز کی کوئی سرکس بنا لیتے تو زیادہ کامیاب ہوتے لیکن اتنا بحرحال ہم تسلیم کرتے ہیں کہ مشرف اور ان کے حاشیہ نشین ایسے صاحبِ طرز اور ہر فن مولا ہیں کہ رزم ہو یا بزم جس میدان میں جائیں گے فتوحات کے جھنڈے گاڑیں گے اور مخالفین کو خاک چٹوائیں گے ۔

بدقسمتی سے مشرف اور اس کی ٹیم کو پاکستانی قوم کے جس اجتماعی استہزا کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے یہ کوئی نئی بات نہیں ۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی قوم کے غم میں سلگنے والے کسی مصلح نے اس کی فلاح و بہبود کا بیڑا اٹھانا چاہا قوم نے طرح طرح سے اس کا مذاق اڑایا اور طنز کے تیروں سے اس کے عزمِ کو چھلنی کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ مشرف صاحب کا فنونِ لطیفہ و غیر لطیفہ سے شغف اپنی جگہہ لیکن یہ بھلا کہاں کا انصاف ہے کہ میڈیا پر کھلے عام اس جیسے منفرد لیڈر کے شوقِ طبلہ نوازی پر چوٹ کرتے ہوئے اسے اشاروں کنایوں میں بھانڈ اور میراثی تک قرار دے دیا جائے۔ گائیکی ایک فن ہے اور اگر یہ فن ہمارے کسی لیڈر میں موجیں مار رہا ہے تو اس کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے نہ یہ کہ اس کا نہایت بھونڈے انداز میں مذاق اڑایا جائے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مشرف صاحب کو مخالفین کے اس گھٹیا حملے کا اپنے مخصوص کمانڈو انداز میں ترکی بہ ترکی جواب دینا چاہیے اور اپنی نئی جماعت کے پہلے باقاعدہ اجلاس میں نہ صرف ڈھول کو اپنا انتخابی نشان قرار دینے کا اعلان کرنا چاہیے بلکہ اپنے منشور میں روٹی ، کپڑا اور مکان کی طرز پے کوئی بینڈ باجوں والا سلوگن بھی دینا چاہیے۔ دورِ حاضر میں کوئی پیشہ اور فن کسی خاص ذات یا قومیت کی جاگیر نہیں رہا۔ ہوائے نو نے اب ہر چیز کو نہایت خوش کن انداز میں آپس میں غلط ملط کر دیا ہے ۔ چناچہ اب میراثیوں کے سیاست کرنے اور سیاست دانوں کے میراثی پن کرنے پے معترض ہونا پرے درجے کی دقیانوسیت ہے۔ ڈوموں کو سیاستدان بننے اور سیاست دانو ں کو ڈوم بننے سے روکنا بنیادی انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزی ہے جس کی ہمارے خیال میں ہر سٹیج پر مذمت ہونی چاہیے۔

کچھ ستم ظریف حضرات مشرف صاحب کے پاکستان قدم رنجہ فرمانے پر طرح طرح کی پیشین گوئیاں کر رہے ہیں جس میں جوتوں اور گندے انڈوں کا بار بار ذکر ہو رہا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مشرف صاحب بھی پاکستانی عوام کے کھلنڈرے پن کو مدنظر رکھتے ہوئے فوراََ پاکستان آنے کا فیصلہ نہیں کریں گے بلکہ الطاف بھائی کی طرح لندن میں بیٹھ کر پہلے پاکستانی عوام کی تربیت کرنے کا فریضہ ٹیلیفونک خطابوں سے پورا کیا کریں گے۔ چناچہ جب پاکستانی عوام ذہنی بلوغت کی اس سطح پر پہنچ جائیں گے کہ وہ مشرف صاحب جیسے عظیم لیڈر کی عظمت کا بوجھ برداشت کر سکیں تب وہ پاکستان تشرف لانے کا اعلان فرمائیں گے۔ ویسے بھی الطاف بھائی اور مشرف میں بہت حد تک مماثلت ہے کہ دونوں روایتی سیاست دانوں سے بالکل مختلف ہیں اور بظاہر دیکھنے اور سننے سے کسی طرح سیاست دان نہیں لگتے۔ دونوں مسائل و مصائب کے طو فانوں میں گھرے منہ بسورتے پاکستانی عوام کو اپنے لطائف سے ہنسانے کے فن میں خاص ملکہ رکھتے ہیں اور دونوں ہی ظالم جاگیر دار اور روایتی سیاست دان کو سلطان راہیانہ انداز میں للکارنے پر یقین رکھتے ہیں۔

