جمعہ، 28 مئی، 2010

نئے دو قومی نظریے کی ضرورت

وہ سادہ لوح پاکستانی جو درسی کتابوں میں ناقابلِ تسخیر ملکی دفاع اور دشمنوں کے دانت کٹھے کرنے کے مظاہروں پر مشتمل ایمان افروز قصے پڑھ پڑھ کر پاکستان کے دفاع کو واقع سیسہ پلائی ہوئی دیوار سمجھنے لگے تھے اب قبائلی علاقوں پر امریکی ڈرونز کے پے در پے حملوں پر نہایت غصے میں بھرے بیٹھے ہیں اور انہیں سمجھ نہیں آرہی کہ وہ جری فوج جو دشمن کی ذرہ بھر جارحیت کا نصابی کتابوں میں منہ توڑ جواب دیا کرتی تھی برستے میزائلوں کی بارش میں بھی اب ٹس سے مس کیوں نہیں ہو رہی۔ نسیم حجازی کے جوش آور ناولوں میں زندہ رہنے والے یہ بے چارے پاکستانی اتنا نہیں جانتے کہ دورِ جدید میں زمینی تقاضوں کے بدلنے سے اندازِ دفاع میں بھی بنیادی تبدیلیاں آئی ہیں چناچہ اب خالد کی تلواریاٹیپو کی للکاربننے کی بجائے امریکہ کا حاشیہ بردارہو جانازیادہ فائدے کا سودا ہے۔

ضروریات جدیدہ سے نابلد یہ بے چارے نئی رت کے اس پیغام کو سمجھ نہیں پارہے کہ ملکی خود مختاری کا وہ فرسودہ تصور جو صدیوں سے اقوامِ عالم کے درمیان کشت و خون کی وجہ تھا اب کم از کم پاکستان نے اس سے جان چھڑا کر اہنسا کی وہ پر امن راہ اختیار کی ہے کہ سابقہ تما م نظریات کوباطل ثابت کر دیا ہے۔ پاکستان کے خلاق دفاع کاروں کے وضع کردہ اس انوکھے نظریہ خود مختاری کے مطابق ڈرون حملوں ، غیر ملکی ایجنسیوں کی آزادانہ خرمستیوں اور طاقتور استعمار کے آگے ناک رگڑنے سے کسی ملک کی خود مختاری پر کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ جدت طرازی کے اس نادر نمونے کا خلاصہ یہ ہے کہ جب تک پاکستان کے محترم حکمرا ن عوام کو بے وقوف بنانے کے اپنے دیرینہ شغل میں آزاد ہیں ، جب تک ان کی بد عنوانی و اقربا پروری پر کسی کو انگلی اٹھانے کی اجازت نہیں ، جب تک ان کی شراب و کباب کی محفلوں پر قدغن لگانے والا کوئی نہیں پاکستان خود مختار ہے چاہے اس کے درو دیوار ڈرون حملوں سے لرزتے رہیں، چاہے اس کے کوچہ و بازارغیر ممالک کی خفیہ ایجنسیوں کے ہاتھوں بم دھماکوں کا تختہ مشق بنے رہیں اور چاہے وہ عالمی استعمار کے ہاتھوں کٹھ پتلی کی طرح ناچ ناچ کر پاگل ہوتا رہے۔
ہم یہ تو نہیں جانتے کہ پاکستان کے کس شتر مرغ نے امریکی آندھی سے ڈر کر اس نئے نظریے کی ریت میں سب سے پہلے اپنا سر چھپانے کی کوشش کی لیکن اتنا بحرحال اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ مشرف دور کا تحفہ ہے کہ ایسی منفرد اختراعات اسی کے دور میں جنم لے سکتی تھیں۔مشرف اور اس کے قابل مشیر اس کبوتر سے یقیناََ زیادہ ذہین تھے جو بلی کو دیکھ کر آنکھیں بند کر لیتا ہے کہ وہ صرف آنکھیں ہی بند کرنے کے ہی قائل نہ تھے بلکہ جارح بلی سے مل کر اپنے ہم نسلوں کا قتلِ عام کروا کے اپنی کھال بچانے کے سنہری اصول پربھی کار فرما تھے۔حکومتِ موجودہ نے نہ صرف مشرف سے ورثے میں ملنے والے اس انوکھے نظریہ خودمختاری کا دل و جاں سے تحفظ کیا ہے بلکہ اس کی تابانی کو چار چاند لگانے کے لیے دن رات ایک کر دیے ہیں۔ مشرف کی آمریت میں ہماری خودمختاری کی نمائش کے لیے امریکا اگر ایک ماہ میں چار حملے کرتا تھا تو اب دورِ جمہوریت کی برکت سے یہی تعداد چالیس تک جا پہنچی ہے۔ہماری خودمختاری کی عالمی سطح پر تشہیر کے بعد بھی ہمیں حیرت ہے کہ ہمارے وزرائے کرام کو جانے کس کو سنانے کے لیے وقتاََ فوقتاََ یہ بیان داغنے پڑتے ہیں کہ پاکستان کی خودمختاری پر کوئی آنچ نہیں آنے دی جائے گی۔ پاکستان کی خودمختاری اب مجذوبیت کے اس ارفع مقام تک جاپہنچی ہے جہاں واقع ساری دنیا بھی اگر چاہے تو اسے آنچ نہیں دے سکتی اس لیے ہم نہیں سمجھتے کہ ہمارے معزز وزرا کو اس موضع پر اپنا زورِ بیان صرف کرنے کی ضرورت ہے۔

ڈرون حملوں میں جاں بحق ہونے والے مظلو موں کے بارے میں ہمارا قیاس یہ ہے کہ یہ کسی دوسری دنیا کے باشندے ہیں کیونکہ اگر ان کا اس دیس سے تعلق ہوتا تو ’ ہم ایک ہیں ‘ کی دھنوں پر تھرکنے والے وہ عوام جو ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں چند روپوں کے اضافے پر یا بجلی کی چند گھنٹے عدم دستیابی پرسٹرکوں پر نکل سکتے ہیں ان بے چاروں پر ہر روز اترنی والی آگ و آہن کی بارش پر بے حسی کی چادر تانے یوں بے نیاز نظر نہ آتے۔ ہماری احیائے نو پانے والی عدلیہ جو کسی معمولی زیادتی پر بھی سو موٹو ایکشن لینے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتی ہے ڈرون حملوں میں بے نام پاکستانیوں کے قتلِ عام پر لب کھولتے ہوئے اس بے چاری کے بھی پر جلتے ہیں چناچہ اس نے یہ کہہ کر کہ قبائلی علاقے اس کے دائرہِ اختیار میں نہیں آتے سارے جھنجٹوں سے جان چھٹر ا لی ہے ۔ ہمیں حیرت ہے کہ سوات میں فلمائی گئی کوڑوں والی جعلی ویڈیو پر تو ہماری عدلیہ کے سو موٹو کا ہتھیار فوراََ حرکت میں آ جاتا ہے لیکن صیہونی حملوں میں مارے جانے والے سینکٹروں بے گناہوں کے خونِ نا حق پر اس کے احساسِ عدل میں کوئی ابال نہیں آتا!!

