پیر، 2 اگست، 2010

آخری معرکہ

اگر کامیاب دفاعی حکمت کاری استعماری احکامات وخواہشات کی دست بستہ بجا آوری کا نام ہے تو پاکستان کا دفاع واقع رشک کی ا علی ترین بلندیوں پر فائز ہے۔ نائن الیون سے لے کرروزِموجودہ تک اگر اسلام کے اس انوکھے قلعے کی امریکی چوکھٹ پر سجدہ ریزیوں کو مجتمع کیا جائے تو جنوں خیز بندگی کی ایک نئی داستان وجود میں آسکتی ہے۔پاکستان کے وہ مایہ ناز عسکری ماہرین جن کی مہارت امریکی احکامات کو پاکستان کی ضرورت بنا کر پیش کرنے کا نام ہے اور وہ نامور عسکری راہنما جن کی سپہ گری کی پرواز امریکی آگ سے اپنا وجود جلا کر نگاہِ فرنگ میں درجہ محبو بیت پر فائز ہو جانے تک محدود ہے پچھلے نو سالوں سے اہلِ پاکستان کو اس مضحکہ انگیز جھوٹ پر ایمان لانے کا درس دیتے آرہے ہیں جس پر اگر خوف ان کے اعصاب پر اور عاقبت نا اندیشی ان کی عقلوں پر سوار نہ ہوگئی ہوتی تو وہ خود بھی یقین نہ کرتے۔ بزدلی و کم ہمتی کے جوہڑ میں رینگتے ہمارے یہ بد راہ ا ہلِ حکم بتِ استعمارکے سامنے تابعداریوں کی وہ تاریخ رقم کر رہے ہیں جس کا ڈیڑھ دو صدی قبل کے برکاتِ سرکارِ انگلشیہ کا راگ الاپتے ہمارے قدیمی محسن تصور بھی نہ کر سکتے تھے۔

کسی رزمیے کے طے شدہ پلاٹ کی طرح وا قعات در واقعات کی ایک دوسرے سے جڑی کڑیاں حوادثِ روز و شب کا تعین کر رہی ہیں۔ہوتا یوں ہے کہ پہلے ہمارا اتحادی دوست امریکا افغان طالبان کے ہاتھوں ہزیمت اٹھاتا ہے تواس کے نازک اندام فوجیوں کے واویلوں سے امریکی عوام کی نیندیں اڑ جاتی ہیں۔دنیا کو آگ و خون کے تحفے دے کر خود پھولوں کی توقع رکھنے والے امریکی عوام کی چیخ و پکار سے وائٹ ہاؤس کی سیاسی ساکھ پر ضرب پڑتی ہے ۔ چناچہ قربانی کے بکرا اس آڑے وقت میں امریکی انتظام کاروں کو امید کی آخری کرن نظر آتا ہے اور وہ اپنی ساری ناکامیوں کا ملبہ پاکستان پر ڈال کر بزدلی و بے انتظامی کے تمام الزامات سے بری الذمہ ہو جاتے ہیں۔ امریکی حکومت اپنے عوام کویہ کڑواسچ بتانے سے بوجوہ قاصرہے کہ اس کے جدید ترین اسلحے سے لیس ایک لاکھ سورما چند ہزار طالبان کی فرسودہ بندوقوں کا مقابلہ نہیں کر پارہے۔ پس وہ منطق یہ پیش کرتے ہیں کہ پاکستانی طالبان ہی سر زمینِ افغانستان میں امریکہ کے قائم کردہ امن کے خوبصورتچہرے کو بگاڑنے کے ذمہ دار ہیں۔ چناچہ حکم یہ صادر ہوتا ہے کہ پاکستان اپنے فلاں علاقے میں آپریشن کرے اور اپنے لوگوں کے خون کی بلی چڑھا کر امریکی امن کی ڈوبتی کشتی کو سہارا دے۔ ہمارے نہایت ہی قابل حکمرانوں کے لیے امریکی لبوں سے نکلنے والے یہ حکم نما مشورے ہی وہ میگنا کارٹا ہیں جن سے آگے دیکھنے کی نہ ان میں جرات ہے اور نہ ہی صلاحیت۔ حالیہ دنوں میں امریکا کا پاکستانی کٹھ پتلوں کو شمالی وزیرستان میں آپریشن شروع کرنے کے لیییہ ہدایت نامہ کہ پاکستان اب اس علاقے کی سرزمینپر بھی آگ و آہن کی بارش کر کے اس میں امریکی آنکھ میں چبھنے والے تمام کانٹوں کو ختم کرے اسی سلسلہ سابقہ کی کڑی ہے جو پچھلے کئی سالوں سے جوں کے توں دہرایاجا رہا ہے اور جس کی ٹھیک ٹھیک پیشین گوئی اب ایک عامی بھی نہایت آسانی سے کر سکتا ہے ۔ ہمیشہ کی طرح اب ہو گا یوں کہ چند معمولی ممنا ہٹوں کے بعد پاکستانی پالیسی سازوں کو بھی اس آپریشن میں فلاحِ دارین نظر آنے لگے گی۔جوں جوں ڈالروں کی مہک بڑھتی جائے گی اس آپریشن کے خلاف پاکستان کے تحفظات اسی سرعت سے دور ہوتے جائیں گے بقائے ملکی پر ہوسِ دام و درہم غالب آ جائے گی اور یوں شمالی وزیرستان میں بھی خون کی وہ ہولی کھیلی جائے گی جس کی منصوبہ بندی کب کی پینٹاگون کے شیطانی دروازوں کے پیچھے ہو چکی ہے لیکن جس کے لیے مہروں کو تیار کرنے کا عمل انہی دنوں جاری ہے۔