مشرف صاحب کی نئی جماعت جسکی ترجمانی کا فریضہ فی الوقت تنہا شیر افگن نیازی نہایت فصاحت و بلاغت سے بہ احسن و خوبی فرما رہے ہیں پاکستان کی روایتی سیاست میں ایک دھماکے سے کم نہیں ۔ وہ جاگیر دار نما سیاست دان جو پچھلے چوسٹھ سالوں سے پاکستانی عوام کو رنگ برنگے خواب دکھاکر بیوقوف بناتے آئے ہیں اس انقلابی جماعت کا قیام ان کے لیے یہ للکارہے کہ اب ان کا وقت ختم ہو چکا ہے، اب مظلوم پاکستانی عوام سے طرح طرح کے ڈرامے رچا کر ان کی قسمت سے کھیلنا ان کا تنہا استحقاق نہیں رہا۔ مشرف صاحب کی جماعت کے وجود میں آتے ہی یوں لگ رہا ہے جیسے پاکستان کی سیاسی کتاب کا ورق پلٹنے کو ہے، صدیوں پرانے بر ج الٹنے کا وقت آن پہنچاہے اور تخت گرانے اور تاج اچھالنے کی پاکستانی عوام کی دیرینہ خواہش بھی جلد ہی حقیقت کا روپ دھارنے والی ہے۔ مشرف لیگ کے ستاروں کی تنک تابی دیکھتے ہوئے یوں لگتا ہے کہ صبحِ روشن طلوع ہونے میں اب تھوڑی ہی کسر رہ گئی ہے یعنی اگر مشرف صاحب کے انداز میں کہا جائے تو سیاست میں سارے گاما پادھا نی سا ہونے کو ہے۔

جمعہ، 2 اپریل، 2010

پاکستان کا دکھ

اس روح فرسا خبر نے کہ ہمارا ازلی دوست امریکا افغانستان کے سنگلاخ پہاڑوں اور سنگ دل طالبان سے کامل نو سال تک سر ٹکرانے کے بعد اب وہاں سے با عزت طور پر بھاگنے کے منصوبے بنا رہا ہے ہمیں شدید غم و اندوہ میں مبتلا کر دیا ہے۔ ہم تو سمجھ رہے تھے کہ امریکا ایک طویل مدت تک سرزمینِ افغانستان پر گولہ بارود کے ذریعے اپنی تہذیب و شائستگی کے پھول بکھیرتا رہے گااور دہشت گردی کی جنگ کے صدقے ہم پر امریکا اور آسمان سے رحمتوں کے نزول کا سلسہ جاری رہے گالیکن ایسا اندو ناک منظر تو ہم اپنے بدترین خواب میں بھی تصور نہ کر سکتے تھے کہ ہمارا فاتح عالم دوست اجڈ اور گنوار طالبان کے چھوٹے چھوٹے حملوں سے ڈر کر اتنی جلدی سر پر پائوں رکھ کر بھاگنے کی نیت کر لے گا۔