ہمارے میڈیا کا غالب حصہ بھی، ماسوائے چند باضمیر اردو روزناموں کے ، ہر ڈرون حملے پر یوں انہونی خوشی کا اظہار کرتا ہے جیسے اس کی کامیابی پر حملہ کروانے والے جاسوسوں کے ساتھ ساتھ اس پر بھی ڈالروں کے انعام کی بارش ہو گی۔انگریزی روزناموں اور چینلز کا تو ذکر ہی کیا کہ یہ بے چارے تو دل وجان کا مغرب سے کب کا سودا کر چکے اب تو متعدد اردو روزنامے اور ٹی۔وی چینلز بھی ڈرون سے فائر کیے گئے میزائلوں کے گرنے سے پہلے ہی یہ جانتے ہیں کہ اس میں دہشت گرد ہلاک ہوں گے۔ یہ دہشت گرد شیر خوار بچے بھی ہو سکتے ہیں، پردہ نشیں عورتیں بھی ہو سکتی ہیں اور ضعیف العمر بوڑھے بھی ۔جس طرح حملہ آورامریکی ڈرونزسے ہمارے میڈیا کی رو حانی وابستگی ان پر بر وقت یہ الہام نازل کر دیتی ہے کہ اس حملے کا نشانہ صرف دہشت گرد ہی بنیں گے اسی طرح انہیں یہ بھی فوراََ پتہ چل جاتا ہے کہ نشانہ اجل بننے والوں میں متعدد غیر ملکی بھی ہوں گے۔شاید حکمرانوں کی دیکھا دیکھی اب ہمارے میڈیا نے بھی تاریخ سے یہ سبق سیکھ لیا ہے کہ امریکہ کے تلوے چاٹنے سے ہی معدے میں وہ خوشگوار اثرات پیدا ہوتے ہیں جس سے صحت دن دگنی ترقی کرسکتیہے۔

پاکستان میں سیاسی جماعتوں کے نام پر کام کرنے والے مفاد پرستوں کے وہ ٹولے جن کی پاکستانیت عموماَََ ا فیون زدگی کی حالت میں اونگھتی رہتی ہیں اور صرف انتخابات کا قرب ہی ان کے مجہول جسموں میں زندگی کی لہر دوڑا پاتا ہے قومی اہمیت کے تمام معاملات سے چشم پوشی کرنے میں خاص ملکہرکھتے ہیں۔ حصولِ اقتدار کے لیے پاکستانی عوام سے نت نئے ڈرامے رچانے والی ہماری تمام سیاسی جماعتوں نے پاکستان کی خومختاری کے اس ڈرونی تماشے پر جس بے مثل بے حسی کا مظاہرہ کیا ہے وہ ان کی پاکستان اور پاکستانیوں سے محبتکامنہ بولتا ثبوت ہے۔امریکا کو اپنا ملجاو ماوا ماننے والے ہمارے نام نہاد سیاست دان ڈرون حملوں کے خلافبولنے کی سکت کچھ اس وجہ سے بھی نہیں رکھتے کہ ڈرون حملے کرنے والے ہی تو ان کی تقدیروں کے فیصلے کرتے ہیں ۔ چناچہ اپنے آقاؤں کے خلاف بول کر یہ سیاست کے کالے پانی جانے کی حماقت بھلا کس طرح کر سکتے ہیں!! لے دے کہ ہمارے پاس تحریکِ انصاف یا جماعتِ اسلامی کی کمزور آوازیں رہ جاتی ہیں جن سے کم از کم دنیا کے سامنے یہ ڈھکوسلا تو بنا رہتا ہے کہ پاکستانیوں کی زندہ لاشوں میں ابھی غیرت کی ہلکی سی رمق باقی ہے۔

علمِ سیاست کے تمام مفکرین یک زبان ہیں کہ فرد کی جان و مال کا تحفظ ریاست کی ان بنیادی ذمہ داریوں میں سے ایک ہے جس میں ناکامی پر ریاست فرد سے وفاداری کا استحقاق کھو دیتی ہے۔پاکستانی ریاست چونکہ دنیا کی ایک انوکھی مثال ہے اس لیے اس پر سیاسیات کے یہ عام نظریے تو لاگو نہیں کیے جا سکتے لیکن ا تنا بحر حال واضح ہے کہ پاکستان کے حکومتی و انتظامی ادروں سمیت عوام نے پاکستانی ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے ۔ ایک وہ عام پاکستان جس میں ہماری بے حسی اور ہمارے حکمرانوں کی عیاشیوں اور مسخرے پن کے تحفظ کے لیے ہماری پاک فوج ہر دم چوکس رہتی ہے اور دوسرا وہ قبائلی پاکستان جس کی فضائیں امریکی میزائلوں کے حملوں سے لرزیدہ رہتی ہیں اور جو عملی طور پر امریکی استعماریت کے مشقِ ستم کا نشانہ بننے کے لیے ہم نے اس کے حوالے کر دیا ہے۔ ہمارے رویے ان دو پاکستانوں کے بارے میں حیران کن حد تک جدا جدا ہیں۔ پہلے پاکستان میں چبھنے والے کانٹے کی کسک ہماری حکومت سے لے کر عوام تک اور فوج سے لے کرعدلیہ تک ہر کوئی اپنے قلب میں محسوس کرتا ہے لیکن دوسرے پاکستان کے خا ک و خون میں لت پت در و بام ہماری وطنیت کے تاروں کو چھیڑنے میں جانے کیوں ہمیشہ ناکام رہتے ہیں!!  اگر خاکم بدہن امریکا کے ڈرون اسلام آباد یا لا ہور پر میزائلوں کی ویسی ہی بارش کرتے جیسی وہ آئے روز قبائلی علاقوں میں کرتے رہتے ہیں تو کیا ہم اس جارحیت پر بے حسی کا یہی لحاف اوڑھ کر ایسے ہی اونگھتے رہتے ؟ اس سوال کا یقینی نفی میں جواب ہی ہمیں بتا تا ہے کہ ہم پاکستانی ایک نہیں ہیں ۔اپنے ہی ملک کے دو حصوں کے بارے میں ہمارے رویوں میں یہ تضاد ثابت کرتا ہے کہ اتحاد و یک جہتی کی تمام باتیں صرف من گھڑت ا فسانے ہیں ۔ہندوستان کے مسلمانوں کو ہندؤں کی چیرہ دستیوں سے بچانے کے لیے دو قومی نظریہ دیا گیا تھااب پاکستانیوں کو پاکستانیوں کی سنگدلانہ بے حسی سے بچانے کے لیے کسی نئے دو قومی نظریے کی ضرورت ہے۔