پچھلے دس بارہ سال کے تلخ تجربات نے پاکستانی عوام پر یہ حقیقت اچھی طرح عیاں کر دی ہے اپنے فیصلے خود کرنے کا اختیار دہشت گردی کی جنگ میں فرنٹ لائن اتحادی بننے کے صدقے ان سے چھن گیا ہے چناچہ اب پاکستان کے کاغذی حکمرانوں کو ملکی پالیسیا ں مرتب کرنے کے لیے اپنے خالی دماغوں پر زور دینے کی ضرورت نہیں پڑتی دیارِ امریکا سے بنی بنائی پالیسیاں ان پر نازل ہوتی ہیں اور ان کا کام صرف اتنا ہوتا ہے کہ ان پر عمل در آمد کے لیے ملکی رائے عامہ ہموار کریں۔رٹے رٹائے بیانات ‘ گھڑی گھڑائی منطقوں اور گھسے پٹے دلائل سے یہ اپنے آقاؤں کی منشا کو پورا کرنے کے لیے ہر اس حد تک جا تے ہیں جس تک دورِ غلامی میں ان کے آباؤ اجدادتاجِ بر طانیہ کی کاسہ لیسی کرتے ہوئے جایا کرتے تھے۔کامل دہائی ہونے کو آئی ہے کہ ہم ان مکروہ کٹھ پتلوں کی بدولت کرایے کی قوم بنے اغیار کی جنگ میں اپنے وطن کی عافیت اورسلامتی کونہایت بے دردی سے قربان کیے جارہے ہیں۔ امریکی عوام کے تحفظ کی خاطر ہم اپنے وطن کی گلیوں کو خاک و خون میں نہلا کر جانے دنیا کے سامنے کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں۔یہ کہ ہم امریکی و یورپی اقوام کے نظامِ استحصال کے محافظ عالمی امن کی خاطر ہر قربانی دینے کا حوصلہ رکھتے ہیں یا یہ کہ ہم اتنے خرد مند ہیں کہ دوسروں کے گھر میں لگی آگ کو بجھانے کے لیے اپنا گھر جلا دینا با عثِ فخر جانتے ہیں!!



