ہفتہ، 27 مارچ، 2010

قومی یک جہتی

بزرگوں سے سنتے آئے ہیں کہ ہندو بنیا کچھ دیکھ کر ہی گرتا ہے اسکی شاطر نظریں وہ سب کچھ دیکھ رہی ہوتی ہیں جس کا ہم عموماََ ادراک نہیں کر پاتے ۔تشکیلِ پاکستان کے وقت نہرو ریڈکلف گٹھ جوڑ اسی ذہنیت کو آشکار کرتا ہے ۔ ایک سازش کے تحت جونا گڑھ کا مسلم اکثریتی علاقہ بھارت کو دے دیا گیاتا کہ وہ اس کے رستے کشمیر جنت نظیر میں اپنی ناپاک فوجیں داخل کر سکے۔وہ جانتا تھا کہ کشمیر نہ صرف سیاحت کے اعتبار سے سونے کی چڑیا ثابت ہوگابلکہ یہ پاکستان میں بہنے والے تمام بڑے دریاوں کا منبع بھی ہے اور اس پر قابض ہو کروہ کسی بھی وقت پاکستان کو بنجر و بیابان کرسکتا ہے۔

 اُس وقت پاکستان کو خوش قسمتی سے قائدِ اعظم جیسے لیڈر کی مدبرانہ قیادت میسر تھی ۔ آپ نے باطل کے اس گٹھ جوڑ کو بھانپتے ہوئے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا ۔ جسطرح شہ رگ کے بنا زندگی کا وجود ممکن نہیں بلکل اسی طرح کشمیر کے بنا پاکستان ادھورا اور نامکمل ہے ۔ اپنی اس شہ رگ کو عیار دشمن سے چھڑانے کے لیے بے سروسامانی اور ناگفتہ بہ حالت کے باوجو د آپ نے کشمیری حریت پسندوں کی کلی حمایت کا اعلان کیا اور پاکستانی فوج کو اپنے کشمیری بھائیوں کو ہندو بنیے کے چنگل سے بچانے کے لیے متحرک ہونے کا حکم دیا اور قوم کو اس کڑی گھڑی میں یک جہتی سے اپنے حقوق کے لیے لڑنے کا درس دیا۔ مجاہدینِ اسلام کی پیش قدمی جاری تھی اور قریب تھا کہ وہ اپنی دھرتی کو ہنو مانیت کے ناپاک پنجوں سے بچا لیتے کہ مکار بنیا اس مسئلے کو اقوام متحدہ میں لے گیااور اقوامِ عالم سے وعدہ کیا کہ وہ کشمیریوں کو ان کی امنگوں کے مطابق انہیں بھارت یا پاکستان سے الحاق کا حق دے گا۔ قائد کی رحلت کے بعد پاکستان کی نا عاقبت اندیش قیادت ہندو بنیے کی چکنی چپڑی باتوں میں آگئی اور ہندو سرکار نے شیخ عبداللہ کو وزارت کا لالچ دے کر اپنا ہمنوا بنا لیااور جب اس نے کشمیر پر اپنی گرفت مضبوط کر لی تو بھارت نہ صرف استصوابِ رائے کے وعدے سے مکر گیا بلکہ کشمیر کو اپنا اٹو ٹ انگ قرار دینے کا راگ بھی الاپنے لگااور پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت شروع کر دی۔ اردو بنگلہ زبان کا تنازعہ پیدا کر کے مشرقی اور مغربی پاکستان میں ایک دوسرے کے لیے بد گمانیاں اور نفرتیں پیدا کرنے لگا اور گاہے بہ گاہے مختلف تنازعات کو ہو ا دیتا رہا اور بالا آ خر 1971 کو اپنے مذموم مقاصدمیں کامیاب ہو گیا۔پاکستان جو شروع دن سے ہی علاقائی تفریق کا شکار تھا بھارت کی سلگائی ہوئی آگ اس کے لیے زہرِ قاتل ثابت ہوئی اور اس نے اس شکستہ قوم کو مزید پارہ پارہ کر دیا۔