اتوار، 16 مئی، 2010

کھوئے ہوؤں کی جستجو

ایسا نہ تھا کہ اس دیس کے کوچہ و بازار میں پرویزیت کا طاعون پھیلنے سے پہلے دودھ کی نہریں بہتی ہوں، خوشیوں کے زمزمے گونجتے ہوںیا امن و آشتی کی ہوائیں چلتی ہوں۔ ظلم و جبر کی سیاہ آند ھیاں اہلِ گلشن کے چین کو تب بھی اجاڑے رکھتی تھیں، بھوک و افلاس کے ناگ ان کے سکون پر تب بھی اپنا بد رو پھن پھیلائے پھنکارتے رہتے تھے اور اہلِ حکم امریکی در پر سجدہ ریزی کو تب بھی حزرِ جاں بنائے ہوئے تھے پراس دورِ سیاہ سے قبل ایسا کبھی نہ ہوا تھا کہ ہوسِ اقتدار میں اندھے ہو کر کسی نا عاقبت اندیش نے اپنے دیس کی عفتوں کادام و درہم کے عوض کسی استعماری سوداگر سےسودا کر لیا ہواورایسابھی کبھی نہ ہو ا تھا کہ قوم نے اجتماعی بے غیرتی کی چادر اس سہولت کے ساتھ اتنے طویل عرصے تک تانے رکھی ہو۔
 جب پرویز مشرف اور اس کے چوہوں نے سرزمینِ پاک کے کھیتوں اور کھلیانوں کو اپنی خر مستیوں سے اجاڑنا شروع کیا تو اہلِ نظر کا ماتھا اس وقت ہی ٹھنک گیا تھا کہ یہ چوہے وہ عام دراندازیےنہیں جو کچھ وقت کے لیے چند باغوں کو ادھیڑیں گے ، کچھ کھلیانوں میں کتر بیونت کریں گے اور اپنا راستہ ناپیں گے بلکہ یہ تو وہ طاعون زدہ نسل ہے جو ساری بستی کو مرگِ انبوہ میں مبتلا کر دیں گے۔ پاکستانی
  قوم جوہمیشہ سے صبر کے گھاٹ پرقومی مفادات کو قربان کرتی چلی آئی ہے چوہا گردی کے اس دور میں بھی خاموش تماشائی بنی گلشن کے اجڑنے کا تماشا دیکھتی رہی ۔ سب سے پہلے پاکستان کے تھیٹر پر مشرف اور اس کے گر گوں نے جو مضحکہ خیز کرتب دکھائےاب تاریخ کا حصہ بن کر تا قیامت حساس پاکستانیوں کے احساسِ تفاخر و خودداری کو گھائل کرتے رہیں گے۔

سن 2003 ء کے نامسعود لمحوں میں جب مشرف نے وطن کی ایک بیٹی کا اپنے صلیبی یاروں سے سودا کیا تو اس کی رگوں میں بہنے والے رقاص خون کی گردش پر یقیناًکوئی اثر نہیں پڑا ہوگا کہ غیرت و حمیت کے جملہ مسائل سے وہ یکسر پاک تھا۔ مشرف کے گرد جمع ضمیر فروشوں کے ٹولے پر بھی اسلامی تاریخ کے اس شرمناک ترین سانحے کا کوئی اثر نہیں ہوا ہو گاکہ ہوسِ اقتدار میں وہ اس حد تک جا چکے تھے جہاں انہیں سب ہرا ہی ہرا نظر آرہا تھا۔ مشرف ایسے ابلیس صفت مسخرے کی کاسہ لیسی نے ان کے اندر بھی اسی جیسے خصائص پیدا کر دیے تھے چناچہ وہ سیاسی کرتب دکھانے کے علاوہ اور کچھ نہ کر سکتے تھے۔ لیکن ہمیں حیرت ہے تو پاکستان کے ان اداروں پرکہ بظاہر جن کا محور و مرکز کسی فرد کا اقتدار نہیں بلکہ پاکستان کی بقا و سلامتی ہے۔ وطن کی سالمیت کے ٹھیکیدار ان اداروں کے وہ اہلکار جنہوں نے مشرف کے حکم پرڈ اکٹر عافیہ کو نجس امریکیوں کے حوالے کیا یقیناًاپنے اس فعل کے گھناؤنے پن سے اچھی طرح واقف تھے۔ مشرف اور اس کے گر گے تو ایسے قبیح افعال امریکی خوشنودی کے ذریعے اپنے ناجائز دورِ آمریت کو طول دینے کے لیے کرتے رہے لیکن وطن کے ان رکھوالوں کو اس سے بجز ابدی لعنت گلے میں ڈالنے کے اور کیا حاصل ہوا کہ وہ اپنے ہاتھوں کو اس شرمناک فعل سے آلودہ کر بیٹھے؟  یہ تسلیم کرنا مشکل ہےکہ مشرف کے یزیدی احکامات پر عمل کرنے والے ان تمام اہلکاروں میں غیرتِ ملی اور حمیتِ قومی کی آخری رمق تک سوکھ چکی تھی تاہم اتنا بحر حال ماننا  پڑتا ہے کہ وہ تاریخ اسلامی کے بابِ غیرت و عزیمت کو یقیناً فراموش کرچکے تھے۔ ہم یہ تو نہیں جانتے کہ پاکستانی قوم کبھی اِن سیاہ کاروں کو جان سکے گی یا وہ یوں ہی چپ چاپ مشرف کی معیت میں سوئے جہنم روانہ ہو جائیں گے لیکن اتنا ہمیں یقین ہے کہ امریکی اذیت گاہ میں سسکتی ہماری مظلوم بہن کی آہیں ان کے خرمنِ سکون پرصدا بجلیاں گراتی رہیں گی۔