شمالی وزیرستان میں پاک فوج کی جوہر آرائی سے امریکہ کو توجو حاصل ہو سو ہو پاکستان کو سوائے نفرتوں کی ایک نئی فصل کاشت کرنے کے اور کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔حقانی نیٹ ورک جس کی بیخ کنی اس آپریشن کا بنیادی مقصد ہو گاطالبان کا وہ آخری گروپ ہے جو پاکستان کیلئے کسی حد تک ہمدر دانہ نظریات رکھتا ہے یا جسے پرو پاکستان کہا جا سکتا ہے۔ دوسرے تمام طالبان گروہوں کو انتہائی حد تک پاکستان مخالف کرنے کے بعداب اس آخری گروہ کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کی کوشش مستقبل قریب میں پاکستان کے لیے کس حد تک خطرناک ثابت ہو سکتی ہے اس کا ادراک کرنے کی صلاحیت ہمارے کور نگاہ پالیسی سازوں میں نہیں کہ امریکی آشیر بادکے خمار نے ان کی عقل اور نگاہ ہر دہ کو اندھا کر دیا ہے۔امریکی بھیڑئیے کے بدن پر طالبان حملوں سے لگنے والے پے در پے زخموں کی بڑھتی ہوئی تعداد سے یہ صاف عیاں ہے کہ امریکا حریت پسندوں کی اس کچھار سے جلد از جلد بھاگنے کے منصوبے بنا رہا ہے اور اس کے بے آبرو ہو کر افغانستان کے کوچے سے نکلنے کا عمل اب چند سالوں کی نہیں بلکہ چند مہینوں کی بات ہے۔ امریکی پسپائی کے بعد افغانستان کے نقشے میں کرزئی اور اس جیسے دوسرے جوکروں کے لیے یقیناًکوئی جگہ نہیں ہو گی اور وہی طالبان جن کے خلاف ہم پچھلے نو سالوں سے نہایت خشوع و خضوع کے ساتھ اپنے امریکی و نیٹو آقاؤں کی مدد کرتے رہے ہیں جب دوبارہ افغانستان کی زمام کار سنبھالیں گے تو پاکستان کس مقام پر کھڑا ہو گا یہ سمجھنے کے لیے زیادہ غورو فکر کی ضرورت نہیں۔امریکی ڈالروں اور ہلہ شیریوں کا وہ کھونٹاجس کے بل بوتے پر ہم پیچھلے کئی سالوں سے طالبان کے خلاف اچھل رہے ہیں اب اس کے اکھڑنے پرہم جس بے آب و گیاہ صحرا میں آکھڑے ہوں گے اس کا ادراک کرنا بھی کچھ زیادہ مشکل نہیں۔



جب سابقہ آمرِ رو سیاہ نے لرزتی ٹانگوں اور سراسیماں دل کے ساتھ امریکی گود میں بیٹھ کراپنوں کے گلے کاٹنے کا فیصلہ کیا تو وہ پنی کور چشمی کے سبب مستقبل کے آئینے میں بننے والی یہ واضح تصویر نہیں دیکھ سکتا تھا کہ سمندر پار سے آنے والے امریکی صدا یہاں نہیں ٹھہر سکتے کہ افغانوں کا جذبہ حریت انہیں جلد یا بدیر سر پر پاؤں رکھ کر بھاگنے پر مجبور کر دے گا۔ہوسِ جاہ میں اندھا ہو کر وہ یہ سامنے کی بات بھی نہیں سمجھ سکتا تھا کہ دہ استعماری طاقتوں کو شکست دینے کا اعزاز رکھنے والے افغانوں کے لیے امریکا اتنا بڑا ہوانہیں کہ وہ اس کے سامنے اپنے صدیوں کے جذبہ سرفروشی کو قربان کر دیں۔مشرف اگراپنے ناجائز اقتدار کی سند لینے کے لیے امریکیوں کی چاکری کرنے پر مجبور تھا تو موجودہ جمہوریت یافتہ حکومت اپنے کرپشن زدہ ماضی کے آسیب سے بچنے کے لیے امریکا کے سایہ عاطفت تلے پناہ لینے کے سوا اور کوئی راہ اپنی بقا کا نہیں پاتی۔دونوں کی مجبوریاں اور حکمت عملی ایک جیسی ہے اور دونوں اپنوں پر غرانے اور غیروں کے سامنے دم ہلانے کو ملک گیری کی معراج سمجھتے ہیں۔ حالات کی نہج بتاتی ہے کہ موجودہ حکومت کے چیلے چانٹے اپنے امریکی آقاؤں کی اقتدا میں جلد ہی شمالی وزیرستان آپریشن کی افادیت پر اپنے ارشادات کا سلسہ شروع کریں گے اور اس سر زمین پراُس آخری معرکے کی ابتدا ہو گی جس کے اثرات مثل ڈھاکہ آپریشن کے ہماری آنیوالی نسلوں تک جائیں گے۔