ہم جانتے ہیں کہ افغانستان کی ستم گرآب وہوا ہمارے گلفام دوست کی طبع نازک کے لیے کسی طرح مناسب نہیں ۔ ہمیں اس کا بھی پورا پورا ادراک ہے کہ ویت نام کے جنگلوں سے اٹھنے والے بخارات اور افغانستان کے پہاڑوں سے اٹھنے والی گرد ہمارے نازو و نعمت کے پلے دوست کی صحت کے لیے کس حد تک زہر ناک ہیں پر گزشتہ نو سال کی قربت اور نگاہِ یار کے افسوں نے ہمیں اس قدر دیوانہ بنا دیا ہے کہ اب اس کے ہمارے پہلو سے رخصت ہونے کا خیال ہی ہم پر اداسی طاری کر دیتا ہے۔یہ سوچ کہ جیبِ یار سے آنیوالی ڈالروں کی وہ مدھر مہک جس نے پچھلے نو سال سے ہمارے مشامِ جاں کو معطر کیے رکھا اب بہت جلد داغِ مفارقت دینے والی ہے ہمیں ابھی سے گلوگیر کر رہی ہے۔ ایک باوفا اور ناز پرور دوست کی قربت کسی دوست آشنا کے لیے کیا معنی رکھتی ہے اس کا اندازہ وہی لوگ بہتر کر سکتے ہیں جنہوں نے کسی تنِ سیمیں کی نزدیکیوں سے لذتِ کام و دہن کیا ہو اور فرقتِ یار قلب و نظر پے ستم کے کیا پہاڑ ڈھاتی ہے اس کا اندازہ بھی صرف وہی لوگ کر سکتے ہیں جنہوں نے ہجر کی کٹھنائیاں کاٹی ہوں۔ ہمارا درد بھی کوئی اہلِ نظر ہی سمجھ سکتاہے۔

آج سے نو سال قبل جب ہمارے دوست امریکا نے نائن الیون کی جادوئی رتھ پے سوار ہو کراپنے پورے طمطراق کے ساتھ گرجتے برستے سر زمینِ افغانستان پر قدم رنجہ فرمائے تھے تو ہمیں یقینِ کامل تھا کہ اب چودہ سو سال قبل کے فرسود ہ خیالات و نظریات رکھنے والے طالبان کی گھگی بندھ جائے گی۔ قربتِ یار کی لذت اور اس لذت سے اٹھنے والے نشے نے ہمیں کبھی یہ سوچنے کی کی فرصت ہی نہ د ی کہ یوں شیر کیطرح دھاڑتے ہوئے ہمارے پڑوس میں وارد ہونے والا ہمارا یہ دوست کبھی گیدڑ کی طرح دم دبا کرتشریف لے جانے کی بھی سوچ سکتا ہے۔ دورِ نو کی برکات عالیہ سے سے محروم اور تہذیبِ حاضر کے تقاضوں سے ناآشنا ہمارے وہ تنگ نظرعوام جو طالبان کے ساتھ ہمارے طوطاچشم رویے پر چیں بہ جبیں تھے اور جنہیں ہمارا یوں امریکا کی پہلی جھلک کے ساتھ ہی اس پر فریفتہ ہو کر طالبان سے نظریں پھیر لینا شائستگی اور انسانیت کے جملہ قواعد کے خلاف لگتا تھا ہم نے انہیں اپنے ان نامور دانش وروں کے ذریعے جو ہم نے خاص ایسے ہی مواقع کے لیے پال رکھے ہیں اور جن کی دانش ان کی توند کی حد وں سے آگے دیکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتی یہ باور کروا دیا تھا کہ اب طالبان کا روئے ارضی سے مٹ جانا لوحِ تقدیر پر ثبت ہو چکا ہے کہ منطقی طور پر دیکھا جائے تو بی-باون طیاروں کا مقابلہ کلاشنکوفوں سے کرنا ایسے ہی ہے جیسے چیونٹی کو ہاتھی کے مقابل کھڑا کر دیا جائے۔ ہم نے اپنے ان خلاق تجزیہ نگاروں کو جنہیں دکانِ مغرب سے خوشہ چینی کرنے میں کمال حاصل ہے او ر جو دانش افرنگ سے اپنے تجزیوں کے دیے اس جادوگری سے جلاتے ہیں کہ عقل اور شرافت دنگ رہ جاتے ہیںخاص اس کام پر مامور کر دیا تھا کہ وہ برکاتِ قربتِ امریکیہ پر دن رات لیکچر دیا کریں اور اپنی اصلی اور نقلی دلیلوں سے ہمارے جاہل عوام کو یہ سمجھائیں کہ طالبان سے ہمارے دیرینہ تعلقات ،تہذیب وشرافت اور حقوقِ ہمسائیگی کے جملہ نظریات امریکا کی ایک نگاہِ ا فسوں ناک کے سامنے کس طرح خاک ہیں۔