امریکا کے متعصب نظام انصاف نے مظلوم عافیہ کو جن جرائم کی سزا سنائی خود امریکی اچھی طرح جانتے ہیں کہ عافیہ کا اصل جرم یہ نہیں۔ اسلامی نظامِ حیات اور احیائے اسلام کی تڑپ وہ اصل جرائم ہیں جو امریکی استعمار کے نزدیک ناقابلِ معافی ہیں کہ یہ امریکی چو دھراہٹ کے راستے میں رکاوٹ پیدا کر نے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ عافیہ اور اس جیسے ہزاروں اسلام پسند ان ہی مقدس جرائم کی سزا پا رہے ہیں۔ مصائبِ قید و بند اسیرانِ اسلام کے لیے کوئی نئی بات نہیں کہ شعبِ ابی طالب سے لے کر گوانتانامو بے تک کی چودہ سو سالہ داستانِ عزیمت ان کی ہمیشہ سے زادِ راہ رہی ہے ۔ عافیہ صدیقی اسی بے مثل سلسلے کی کڑی بن کر اپنے نحیف و نزار جسم پر وہ اندو ناک مظالم برداشت کر رہی ہے جن کو صرف سوچنے سے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ساری دنیا پر غرانے والا امریکا صرف ایک کمزور لڑکی کے جذبہ ایمانی سے کس قدرخوفزدہ ہے کہ اسے پھسپھسے الزامات کے ذریعے ہر صورت پابندِ سلاسل رکھنا چاہتا ہے۔ عافیہ کا دکھ ساری قوم کا دکھ ہے پر اس قوم کا جو فالج زدہ ہو کر قوتِ عمل کھو چکی ہے اور اب سوائے غم زدہ ہونے کے کچھ نہیں کر سکتی۔

پرویز مشرف کے سبز قدم اس دیس سے اٹھے تو امید کی اس حو صلہ افزا کرن نے سر اٹھایا تھا کہ شاید اب عوام کے کندھوں پر چڑھ کر اقتدار کے ایوانوں تک پہنچنے والی جمہوری حکومت پاکستانی قوم کو خود مختاری اور خودداری کی دولتِ گم گشتہ واپس دلوا دے گی۔ آس کے بوٹے پر خوش گمانی کی اس کونپل نے آنکھ کھولی تھی کہ اس دیس کے وہ جگر گوشے جنہیں مشرف کا ڈالر زدہ عفریت امریکی استعمار کے ہاتھوں نہایت بے دردی سے بیچتا رہا اب ہمیں واپس مل جائیں گے۔ رجائیت کی اس لہر نے چند ساعتوں کے لیے ہماری رگوں میں حیاتِ نو کی یہ رو دوڑا دی تھی کہ امریکی اذیت خانوں میں سسکتے ہمارے تیرہ بخت بھائیوں اور بہنوں پر اتری سیا ہ رات کو اب سویرا نصیب ہو گا پر ہمیشہ کی طرح ہماری امیدیں ریت کے وہ کچے گھروندے ثابت ہوئیں جنہیں جمہوری آندھی کے پہلے ریلے نے ہی خاک میں ملا دیا۔ پرویزی نظام تلے اس آس پر قطرہ قطرہ جیتے تھے کہ جمہوریت کی دیوی آکر اس دیس پر تنی بد بختی اور بے غیرتی کی سیاہ چادر تار تار کر دے گی اور ہماری آنکھوں سے بے بسی کے آنسو پونچھ کر لبوں پر امید کی مسکراہٹیں بکھیر دے گی پر جمہوریت کی گھمبیرتا میں اب ہم سر بہ گریباں ہیں کہ کس امید پر زندگی کریں؟

ہماری کو تاہ نظری کہ ہم ان بونوں کو اپنے قد آور حکمران سمجھ بیٹھے جو خود بے چارے تار پر تنےکٹھ پتلوں سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتے کہ ان کا مالک جس حد تک چاہتا ہے انہیں نچاتا ہے جہاں چاہتا ہے ڈور کھینچ کر انہیں صمم بکمم کر دیتا ہے۔ان خالی ڈبوں سے ہم نے یہ توقع باندھی تھی کہ وہ اس دیس کی مظلوم بیٹی کو امریکی قید سے نکال لائیں گے جو خود امریکی آکسیجن پر اپنے فریبِ اقتدار کو زندہ رکھے ہوئے ہیں ۔ا ہلِ حکم ہونے کے سراب میں گرفتار یہ تو وہ مکروہ مہرے ہیں جو امریکی سامراجیت کے جنگلی پودے کو اپنے وطن کے خون سے سیراب کرنے کے صلے میں حکومت کا پروانہ حاصل کرتے ہیں۔ شیطانِ عظیم کے پنجوں سے عافیہ کو نکال لانا تو رہی دور کی بات یہ تو اپنے ملک کی منہ زور ایجنسیوں کے عقوبت خانوں میں زندہ درگور سینکڑوں حرماں نصیبوں پر طاری تیرگی کو صبحِ نور سے بدلنے کی ہمت بھی نہیں رکھتے۔

تو اے لوگو ہم ان کاٹھ کے الوؤں کے آگے بین بجانے کی بجائے کیوں نہ ان بازی گروں سے مخاطب ہوں جو طاقت کی اصل رتھ پر سوار ہیں؟ ہم کیوں نہ باوردی جوکروں ، ٹائی زدہ روبوٹوں اور پتھر دل مجسموں سے التجا کریں؟ جی کڑا کر ہم یہ فریاد باوردی جوکروں تک کیوں نہ پہنچا دیں کہ حضور آپ نے اس دیس کی بہت حفاظت کر لی اب خدارا اپنے اس مقدس فریضے کی قربان گاہ پر اس مظلوم دیس کی سلامتی کو صلیب مت دی جیے۔ ہم کیوں نہ ٹائی زدہ روبوٹوں تک ان کی سریا دار گردنوں کا واسطہ دے کر یہ عاجزانہ التجا پہنچا دیں کہ سر کار آپ کے نظمِ ملکی نے اس دیس کو نمونہ جنت بنا دیا ہے اب برائے مہربانی اپنی خداداد انتظامی صلاحیتوں کو واپس اپنی زنبیل میں ڈال لی جیے۔ ہم کیوں نہ خفیہ آستین والے سنگ دل مجسموں کو اپنے ان بینوں سے پگھلانے کی کوشش کریں جو ان کی اندھی قید میں سسک سسک کر جرمِ بے گنہی کی سولی پر لٹکتے ہمارے سینکڑوں اہلِ وطن کے دکھ نے ہمارے سینے میں ڈال دیے ہیں۔

پر ہم کیسے بولیں کہ ہماری زبانیں تو بے حسی کے بخار نے گنگ کر دی ہیں ۔ ہم کیسے کچھ کہیں کہ ہماری گویائی تو بے غیرتی کے وائرس نے چھین لی ہے اور ہم بجز اس کے کہ پتھرائی ہوئی آنکھوں سے اپنے وطن کے اجڑنے کا تماشا دیکھیں اور کر بھی کیا سکتے ہیں۔ وطن کی فضائیں مظلوموں کی آہوں سے لرز رہی ہیں ، وطن کے کھیتوں کھلیانوں میں حسینی لشکرکے لاشے بکھرے پڑے ہیں، وطن کے دریا بے کسوں کے خون سے رنگین ہو چکے ہیں اور ہم چپ ہیں کہ ہمیں ابھی بہت سے کام کرنے ہیں۔ ہم چپ ہیں کہ ہمیں اپنی تجارتیں، اپنی ملازمتیں اور اپنی سیاستیں اپنے ملک سے زیادہ عزیز ہیں۔71 ء میں جب مشرقی پاکستان جل رہا تھا ہم اسی طرح بت بنے تماشا دیکھ رہے تھے آج جب باقی مانندہ ملک جل رہا ہے ہم چپ کا تالا زبانوں پر ڈالےبدستورمحو تماشا ہیں۔