 لال مسجد خونریزی کے اثرات سمیٹتے اس ملک کے تنِ سوختہ جاں کے لیے شمالی وزیرستان کا معرکہِ کشت وخوں کس قدر ہولناک ثابت ہو سکتا ہے اس کا اندازہ لگا نا کچھ زیادہ مشکل نہیں ۔پاکستانی دل سے فقظ یہ دعا نکلتی ہے کہ ہمارے حکمران ہوش کے ناخن لیں اور امریکی حکم پر کی جانے والی اس خودکشی سے باز رہیں لیکن ہوش کے ناخن لینے کے لیے جس کم از کم عقل کی ضرورت ہوتی ہے بدقسمتی سے وہ اس غولِ بیابانی میں ناپید ہے چناچہ اب اس آخری معرکے کے ثمرات سمیٹنے کے لیے پاکستانی قوم کو تیار ہو جانا چاہیے۔

جمعہ، 28 مئی، 2010

نئے دو قومی نظریے کی ضرورت

وہ سادہ لوح پاکستانی جو درسی کتابوں میں ناقابلِ تسخیر ملکی دفاع اور دشمنوں کے دانت کٹھے کرنے کے مظاہروں پر مشتمل ایمان افروز قصے پڑھ پڑھ کر پاکستان کے دفاع کو واقع سیسہ پلائی ہوئی دیوار سمجھنے لگے تھے اب قبائلی علاقوں پر امریکی ڈرونز کے پے در پے حملوں پر نہایت غصے میں بھرے بیٹھے ہیں اور انہیں سمجھ نہیں آرہی کہ وہ جری فوج جو دشمن کی ذرہ بھر جارحیت کا نصابی کتابوں میں منہ توڑ جواب دیا کرتی تھی برستے میزائلوں کی بارش میں بھی اب ٹس سے مس کیوں نہیں ہو رہی۔ نسیم حجازی کے جوش آور ناولوں میں زندہ رہنے والے یہ بے چارے پاکستانی اتنا نہیں جانتے کہ دورِ جدید میں زمینی تقاضوں کے بدلنے سے اندازِ دفاع میں بھی بنیادی تبدیلیاں آئی ہیں چناچہ اب خالد کی تلواریاٹیپو کی للکاربننے کی بجائے امریکہ کا حاشیہ بردارہو جانازیادہ فائدے کا سودا ہے۔