کٹھے پٹھے پاکستان کی نر گسیت زدہ قیادت ان دگرگوں حالات میں بھی اپنے سودو زیاں کا ادراک کرنے میں ناکام رہی اور بھارت پہلے کی طرح باقی مانندہ پاکستان میں بھی صو بائیت کے مکروہ بیچ بونے لگا۔ قوم پرستی کے مرض میں مبتلا اپنے ذاتی مفادات کی آلائشوں میں گھرے وہ نام نہاد علاقائی راہنما جو ہمیشہ سے بھارتی مفادات کے فروغ کے لیے دانستہ یا نادانستہ آلہ کار کے طور پر استعمال ہوتے رہے اور انہوں نے چھوٹے صوبوں کی عوام کے دلوں میں یہ بات پختہ کر دی کہ پنجابی اسٹیبلشمنٹ انہیں کبھی بھی ان کے جائز حقوق خوشی سے نہ دے گی ۔پختون ، بلوچ اور سندھی قومیت کے فتنے کو ہوا دی گئی اور کالا باغ ڈیم جیسے بے ضر ر منصوبے کہ جس کے بارے میں جملہ بین الاقوامی ماہرین متفق ہیں کہ اس سے کسی شہر کے ڈوبنے کا کوئی اندیشہ نہیں اور نہ ہے اس سے کسی علاقے کے بنجر و ویران ہونے کا خطرہ ہے کو پنجابی اسٹیبلشمنٹ کا منصوبہ قرار دے کر اسے کے خلا ف شور و واویلے کا طوفان برپا کر دیا گیا۔ اگر اس عظیم منصوبے کو حقیقت بننے دیا جاتا تو نہ صرف لاکھوں ایکڑ اراضی سیراب ہو کر پاکستان میں سبز انقلاب کی بنیاد رکھتی بلکہ نہایت ارزاں بجلی کا حصول بھی ممکن ہوتا اور اس سے ہماری صنعت و حرفت دن دگنی رات چوگنی ترقی کر تی ا ور ہم یوں کاسہ گداءی لے کر اغیار کے قدموں میں نہ لوٹ رہے ہوتے اور امریکی غلامی کا وہ طوق جو کالا باغ اور اس جیسے دوسرے منصوبوں کی پایہ تکمیل تک پہنچنے کی صورت میں یوں آج ہماری جان کا روگ نہ بن چکا ہوتا۔
ہماری ناعاقبت اندیشی اور نا اتفاقی ہمیں آج اس نہج پر لے آئی ہے کہ غلیظ امریکی ہمیں ڈالروں کے عوض اپنی مائیں تک بیچنے کا طعنہ دے رہے ہیں۔ ہمارے بے حمیت اور بزدل حکمران ہوسِ زر اورحکومت کے لالچ میں اندھے ہو کر ہماری قوم کے سینکڑوں غیور بیٹے اورپاکدامن بیٹیاں امریکی سامراج کے ہاتھ بیچنے جیسے قبیح فعل کے مرتکب ہو کر در اصل ہماری اجتماعی قومی بے حسی کو عیاں کر رہے ہیں۔ بزدلی اور بے حسی کی چادر تانے پاکستان کے سترہ کروڑ عوام آج اپنی ایک عافیہ کو یہوو نصاری ٰ کے چنگل میں یوں مجسم فریاد دیکھ کر بھی سوائے کرلانے اور ممنانے کے کچھ نہیں کر پا رہے۔
آج کا پاکستان اجتماعیت سے کوسوں دور ذاتی مفادات کی کبھی ختم نہ ہونے والی دوڑ میں اندھا دھند شریک ایک ایسی راہِ گم کردہ قوم کا دیس بن چکا ہے جنہیں قوم کہنا بھی لفظ قوم کی تو ہین ہے۔ چھوٹے چھوٹے فروعی مفادات کے گھناؤنے کاروبار میں مشغول یہ ان سوداگروں کا دیس بن چکا ہے جو پاکستان کے حال و مستقبل سے لاپرواہ اپنی اپنی ڈفلی بجانے میں مست ہیں۔ایک طرف ہماری اجتماعی بے حسی اپنے کریہہ ترین روپ میں ہمارے ملکی مفادات کے درپے ہے تو دوسری طرف ہمارا ازلی دشمن ہمیں زک پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔ پاکستان کے حصے کا پانی روک کر زراعت پے انحصار کرنے والے اس بد قسمت دیس کی زمینوں کو بنجر کرنے کا خوفناک منصوبہ ہو یا بلوچستان میں علیحدگی کے بیچ بونے کیہولناک سازش بھارت کا ہندو بنیا ہر دم پاکستان پے ضربِ کاری لگانے کے لیے بے چین نظر آتا ہے۔ جہاں ہمارے کو تاہ بیں حکمران بھارت سے دو طرفہ تعلقات کی پینگیں بڑھانے کے لیے بے تاب نظر آتے ہیں وہیں انڈیا قدم قدم پے اپنے بغضِ باطن کا اظہار کر کے اپنی پاکستان دشمنی کا ثبوت فراہم کر رہا ہے۔اپنوں کی بے اعتنائی اور غیروں کی سازشوں میں گھری ہوئی پاکستانی قوم جانے کب اپنی کھوئی ہوئی منزل پہ اپنے سفرِ گم گشتہ کو دوبارہ شروع کر پائے گی۔