جمعہ، 7 مئی، 2010

سابق صدر سے بیہمانہ سلوک اور ہماری ذمہ داریاں

پاکستانی قوم ابھی اپنے عظیم قائد پرویز مشرف کے سکیورٹی سکواڈ کے ویزوں میں توسیع نہ دینے کے غیر منصفانہ بر طانوی فیصلے پرچیں بہ جبیں ہونے کی تیاری کر ہی رہی تھی کہ امریکی ائیر پورٹ پر روشن خیالی کے امام عالی مقام ہمارے کمانڈو قائد کو بیلٹ اور جوتے اتروائی کی مضحکہ خیز رسم سے گزار کر امریکا نے ہمیں بھو نچکا ہونے پر مجبور کر دیا ۔ ہم تو سمجھ رہے تھے کہ ہمارے قائد نے امریکی دوستوں سے وفاداری کی وہ درخشاں تاریخ رقم کی ہے کہ اب احسان مند امریکی تا حیات ان کے گن گائیں گے اور ان کی خاکِ پا کو اپنی آنکھوں کا سرمہ بنائیں گے لیکن بد ترین طوطا چشمی کے اتنے شرمناک مظاہرے کا تو ہم تصور بھی نہ کر سکتے تھے کہ جنگِ دہشت گردی کے اس جری سپہ سالارکی یوںمعمولی ائیر پورٹ اہلکاروں سے دن دیہاڑے توہین کر وائی جائے گی۔
 اگربرطانیہ ہمارے اس عظیم مصلح کی عافیت کو اب اتنا اہم نہیں سمجھتا اور ہمارے ایس ایس جی کے جانباز کمانڈوز کو مشرف کی رکھوالی کیلئے وہ مزید اپنے ملک میں برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں تو بات سمجھ بھی آتی ہے کہ ہم نے بر طانوی تاج کا سابقہ غلام ہونے کے باوجود اس کی وفاداری کا اس قدر دم کبھی نہیں بھرا کہ اس کے لیے اپنا تن من دھن نچھاور کر یا ہو لیکن ہمیں حیرت ہے تو اپنے امریکی دوستوں پر جو وفا شناسی کے مروجہ تمام اصولوں کو فراموش کر کے جانے کیوں ہمارے عظیم قائد کے ساتھ اس قدر ہتک آمیز سلوک روا رکھنے کاقبیح وطیرہ اختیار کر بیٹھے ہیں۔


کینیڈی ائیر پورٹ پر جب سکیورٹی اہلکار نے ہمارے سابق صدر سےجوتےاتارنے کی فرمائش کی ہوگی تو یہ سوچتے ہوئے کہ دہشت گردی کی جنگ میں امریکہ کے لیے ان کی خدمات سے واقف یہ احسان شناس شاید ان کی قدم بوسی کرنا چاہتا ہے مشرف صاحب نے فوراََ اپنے قدموں کو جوتوں کی قید سے آزاد کر دیا ہو گا لیکن بیلٹ اتارنے کا دوسرا نادر شاہی حکم ہمارے ا س عظیم قائد کی سماعتوں پر یقیناًبم بن کر گرا ہو گا۔ عالمِ مد ہوشی میں چارو نا چار اپنی بیلٹ کے بکل کھولتے ہوئے ایک لمحے کے ہزارویں حصے میں ہمارے اس فاتح کارگل و لال مسجد کے دماغِ فلک تاز میں امریکہ سے اپنی وفاداری کے جملہ منظر ایک ایک کر کے گھوم گئے ہوں گے۔ آزردہ دل سے اس نے ان ساعتوں کو آواز دی ہو گی جب رچرڈ آرمیٹیج کی ایک فون کال نے اس کے کمانڈو پن میں سے ہوا نکال کر اسے امریکی چوکھٹ پر سجدہ ریز ہونے پر مجبور کر دیا تھا۔ اس نے ان لمحوں کو یاد کیا ہو گا جب اپنے ملک کو امریکہ کی جنگِ دہشت گردی کا ایندھن بنانے کے لیے اس نے فرنٹ لائن اتحادی ہونے کا میڈل حاصل کیا تھا اور وفادارانِ بش کی فہرست میں اس کا نام سب سے اوپر لکھا گیا تھا۔ ان مبارک ساعتوں کو اس نے نمناک آنکھوں سے یا د کیا ہوگا جب اپنے وطن کے سینکڑوں مظلوموں کو امریکا حوالگی کے صلے میں دنیا کی تقدیروں سے کھیلنے والے جادوگر امریکیوں کے نازک لب صبح شام اس کے نام کی مالا جپتے تھے۔ امریکہ پرستی کے آئینِ نو سے نابلد قبائلی علاقوں پر آگ و آہن کی بارش سے لے کر محصورینِ لال مسجد پر فاسفورس بموں سے حملوں تک امریکا کے اشارہِ ابرو پر کیے جانے والے اپنے ایک ایک کارنامے کو اس نے پردہِ دماغ پر تازہ کیا ہو گا۔ اپنے امریکی آشناؤں کواپنے وطن کی سر زمین ڈرون حملوں سے پامال کرنے کی بخوشی اجازت دینے سے لے کر ان کی ایک ایک ادا پر اپنے ملک کی خود مختاری و سالمیت داؤ پر لگانے تک کی جملہ وفاداریاں اسے یاد آئی ہوں گی اور ڈبڈباتی آنکھوں سے اس نے یارانِ بے پرواہ کی ناقدری کا ماتم کیا ہو گا۔ زمانے کی یہ الٹی چال دیکھ کر اس کا دل کس قدر کٹ کٹ گیا ہو گا اور اسے وہ مکا بہت یاد آیا ہو گا جو دورانِ صدارت وہ اپنے ملک کے عوام کو موقع بے موقع دکھایا کرتا تھا۔