ضروریات جدیدہ سے نابلد یہ بے چارے نئی رت کے اس پیغام کو سمجھ نہیں پارہے کہ ملکی خود مختاری کا وہ فرسودہ تصور جو صدیوں سے اقوامِ عالم کے درمیان کشت و خون کی وجہ تھا اب کم از کم پاکستان نے اس سے جان چھڑا کر اہنسا کی وہ پر امن راہ اختیار کی ہے کہ سابقہ تما م نظریات کوباطل ثابت کر دیا ہے۔ پاکستان کے خلاق دفاع کاروں کے وضع کردہ اس انوکھے نظریہ خود مختاری کے مطابق ڈرون حملوں ، غیر ملکی ایجنسیوں کی آزادانہ خرمستیوں اور طاقتور استعمار کے آگے ناک رگڑنے سے کسی ملک کی خود مختاری پر کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ جدت طرازی کے اس نادر نمونے کا خلاصہ یہ ہے کہ جب تک پاکستان کے محترم حکمرا ن عوام کو بے وقوف بنانے کے اپنے دیرینہ شغل میں آزاد ہیں ، جب تک ان کی بد عنوانی و اقربا پروری پر کسی کو انگلی اٹھانے کی اجازت نہیں ، جب تک ان کی شراب و کباب کی محفلوں پر قدغن لگانے والا کوئی نہیں پاکستان خود مختار ہے چاہے اس کے درو دیوار ڈرون حملوں سے لرزتے رہیں، چاہے اس کے کوچہ و بازارغیر ممالک کی خفیہ ایجنسیوں کے ہاتھوں بم دھماکوں کا تختہ مشق بنے رہیں اور چاہے وہ عالمی استعمار کے ہاتھوں کٹھ پتلی کی طرح ناچ ناچ کر پاگل ہوتا رہے۔
ہم یہ تو نہیں جانتے کہ پاکستان کے کس شتر مرغ نے امریکی آندھی سے ڈر کر اس نئے نظریے کی ریت میں سب سے پہلے اپنا سر چھپانے کی کوشش کی لیکن اتنا بحرحال اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ مشرف دور کا تحفہ ہے کہ ایسی منفرد اختراعات اسی کے دور میں جنم لے سکتی تھیں۔مشرف اور اس کے قابل مشیر اس کبوتر سے یقیناََ زیادہ ذہین تھے جو بلی کو دیکھ کر آنکھیں بند کر لیتا ہے کہ وہ صرف آنکھیں ہی بند کرنے کے ہی قائل نہ تھے بلکہ جارح بلی سے مل کر اپنے ہم نسلوں کا قتلِ عام کروا کے اپنی کھال بچانے کے سنہری اصول پربھی کار فرما تھے۔حکومتِ موجودہ نے نہ صرف مشرف سے ورثے میں ملنے والے اس انوکھے نظریہ خودمختاری کا دل و جاں سے تحفظ کیا ہے بلکہ اس کی تابانی کو چار چاند لگانے کے لیے دن رات ایک کر دیے ہیں۔ مشرف کی آمریت میں ہماری خودمختاری کی نمائش کے لیے امریکا اگر ایک ماہ میں چار حملے کرتا تھا تو اب دورِ جمہوریت کی برکت سے یہی تعداد چالیس تک جا پہنچی ہے۔ہماری خودمختاری کی عالمی سطح پر تشہیر کے بعد بھی ہمیں حیرت ہے کہ ہمارے وزرائے کرام کو جانے کس کو سنانے کے لیے وقتاََ فوقتاََ یہ بیان داغنے پڑتے ہیں کہ پاکستان کی خودمختاری پر کوئی آنچ نہیں آنے دی جائے گی۔ پاکستان کی خودمختاری اب مجذوبیت کے اس ارفع مقام تک جاپہنچی ہے جہاں واقع ساری دنیا بھی اگر چاہے تو اسے آنچ نہیں دے سکتی اس لیے ہم نہیں سمجھتے کہ ہمارے معزز وزرا کو اس موضع پر اپنا زورِ بیان صرف کرنے کی ضرورت ہے۔