پیر، 22 مارچ، 2010

ہاے لوڈ شیڈنگ

ہمار ے پانی و بجلی کے وفاقی وزیر صاحب جو پچھلے ڈیڑھ سال تک دسمبر 2009 میں قوم کو لوڈ شیڈنگ سے نجات دلانے کا مژدہ سنا کر اس کے مردہ دہانوں میں جان ڈالا کرتے تھے آج کل امتدادِ زمانہ کے سبب کچھ حقیقت پسند ہو گئے ہیں۔ چناچہ اب وہ کوئی متعین تاریخ دینے سے گریز کرتے ہیں اور قوم کو مزید دو تین سال تک صبرِ ایوبی کا درس دے کر اپنے فرضِ منصبی سے عہدہ بر آہونے کی کوشش کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔
 پیپلز پارٹی کی حکومت کو اقتدار کی زمام کار سنبھالتے وقت جو لاینحل مسائل ورثے میں ملے تھے ان میں سے بجلی کا مسئلہ سرِ فہرست تھا جسے پی پی کی عوامی حکومت نے اپنے تئیں عوامی انداز میں حل کرنے کی کوشش کی اور اسی وجہ سے اس کے مختلف لیڈرانِ کرام اپنی بے پناہ قائدانہ صلاحیتوں کے زعم میں اس مسئلے کو در خورِ اعتنا نہ سمجھتے ہوئے چٹکیوں میں اڑاتے رہے
 اوراس مسئلے کے ختم شد ہونے کی کبھی ایک اور کبھی دوسری تاریخ دیتے رہے۔اب دو سالتک مسئلے کو الجھانے کی پے درپے کوششوں کے بعدجب مسئلہ واقع الجھ چکا ہے تو کسی کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا کہ کیا کیا جائے۔ چناچہ وقت گزارو پالسی کے تحت کرائے کے بجلی گھر نصب کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ ان مانگے تانگے کے بجلی گھروں سے بجلی کے نرخوں میں کس قدر اضافہ ہو گا اور اس اضافے سے اس مخلوق کی جسے عام آدمی کہا جاتاصحت کسقدر متاثر ہوگی یہ وہ گنجلک حساب کتاب ہیں جنہیں کرنے کی نہ ہمارے عالی نصب حکمرانوں کو ضرورت ہے اور نہ ہی وہ اس میں پڑ کر اپنا قیمتی وقت بربا د کر سکتے ہیں۔ چناچہ امید کی جاتی ہے کہ پی پی کی حکومت اگر اسی خشوع وخضوع سے بجلی کے مسئلے کا قلع قمع کرنے میں لگی رہی تو وہ آنے والی حکومت کویہ مسئلہ تحفے میں دے کر جائے گی ۔اس سے بحر حال ایک فائدہ تو ہوگا ہی کہ مابعد کے لیڈرانِ کرام کو بھی اپنی قائدانہ صلاحیتوں کے جوہر دکھانے کا بھرپور موقع ملے۔

جمعہ، 12 مارچ، 2010

ذ کر چالیس چوروں کا

رائے ونڈ والے میاں صاحب نے اگلے روز ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اپنے تئیں بڑی جگت ماری کہ مشرف کو علی بابا اور ان کے جملہ حواریوں کو چالیس چور قراردیا۔ ہمارے خیال میں مشرف اور اس کے قبیلے کی سات آٹھ سالہ کار کردگی اور ملک و قوم کے لیے وسیع تر خدمات کو مد نظر رکھتے ہوئے ایسا کہنا صریح زیادتی ہے۔ مخالفین مشرف اور اس کے ساتھیوں کو بھانڈ کہہ سکتے ہیں مسخرے کا لقب دے سکتے ہیں دل کا بوجھ ہلکا کرنے کے لیے ڈاکو اور لٹیرے بھی قرار دے سکتے ہیں لیکن ان جیسی نادر روزگار ہستیوں کو چورٹھہرانا حد درجے کی بد ذوقی ہے۔
 چوری ایک نہایت بزدلانہ اور غیر معقول فعل ہے جس کا پرویزی کابینہ پر الزام دراصل ان کے کارناموں کوگٹھاکر پیش کرنے کی ایک سازش کے علاوہ اور کچھ نہیں۔