خود مختار پاکستان کے ایک سابق صدر اور ہماری بہادر افواج کے بہادر تر سپہ سالار کے ساتھ امریکا کے اس ناروا سلوک کی جس قدر مذمت کی جائے زیادہ ہے ۔ جس طرح آئینِ وفاداری نبھانے میں مشرف نے اس جانور کو بھی مات دے دی جو فنِ وفاداری میں بدنامی کی حد تک مشہور ہے اسی نسبت سے امریکا کو مشرف کی نمک حلالیوں کا صلہ دینا چاہیے تھا۔ لیکن بد قسمتی سے امریکا کا ماضی کا ریکارڈ بتا تا ہے کہ دوست داری کبھی بھی اس کا شیوہ نہیں رہا۔ ضرورت پڑنے پر گدھے کو بھی باپ بنا لینے کے سنہری اصول پر قائم امریکا صرف اس وقت تک اپنے پالتو وفاداروں کی ناز بر داریاں کرتا ہے جب تک وہ اس کی سامراجیت کے تحفظ کے لیے کوئی کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ چاہے وہ رضا شاہ پہلوی ہو یا پرویز مشرف صرف اس وقت تک امریکا کی آنکھ کا تارہ ہوتے ہیں جب تک وہ امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے اپنے ملک کی جڑ یں کاٹنے کی استعداد رکھتے ہوں۔ اقتدار کی با گ چھنتے ہی اپنے تئیں آسمان کے ستون سمجھنے والے یہ بے چارے راہنماستم گر امریکیوں کی نظروں میں چلے ہوئے کارتوسوں سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتے کہ مردہ گھو ڑوں پر شرطیں لگانا امریکی آئینِ سیاست کا حصہ نہیں۔ جب تک مشرف امریکا کے استعماری ایجنڈے کا پرزہ بن کر اپنے وطن کو خاک و خون میں نہلاتا رہا امریکا سے شاباشیاں لیتا رہا اب جب کہ اقتدار کی دیوی کا سایہ اس مظلوم سے چھن گیا ہے تو امریکی سکینگ مشینوں پر کھڑا کر کے جانے کیوں اسے نشانہ عبرت بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔


خواب غفلت میں اونگھتی ہوئی ہماری قوم کو اس نازک لمحے پر متحد ہو کر اپنے عزیز قائد کے لیے آواز بلند کرنی چاہیے۔ ہمیں اپنی تمام کھوئی ہوئی ہمتیں مجتمع کر کے امریکا سے کم از کم یہ سوال تو کرنا چاہیے کہ اس نے اپنے اس قدر وفاداردوست سے ایسا بیہمانہ سلوک کیوں کر برتا۔ یہ تو سوچابھی نہیں جا سکتا کہ مشرف کی تلاشی دہشت گردی کی روک تھام کے لیے اختیار کی گئی احتیاطی تدابیر کا حصہ تھی۔ امریکی دہشت گردی کے فروغ کے لیے مشرف کی خدمات سے امریکا کا بچہ بچہ واقف ہے اس لیے اس بات کا کوئی امکان نہیں کہ کینڈی ائیر پورٹ کے سکیورٹی اہلکار مشرف کو جانتے نہ تھے یا انہیں اس پر دہشت گرد ہونے کا شبہ تھا۔اسی طرح مشرف کے خوب رو چہرے کو دیکھتے ہوئے اس پرہیر وئین یا چرس کا سمگلر ہونے کا بھی شک نہیں کیا جا سکتا۔ حکومت چھن جانے پر دولت پیدا کرنے کے جملہ ذرائع بند ہو جانے کے باوجود مشرف مالی لحاظ سے اس حد تک خوشحال ہے کہ اس کو اس قسم کے گھٹیا کاموں کے ذریعے اپنی وہسکی کا خرچہ پورا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ مشرف سے اس شرمناک امریکی رویے کی لے دے کر ایک ہی منطقی وجہ نظر آتی ہے کہ امریکا مشرف کواس کی وفاداریوں کا صلہ اپنے مخصوص ستم گرانہ انداز میں دینا چاہتا ہے۔ بحر حال جو بھی وجہ رہی ہو ہمارے قومی لیڈر کی یہ توہین ساری قوم کے لیے باعثِ شرم ہے اور قوم کے ہر فرد کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس کے خلاف آواز بلند کرے۔ جلسے جلوسوں کے ذریعے امریکا تک یہ پیغام پہنچنا چاہیے کہ ہم امریکا کواپنے قومی ہیر و کی بیلٹ اتارنے کی کبھی اجازت نہیں دیں گے۔ ہمارے موجودہ حکمرانوں کو بھی ہوش کے ناخن لینے چاہئیں اور اس مسئلے پر تمام تعصبا ت کو بلائے طاق رکھ کر امریکا سے کھل کر بات کرنی چاہیے۔ اگرچہ امریکی چاکری میں انہوں مشرف کو واضح طور پر مات دے دی ہے لیکن اقتدارکی رخصتی پر کل کون جانے انہیں بھی مشرف کی طرح دیس بہ دیس پھر کر اپنی بیلٹیں اور جوتے اتروانے پڑیں۔ اگر آج ہماری قوم نے اس نازک مسئلے پر خود داری کا ثبوت نہ دیا اور ہمارے حکمران حقائق سے آنکھیں چرانے کا وطیرہ اختیار کیے رہے تو کل کو امریکا کی دیدہ دلیری کہیں اس قدر نہ بڑھ جائے کہ بیلٹوں اور جوتوں کے بعد پینٹیں اتارنے کی باری آجائے۔ مشرف کی ملک و قوم کے لیے وسیع تر خدمات ہم سے یہ مطالبہ کر رہی ہیں کہ ہم ایسی نا مسعود ساعتیں آنے سے پہلے پہلے امریکا کو یہ احساس دلا دیں کہ اس کی ایسی دراز دستیاں ہمیں سخت ناپسند ہیں۔


افسوس کہ اپنوں کی بے وفائی اور غیروں کی بے اعتنائی نے آج ہمارے عظیم لیڈر کی عظمت کو گہنا کر رکھ دیا ہے۔ نشا نہِ تمسخر و استہزا بنا یہ مردِ روشن خیال شرابِ خانہ خراب میں پناہ لینے پر مجبور ہے۔ سگاروں کے دھوئیں اور شراب کے خمار میں شب و روز اپنے غم بھلانے کی کوشش کرتا یہ عظیم لیڈر قوم کی اجتماعی بے حسی کا شکار ہے۔ اقتدار کی بہار تھی تو کیسے رنگ رنگ کے اور نسل نسل کے فصلی پکھیرو اس کے گرد آ اکھٹے ہوئے تھے اور دن رات اس کی تسبیح پڑھ پڑھ کر اس کا ڈھیروں خون بڑھایا کرتے تھے پر اب موسمِ خزاں کے سیاہ سایوں نے وہ ساری رنگینیاں چھین لی ہیں ۔ اب تو خوش کن یادوں اور صہبا کے سوا اس کے پاس پامال طوائفیں ہی بچی ہیں ۔ پس یہ بے چارہ انہیں پر پونڈ لٹاتا ہے اور اپنے امریکی یاروں کی طرف دزدیدہ نظروں سے دیکھتا ہے کہ کہیں سے اذنِ بار یابی مل جائے تو کھوئی ہوئی بہاریں لوٹ آئیں ۔ جب قوم اپنے لیڈروں کی قدر ترک کر دے اور بے حسی کی چادر تان لے تو لیڈر بے چارہ اس کے علاوہ کر بھی کیا سکتا ہے۔