ہم نے اپنے تئیں طالبان کو بھی صراطِ مستقیم پر چلانے کی مقدور بھر کوشش کی تھی۔امریکا کی آتش مزاجی کے تاریخی حوالے دے دے کر ہم نے ناسمجھ طالبان کو بارہا یہ درس دیا تھا کہ امریکی مطالبات کے سامنے سر بسجود ہو جانا ہی عقل و خرد کا تقاضا اور افغانستان کے وسیع تر مفاد کے عین مطابق ہے۔ ہم نے گنوار طالبان کو سو سو طرح سے احساس دلایا تھا کہ امریکا کے ان ہولناک بموں اور میزائلوں سے مقابلہ کرنے کا خیال خام جو پہاڑوں تک کا سینہ چیر کر رکھ دیتے ہیں اورجو جہاں گرتے ہیںاردگرد کی آکسیجن سلب کر کے جینے کے سارے اسباب بھسم کر دیتے ہیں نہایت درجے کی حماقت کے سوا اور کچھ نہیں۔ ہمیں حیرت ہے کہ طالبان ہماری نافرمانی کرنے کے باوجود اورہماری صدیوں کی آزمودہ صائب رائے کو پائوں تلے روندنے کے باوصف آج بھی نہ صرف افغانستان میں دندناتے پھر رہے ہیں بلکہ کمال دیدہ دلیری سے ہمارے دوست کے مورال کا تیاپانچہ کرنے میں مصروف ہیں۔ ہمارے خیال میں طالبان کے اتنے ہیبت ناک بموں اور میزائلوں کو خاطر میں نہ لانے کی صرف دو ہی وجوہات ہو سکتی ہے کہ یا تو ان بموں میں کسی وجہ سے تکنیکی خرابی رہ گئی ہے جس نے انہیں ان کی تاثیر سے محروم کر دیا ہے یا پھرطالبان سائنس سے نابلد ہونے کی وجہ سے انسانی زندگی میں آکسیجن کی اہمیت سے ہی ناواقف ہیں۔

پچھلے نو سالوں میں جیسے جیسے طالبان کی تخریبی سر گرمیاں ہمارے دوست کے سکونِ قلب کو تہہ وبالا کرنے لگیں ہم نے اپنے تئیں اس کی ہر ممکن مدد کی ۔ اپنے دوست کے سر سے آفات و بلیات کے منحوس سائے ہٹانے کے لیے ہم نے دہشت گردی کی دیوی کے چرنوں میں اپنے ہزاروں قربانی کے بکروں کی بھینٹ نہایت شان سے چڑھائی ۔ افغانستان کے طالبان کی امریکا کش کاروائیوں کا بدلہ ہم نے اپنی زمین پر پاکستانی طالبان کا قلع قمع کر کے لیا۔ تبسمِ یار کی ایک جھلک کے حصول کے لیے ہم نے جس خشوع و خضوع سے اپنے قبائلی علاقوں پر آگ و آہن کی بارش کی اس کا عشر عشیر بھی اگر71ء میں ہم بھارت کے خلاف استعمال کرتے تو ہمیں یقین ہے کہ مشرقی پاکستان کبھی بنگلہ دیش نہ بنتا۔ ہمیں اس بات کا احساس ہے کہ امریکا کی گود نشینی میں ہمارے جی کے ساتھ ایمان کے ضیاع کا بھی خدشہ ہے لیکن اس امر میں ہمارا اصول یہ ہے کہ جس کو دین ودل عزیز ہو امریکا کی گلی میں جائے ہی کیوں؟