میاں صاحب شاید نہیں جانتے کہ فلک برسوں سر پٹکتا ہے تب خاک کے پردے سے ایسے انوکھے انسان نکلتے ہیں۔خیر اس امرمیں میاں صاحب کا بھی کچھ خاص قصور نہیں کہ جس دورِ زریں میں مشرف اور اس کے ساتھی پاکستانی عوام کوااپنے دلچسپ کرتبوں سے ورطہِ حیرت میں ڈال رہے تھے وہ جدہ کے السرور پیلیس میں جلاوطنی کاسرور اٹھا رہے تھے اور پاکستان کے حالات سے زیادہ انہیں عربی مہمان نوازی اور انڈین فلموں سے محضوظ ہونے میں دلچسپی تھی ۔ اس لیے ان کی رائے  میں اگر مشرف علی بابا اور اس کے حواری چالیس چوروں سے زیادہ کیچھ نہیں تو اس پہ حیرت نہیں ہونی چاہیے۔پاکستانی عوام جو جو کامل آٹھ نو سال تک میاں صاحب کے بر عکس عملی طور پر پرویزیت کے رنگ برنگے مظاہرے دیکھتے رہے جانتے ہیں کہ مشرف اور اس کے حواریوں کی خصوصیات کو ٹھیک ٹھیک بیان کرنے کے لیے جو الفاظ چاہیئیں وہ اردو کیا دنیا کی کسی زبان میں موجود نہیں۔نہ علی بابا مشرف کے پائے کا تھا نہ چالیس چور پرویزی ٹولے کے مرتبے کو پہنچتے ہیں۔ میاں صاحب کو یوں انہیں عام سے چور قرار دے کر ان کی صلاحیتوں اور مرتبے کی نفی نہیں کرنی چاہیے۔

ہفتہ، 6 مارچ، 2010

بسنتی بہار

باتوں سے پھول جھڑنے کا ذکر ہم نے فرازصاحب مرحوم کی شاعری میں تو سنا تھا لیکن آپ اسے ہماری کور نگاہی کہئے یا بدنصیبی کہ ہمیں آج سے چند روز قبل تک کسی غنچہ دہن کے لبِ لعلیں سے لفظوں کے جھڑتے پھول دیکھنے کا اتفاق نہ ہوا تھا۔ ہماری اس حسرتِ دیرینہ کو اگلے روز ہمارے نہایت ہر دل عزیز گورنر صاحب نے اپنے بسنتی اعلان سے پورا کرکے ہمیں باغ باغ کر دیا۔
 جب گورنر صاحب اپنے اس عظمِ صمیم کا برملا اظہار فرما رہے تھے کہ وہ عدالت کے بسنت کش فیصلوں اور شہباز حکومت کی معصوم پتنگ بازوں کے خلاف جاری لٹھ برداری کے باوجود نہ صرف اس سال بسنت منائیں گے بلکہ اس کارِخیر کو تاحیات جاری رکھیں گے تو ہمیں واقعتا یوں لگ رہا تھا جیسے گورنر صاحب کا دہن مبارک کوئی موتیے کا لدا پھندا بوٹا ہو جس سے دھڑا دھڑ پھول کلیاں جھڑ رہی ہوں۔