ہفتہ، 1 مئی، 2010

قاید تحریک کی للکار

ایم کیو ایم کے تا ریخی پنجاب کنونشن نے بدامنی اور مہنگائی کے ستائے ہوئے پنجاب کے مظلوم عوام کو جہاں ایک طرف سستی تفریح فراہم کی ہے وہیں اس اجتماع نے ستم رسیدہ پنجابیوں کو الطاف حسین جیسے عظیم راہنما کی صورت میں وہ نجات دہندہ بھی فراہم کیا ہے جو ان کے تمام مسائل و مصائب کو بوریوں میں بند کر کے انہیں ان سے دائمی نجات دلانے کے فن میں مہارتِ تامہ رکھتا ہے۔اس کنونشن میں ظالم جاگیرداروں کے خلاف الطاف حسین کے نعرہِ مستانہ نے جو اہلِ پنجاب کی اصطلاح میں بڑھک کہلاتاہے بے چارے چو دھریوں اور سرداروں پر لرزہ طاری کر دیا ہے اور انہیں اپنی چودھراہٹیں اور سرداریاں شدید خطرے میں نظر آنے لگی ہیں۔

قائدِ تحریک کے پنجابی عوام سے براہِ راست تخاطب کے اس کامیاب مظاہرے کو ملاحظہ کرنے کے بعد اب ان کو تاہ نظر حضرات کو بھی اپنی رائے فوراََ بدل لینی چاہیے جو اب تک اس عظیم جماعت کو مسخروں اور جو کروں کا ایک بگڑا ہوا ٹولا سمجھتے تھے ا ور آتشِ تعصب انہیں ایم کیو ایم کو متحدہ کی بجائے مسخرہ قومی موومنٹ کہنے پر مجبور کرتی تھی۔
الطاف حسین جب پنجاب کے تین بڑے شہروں کی فضاؤں کو اپنی شعلہ بیانی سے گرما رہے تھے تو حاضرینِ مجالس ان کی قوت تقریر کے ساتھ ساتھ تخیل آرائی پر غیر معمولی گرفت کی بھی مبہوت ہو کر داد دے رہے تھے ۔ پنجاب کے عوام جو اب تک بی بی اور با بو کی بے رنگ تقریریں سننے کے عادی تھے اب جب انہیں الطاف حسین کی سات سروں میں گندھی ظرافت آمیز تقریر سننے کو ملی تو ان کا خوشگوار حیرت میں مبتلا ہو جانا کچھ ایسے اچنبھے کی بات نہیں۔اہلِ پنجاب کی حسِ مزاح یوں بھی ضرب المثل کی حیثیت رکھتی ہے اس لیے امید کی جاتی ہے کہ مستقبل میں قا ئدِ تحریک کے خطابِ خندہ انگیز سے لطف لینے کے لیے وہ جوق در جوق ایم کیو ایم کے کنو نشنوں میں آیا کریں گے۔ قیاس یہ کیا جا رہا تھا کہ پنجاب حکومت قائدِ تحریک کی انقلابی آواز کو پنجاب کے عوام کے کانوں تک نہیں پہنچنے دے گی اور عوامی انقلاب کی راہ میں روڑے اٹکائیں جائیں گے لیکن شہباز حکومت کو قائدِ تحریک کی مقبولیت کا کچھ اس قدر یقین تھا کہ نہ صرف ایم کیو ایم کے کنونشن کو فول پروف سکیورٹی فراہم کی گئی بلکہ شہباز شریف نے یہاں تک کہہ دیا کہ ایم کیو ایم جہاں چاہے جلسہ کر سکتی ہے۔ ہمارے خیال میں شہباز شریف پنجاب میں آلات و وسائلِ تفریح کی کمی سے اچھی طرح واقف ہیں چنا چہ انہوں نے ایم کیو ایم کے پنجاب کنونشن کے ذریعے اہلِ پنجاب کو ہنسنے بولنے کا ایک موقع فراہم کیاہے۔


قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک بد قسمتی سے پاکستانی عوام کی تقدیروں سے کھیلنے کا حق چند مخصوص افراد اور جماعتوں تک محدود تھا ۔ کبھی بنیادی جمہوریتوں کا جھانسا دے کر کبھی روٹی کپڑے اور مکان کانعرہ لگا کر کبھی مذہب کے دھوکے سے اور کبھی روشن خیالی کے سبز باغ دکھا کر پاکستان کے سادہ لوح عوام کوچند گنے چنے افراد اول روز سے ہی تابہ مقدور بے وقوف بناتے آئے ہیں۔ اکیسویں صدی نے سائنس و ٹیکنالوجی کے ذریعے معلومات کا وہ طوفان برپا کیا ہے کہ اب عوام الناس کو الو بنا کراوران کے حقوق غصب کر کے چین کی بنسری بجانا اتنا آسان نہیں رہا جتنا پہلے تھا۔ میڈیا کے ذریعے عوامی شعور کی بیداری نے روایتی سیاست دانوں کے کھوکھلے اور زنگ آلود نعروں کو بے نقاب کر کے رکھ دیا ہے چناچہ اب عوام کو مزید بے وقوف بنانے کے لیے ان خالی کارتوسوں سے کام نہیں لیا جا سکتا۔ ایم کیو ایم جو زمانہ شناس نوجوانوں کی ایک نہایت ہی منظم جماعت ہے حالاتِ حاضرہ کی اس کروٹ پر گہری نگاہ رکھے ہوئے ۔ ایم کیو ایم جانتی ہے کہ فرسودہ نعروں سے عوام کو گمراہ کرنا اب ممکن نہیں رہا ۔ چناچہ متوسط طبقے کو اقتدار کے ایوانوں تک پہنچانے کا نیا نعرہ لگا کر اس منفرد جماعت نے پاکستان کی روایتی سیاست میں کھلبلی مچا دی ہے۔وہ ظالم جاگیر دار جو روزِ ازل سے غریب کسانوں اور پسے ہوئے مزارعوں پر ظلم و ستم کے کوہِ گراں توڑتے آئے ہیں ایم کیو ایم کی للکار کا نشانہِ خاص ہیں۔ مشرف دور سے قبل الطاف بھائی ظالم جاگیر دار وں کے ساتھ جملہ آمروں کو بھی بے نقط صلواتیں سنایا کرتے تھے ارو ان کی مٹی پلید کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتے تھے لیکن مشرف کی گود میں چند سال بیٹھ کراقتدار کے جام سے اصولی لذت کوشی کے بعد اب انہیں آمریت اتنی قابلِ نفرت نہیں لگتی کہ ہر تقریر میں اس کے لتے لیے جائیں۔ اگر پنجاب کے ظالم جاگیر داروں نے بھی مشرف کی طرح ایم کیو ایم کو مناسب مقدارمیں گھاس ڈال دی اور اسے پنجاب میں قدم جمانے کا موقع فراہم کیا تو امید کی جاسکتی ہے کہ قائدِ تحریک ظالم جاگیر دار کےخلاف بھی اپنی للکار پر نظر ثانی فرما لیں۔