اب جب کہ حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ ہماری ساری تگ و دو اور قربانیوں کے باوجود ہمارا دوست افغانستان سے اپنابوریا بستر اور گولہ بارود گول کرنے کے چکر میں ہے ہمیں سمجھ نہیں آرہی کہ ہم کس کو اپنا دکھڑا سنائیں ؟ اپنی آہِ بے اثر کو کوسیں یا اپنی تقدیرِ شکستہ کا ماتم کریں ۔ ہم سوچتے ہیں کہ جب امریکا رخصتِ سفر باندھے گا تو ہمارا قلبِ حزیں کیسے اس المناک منظر کی تاب لائے گا ؟ گزرے ہوئے لمحاتِ خوش کن کی یاد سے کلیجہ منہ کو آئے گا اور وہ تمام گیت جوعاشقانِ نامراد اپنے محبوبوں کے بچھڑنے پے کبھی سر میں اور زیادہ تر بے سرے گایا کرتے ہیں ہمارے ہونٹوں پر آ آکر دم توڑیں گے۔ دلدار دوست کی ناز پروریاں اور زود رنجیاں ہمیں رہ رہ کر یاد آئیں گیا اور وہ ادائیں اور گھاتیں کہ جب کھبی ہمارے دوست کی پیشانی کسی وجہ سے شکن آلود ہوتی ہم اپنے قبائلی علاقے کی کسی مسجد ، کسی مدرسے یا کسی گائوں پر بمباری کر کے اس کے نازک ہونٹوں کی مسکان واپس لے آتے اور اسی طرح جب کھبی ہمیں غصہ آتا ہمارا ادا شناس دوست ڈالروں کے نئے توڑے بھیج کر ہمیں ہشاش بشاش کر دیتایہ ساری باتیں ایک ایک کر کے یاد آئیں گی اور ہمیں بے طرح رلائیں گی۔

موسمِ ہجر کے بڑھتے سائے ہیں اور ہم دشتِ یاس میں حواس باختہ و برہنہ پا سر گرداں ہیں۔جب وہ گل رو رخصت ہو گا کہ جس کے دم سے ہماری نگاہ میں چمک اور اور قلب میں رونق ہے تو ہم کس طرح ان اجڈ طالبان کےطعنے سنیں گے جنہیں دنیا کے 44 ممالک مل کر بھی نو سالوں میں انسانیت کا سبق نہ سکھا سکے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ ہمارے دوست کی دم پر طالبان کا پائوں زیادہ زور سے پڑ رہا ہے اور اس کی دردناک چیائوں ہماری نیندیں اڑا رہی ہے۔ ہمیں ڈر ہے کہ دوست کے رخصت ہونے پر طالبان کی نظر کہیں ہماری دم پر نہ پڑ جائے۔ لوگو کیا ستم ہے کہ طالبان کو امریکا سے ڈراتے ڈراتے ہم خود ڈر کی صورت بن گئے ہیں۔ جس کھونٹے کے زور پر ہم دہشت گردی کی جنگ کے کارزار میں اندھا دھند اچھلتے رہے اب اس کے اکھڑنے کا سن کر جانے ہماری سانسیں کیوں اکھڑ رہی ہیں! ہمارا دکھ کون سمجھ سکتا ہے ۔ ہمارے دوست کو طالبان کی شر پسندیوں سے ذرا فرصت ملتی تو ہمارا دکھڑا سنتا اور سمجھتاپر اسے تو جانے کی پڑی ہے ہم اب کس کو اپنا دلِ ریزہ ریزہ دکھائیں؟؟؟؟