ڈرون حملوں میں جاں بحق ہونے والے مظلو موں کے بارے میں ہمارا قیاس یہ ہے کہ یہ کسی دوسری دنیا کے باشندے ہیں کیونکہ اگر ان کا اس دیس سے تعلق ہوتا تو ’ ہم ایک ہیں ‘ کی دھنوں پر تھرکنے والے وہ عوام جو ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں چند روپوں کے اضافے پر یا بجلی کی چند گھنٹے عدم دستیابی پرسٹرکوں پر نکل سکتے ہیں ان بے چاروں پر ہر روز اترنی والی آگ و آہن کی بارش پر بے حسی کی چادر تانے یوں بے نیاز نظر نہ آتے۔ ہماری احیائے نو پانے والی عدلیہ جو کسی معمولی زیادتی پر بھی سو موٹو ایکشن لینے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتی ہے ڈرون حملوں میں بے نام پاکستانیوں کے قتلِ عام پر لب کھولتے ہوئے اس بے چاری کے بھی پر جلتے ہیں چناچہ اس نے یہ کہہ کر کہ قبائلی علاقے اس کے دائرہِ اختیار میں نہیں آتے سارے جھنجٹوں سے جان چھٹر ا لی ہے ۔ ہمیں حیرت ہے کہ سوات میں فلمائی گئی کوڑوں والی جعلی ویڈیو پر تو ہماری عدلیہ کے سو موٹو کا ہتھیار فوراََ حرکت میں آ جاتا ہے لیکن صیہونی حملوں میں مارے جانے والے سینکٹروں بے گناہوں کے خونِ نا حق پر اس کے احساسِ عدل میں کوئی ابال نہیں آتا!!

ہمارے میڈیا کا غالب حصہ بھی، ماسوائے چند باضمیر اردو روزناموں کے ، ہر ڈرون حملے پر یوں انہونی خوشی کا اظہار کرتا ہے جیسے اس کی کامیابی پر حملہ کروانے والے جاسوسوں کے ساتھ ساتھ اس پر بھی ڈالروں کے انعام کی بارش ہو گی۔انگریزی روزناموں اور چینلز کا تو ذکر ہی کیا کہ یہ بے چارے تو دل وجان کا مغرب سے کب کا سودا کر چکے اب تو متعدد اردو روزنامے اور ٹی۔وی چینلز بھی ڈرون سے فائر کیے گئے میزائلوں کے گرنے سے پہلے ہی یہ جانتے ہیں کہ اس میں دہشت گرد ہلاک ہوں گے۔ یہ دہشت گرد شیر خوار بچے بھی ہو سکتے ہیں، پردہ نشیں عورتیں بھی ہو سکتی ہیں اور ضعیف العمر بوڑھے بھی ۔جس طرح حملہ آورامریکی ڈرونزسے ہمارے میڈیا کی رو حانی وابستگی ان پر بر وقت یہ الہام نازل کر دیتی ہے کہ اس حملے کا نشانہ صرف دہشت گرد ہی بنیں گے اسی طرح انہیں یہ بھی فوراََ پتہ چل جاتا ہے کہ نشانہ اجل بننے والوں میں متعدد غیر ملکی بھی ہوں گے۔شاید حکمرانوں کی دیکھا دیکھی اب ہمارے میڈیا نے بھی تاریخ سے یہ سبق سیکھ لیا ہے کہ امریکہ کے تلوے چاٹنے سے ہی معدے میں وہ خوشگوار اثرات پیدا ہوتے ہیں جس سے صحت دن دگنی ترقی کرسکتیہے۔

پاکستان میں سیاسی جماعتوں کے نام پر کام کرنے والے مفاد پرستوں کے وہ ٹولے جن کی پاکستانیت عموماَََ ا فیون زدگی کی حالت میں اونگھتی رہتی ہیں اور صرف انتخابات کا قرب ہی ان کے مجہول جسموں میں زندگی کی لہر دوڑا پاتا ہے قومی اہمیت کے تمام معاملات سے چشم پوشی کرنے میں خاص ملکہرکھتے ہیں۔ حصولِ اقتدار کے لیے پاکستانی عوام سے نت نئے ڈرامے رچانے والی ہماری تمام سیاسی جماعتوں نے پاکستان کی خومختاری کے اس ڈرونی تماشے پر جس بے مثل بے حسی کا مظاہرہ کیا ہے وہ ان کی پاکستان اور پاکستانیوں سے محبتکامنہ بولتا ثبوت ہے۔امریکا کو اپنا ملجاو ماوا ماننے والے ہمارے نام نہاد سیاست دان ڈرون حملوں کے خلافبولنے کی سکت کچھ اس وجہ سے بھی نہیں رکھتے کہ ڈرون حملے کرنے والے ہی تو ان کی تقدیروں کے فیصلے کرتے ہیں ۔ چناچہ اپنے آقاؤں کے خلاف بول کر یہ سیاست کے کالے پانی جانے کی حماقت بھلا کس طرح کر سکتے ہیں!! لے دے کہ ہمارے پاس تحریکِ انصاف یا جماعتِ اسلامی کی کمزور آوازیں رہ جاتی ہیں جن سے کم از کم دنیا کے سامنے یہ ڈھکوسلا تو بنا رہتا ہے کہ پاکستانیوں کی زندہ لاشوں میں ابھی غیرت کی ہلکی سی رمق باقی ہے۔