پنجاب کے عوام جو اب تک ڈنڈوں اور سوٹوں والی ڈھیلی ڈھالی سیاست سے آشنا تھے ایم کیو ایم کے پنجاب میں نزول کے بعد اب انہیں تڑ تڑاتی ہوئی گولی بردار سیاست کے لیے ذہنی طور پر تیار ہو جانا چاہیے۔ اس انوکھی جماعت سے پنجاب کے عوام کو نت نئے دلچسپ تجربوں سے شناسائی کا موقع ملے گامثلاََ وہ بوریاں جنہیں وہ اب تک دانہِ گندم و دھان وغیرہ کو محفوظ رکھنے کیلئے استعمال کرتے آئے ہیں اب ان کے نئے نئے حیرت انگیز استعمال ان کے سامنے آئیں گے۔اسی طرح بھتہ خوری کا فنِ خصیص جو اس سے پہلے اچکے بدمعاش نہایت ہی بھونڈے اور اجڈ انداز میں برت رہے تھے اب ایم کیو ایم کی آمد کے بعد اسے منظم انداز میں جدید سائنسی خطوط پر استوار کیا جائے گا۔غرض ایم کیو بہارِ تازہ کے جھونکے کی طرح گلستانِ پنجاب کو ہر معاملے میں ترو تازہ کر دے گی۔


ایم کیو ایم کے ان جانثار کارکنوں کو جنہیں یہ کنونشن کامیاب کرنے کے لیے کراچی سے بطور خاص در آمد کیا گیا تھا اگر شرکائے مجلس کی مجموعی تعداد میں سے منہا بھی کر دیا جائے تو پیچھے کرسیوں کے علاوہ خاصی تعداد ان حاضرین کی بچتی ہے جو بقائمی ہوش وحواس اس محفلِ دلپذیر سے حظ اٹھانے آئے تھے۔ اس کثیر تعداد میں اہلِ ذوق کا پنجاب کنونشن میں حاضری دینا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ ایم کیو ایم کا سورج پنجاب میں بھی طلوع ہونے کو ہے اور قائدِ تحریک کے وہ دلچسپ خطاب جو اہلِ کراچی کی سماعتوں میں رس گھولا کرتے تھے اب پنجاب کے عوام بھی ان سے لطف اندوز ہو سکیں گے۔ سلطان راہی مرحوم کے قتل کے بعد یوں بھی اہلِ پنجاب ایک طویل عرصے سے اپنے صوبے کی فضا میں جوش آور بڑھکوں کی کمی شدت سے محسوس کر رہے تھے امید ہے کہ قائدِ تحریک کی پاٹ دار للکار یہ کمی بہت حد تک پوری کر دے گی۔ اسی طرح لاہور کے مزا حیہ تھیٹر جو قابل فنکاروں کی عدم دستیابی کے باعث تیزی سے زوال پذیر ہیں قائدِ تحریک کی تقریریں ان کے احیا کے لیے بھی کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں۔


محرومیوں اور مجبوریوں کے پنجے میں جکڑے ہوئے پنجاب میں یوں تو ایم کیو ایم کو اپنے اصولوں کی سیاست کرنے میں کسی مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا تاہم چند معمولی نوعیت کے مسائل ہیں جن سے نپٹنا ہی ایم کیو ایم کا پنجاب میں اصل امتحان ہو گا۔ کراچی کے تعلیم یافتہ عوام کے بر عکس جو پچھلے لگ بھگ ڈیڑھ درجن سالوں سے الطاف بھائی کے ٹیلیفونک خطابوں کو سنتے سنتے اس فنِ لطیف میں کمال حاصل کر چکے ہیں پنجاب کے نسبتاََکم تعلیم یافتہ عوام کو اس نازک فن پر عبور حاصل کرنے کے لیے کچھ وقت درکار ہو گا۔ ایم کیو ایم کو اپنی فکری نشستوں کے ذریعے جن میں ٹیلیفونک خطاب سننے کے آداب و فوائد پر مفصل بحث کی جائے اہلِ پنجاب کی تہذیب و تربیت کا فوراََ انتظام کرنا چاہیے ۔ بہتر تو یہ ہوتا کہ قائدِ تحریک دیارِ فرنگ چھوڑ کر اپنے اس پیارے دیس واپس تشریف لے آتے جس کی فلاح و بہبود کا خیال انہیں ایک دم کے لیے بھی چین نہیں لینے دیتااور وہ اپنے کارکنوں کے درمیان رہ کر متوسط طبقے کے انقلاب کی راہنمائی کرتے لیکن بدقسمتی سے قتل ،اغوا اور ریپ کے وہ 234 جھوٹے مقدمات جو مخالفین نے قائدِ تحریک کی مقبولیت سے خائف ہو کر ان کے خلاف درج کروائے تھے قائد کی واپسی میں سدِ راہ ہیں۔ ہمارے خیال میں ایم کیو ایم کو ان 234 کیسوں کے مدعیان، گواہان اور وارثان کی صفائی کا کام تیزتر کر دینا چاہیے تا کہ قائدِ تحریک کی واپسی کی راہ میں حائل تمام روڑوں کو مناسب انداز میں ٹھکانے لگا کر پاکستانی سر زمین کو قائدکی قدم بوسی کا اعزاز جلد سے جلد بخشا جا سکے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ عوام کو بے وقوف بنانے پر ن لیگ و پیپلز پارٹی کا اجارہ ختم کر کے عوام کی جماعت کو عوام کی خدمت کا بھر پور موقع دیا جائے ۔ کراچی میں ایم کیو ایم کا درخشاں ریکارڈ بتاتا ہے کہ جیسی عوام کی خدمت کرنے کا جذبہ اور صلاحیت اس جماعت میں ہے اور کسی کو نصیب نہیں۔ قائدِ تحریک کی للکار سے اگر اونگھتے ہوئے پنجابی جاگ پڑے تو یہی بیداری نویدِ انقلاب ثابت ہو گی۔