ہم جانتے ہیں کہ ہمیشہ کی طرح گورنر صاحب کے اس اظہارِ شوق کو بھی مخالفین توڑ موڑ کر عوام کے سامنے پیش کریں گے ۔ بسنت کے خلاف عدالتی فیصلوں کے حوالوں سے لے کر ہر سال اس کھیل کے ہاتھوں درجنوں لوگوں کی ہلاکتوں کو ذکر ہو گا ۔ ملک میں بد امنی، بدحالی اور فاقہ کشیوں کا رونا رویا جائے گا ۔ن لیگ کے شعلہ بیان مقرر جو ہمارے گورنر صاحب کی قابلِ ستائش صلاحیتوں سے جانے کیوں ہمہ وقت خائف رہتے ہیں اپنی تقریروں اور بیانوں میں دگرگوں ملکی حالات کو گورنر صاحب کی پتنگ بازی کی معصوم خواہش سے غلط ملط کر کے ان کی بے حسی کا ماتم کریں گے اور انہیں اس نیرو سے تشبیہ دی جائے گی جو روم کے جلنے پر بھی ہر شے سے بے نیاز بانسری بجا رہا تھا۔لیکن ہمیں لاکھ غور کرنے پر بھی یہ منطق سمجھ نہیں آتی کہ بھلا لوگوں کے افلاس کا یا ان کے بھوک کے ہاتھوں خود کشیاں کرنے کا پتنگ بازی سے کیا تعلق؟ ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ہمارے گورنر صاحب جیسے اہلِ ذوق لوگوں کے شوقِ بسنت نے پچھلے پانچ سالوں میں صرف لاہورشہر میں 61 بچوں سمیت 171 افراد کوموت کی نیند سلا یالیکن اس سے بحر حال، ہمارے خیال میں،کسی بھی طرح بسنت بازی کا برا کھیل ہونا ثابت نہیں ہوتا ۔ہماری ناقص رائے میں اس قسم کے حادثات کو چند حفاطتی اقدامات سے بہ آسانی روکا جاسکتا ہے ۔ مثلابسنت کے دنوں میں غیر بسنتی آبادی پر کرفیو نافذ کر کے یا پھر انہیں شہر بدرکر کے بسنت بازی کے سبب ہونے والی غیر ضروری اموات سے بچا جا سکتا ہے ۔ ہمارے گورنر صاحب کے پاس اگر مکمل اختیارات کی ڈور ہوتی اور ن لیگ والے ان کی راہ میں روڑے نہ اٹکاتے تو وہ یقیناًایسے ہی انقلابی اقدامات سے بسنت پر اٹھنے والے تمام اعتراضات رفع کروا دیتے ۔
گورنر صاحب نے اپنے اسی بسنتی بیان میں لاہور میں ہونے والے حالیہ فیشن شو کی بھی مدح فرمائی ا ور اسے ثقافتی ہم آہنگی کے فروغ کا ایک اہم ذریعہ قرار دیا ۔ ہم اپنے باذوق گورنر صاحب کی اس بات سے غیر مشروط اتفاق کرتے ہوئے صرف اتنا اضافہ کریں گے کہ پاکستان کے رجعت پسند اور تنگ ذہن معاشرے میں فیشن شو کا انعقاد بادِ صبا کے اس جھونکے کی طرح ہے جو اپنے ساتھ روایت پرستی اور قدامت پسندی کی ساری کلفتوں کو بہا لے جائے۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ یورپ اور امریکا کی ہوشربا ترقی کا راز بھی در اصل ان کے فیشن شو زہی میں مضمر ہے ۔ جب تک ہم اپنی بہو بیٹیوں کو اتنا روشن خیال نہ کریں گے کہ وہ بھی کسی کیٹ واک پر بغیر لجائے بلی کی چال چل سکیں ہماری ترقی کرنے کے تشنہ خواب کبھی حقیقت کا روپ نہیں دھار سکتے۔ ا پنے لیڈرانِ کرام کی طرح روشن خیالی کو سینے سے لگا کر او ر غیرت جیسی فرسودہ روایات کوقصہِ پارینہ بنا کر ہی ہم ترقی کی عالمی میراتھن میں شریک ہوسکتے ہیں۔ گورنر صاحب کی باذوق شخصیت کو دیکھتے ہوئے ہمیں کبھی کبھی حیرت ہوتی ہے کہ ان جیسا صاحبِ شوق اور خوش رو کیسے گورنری جیسے کرخت عہدے پر براجمان ہے انہیں تو کسی کو ٹھے پرپتنگ باز سجنا ں بن کر بو کاٹا کے نعرے لگاتے ہوئے یا کسی کیٹ واک میں دلفریبیِ اندازِ نقشِ پا کا مظاہرہ کرتے ہوئے نظر آنا چاہیے تھا۔ بحرحال یہ قدرت کے فیصلے ہیں کہ وہ کبھی گدھے کو گھوڑے کی تھا ن پر اور کبھی گھوڑے کو گھدے کی تھان پر باندھ دیتی ہے ۔ ہم اس پر اعتراض نہیں کر سکتے ۔ قدرت کی ستم ظریفیوں کے سامنے ہمیں سرِ تسلیم خم کرنا ہی پڑتا ہے ۔