علمِ سیاست کے تمام مفکرین یک زبان ہیں کہ فرد کی جان و مال کا تحفظ ریاست کی ان بنیادی ذمہ داریوں میں سے ایک ہے جس میں ناکامی پر ریاست فرد سے وفاداری کا استحقاق کھو دیتی ہے۔پاکستانی ریاست چونکہ دنیا کی ایک انوکھی مثال ہے اس لیے اس پر سیاسیات کے یہ عام نظریے تو لاگو نہیں کیے جا سکتے لیکن ا تنا بحر حال واضح ہے کہ پاکستان کے حکومتی و انتظامی ادروں سمیت عوام نے پاکستانی ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے ۔ ایک وہ عام پاکستان جس میں ہماری بے حسی اور ہمارے حکمرانوں کی عیاشیوں اور مسخرے پن کے تحفظ کے لیے ہماری پاک فوج ہر دم چوکس رہتی ہے اور دوسرا وہ قبائلی پاکستان جس کی فضائیں امریکی میزائلوں کے حملوں سے لرزیدہ رہتی ہیں اور جو عملی طور پر امریکی استعماریت کے مشقِ ستم کا نشانہ بننے کے لیے ہم نے اس کے حوالے کر دیا ہے۔ ہمارے رویے ان دو پاکستانوں کے بارے میں حیران کن حد تک جدا جدا ہیں۔ پہلے پاکستان میں چبھنے والے کانٹے کی کسک ہماری حکومت سے لے کر عوام تک اور فوج سے لے کرعدلیہ تک ہر کوئی اپنے قلب میں محسوس کرتا ہے لیکن دوسرے پاکستان کے خا ک و خون میں لت پت در و بام ہماری وطنیت کے تاروں کو چھیڑنے میں جانے کیوں ہمیشہ ناکام رہتے ہیں!!  اگر خاکم بدہن امریکا کے ڈرون اسلام آباد یا لا ہور پر میزائلوں کی ویسی ہی بارش کرتے جیسی وہ آئے روز قبائلی علاقوں میں کرتے رہتے ہیں تو کیا ہم اس جارحیت پر بے حسی کا یہی لحاف اوڑھ کر ایسے ہی اونگھتے رہتے ؟ اس سوال کا یقینی نفی میں جواب ہی ہمیں بتا تا ہے کہ ہم پاکستانی ایک نہیں ہیں ۔اپنے ہی ملک کے دو حصوں کے بارے میں ہمارے رویوں میں یہ تضاد ثابت کرتا ہے کہ اتحاد و یک جہتی کی تمام باتیں صرف من گھڑت ا فسانے ہیں ۔ہندوستان کے مسلمانوں کو ہندؤں کی چیرہ دستیوں سے بچانے کے لیے دو قومی نظریہ دیا گیا تھااب پاکستانیوں کو پاکستانیوں کی سنگدلانہ بے حسی سے بچانے کے لیے کسی نئے دو قومی نظریے کی ضرورت ہے۔

اتوار، 16 مئی، 2010

کھوئے ہوؤں کی جستجو

ایسا نہ تھا کہ اس دیس کے کوچہ و بازار میں پرویزیت کا طاعون پھیلنے سے پہلے دودھ کی نہریں بہتی ہوں، خوشیوں کے زمزمے گونجتے ہوںیا امن و آشتی کی ہوائیں چلتی ہوں۔ ظلم و جبر کی سیاہ آند ھیاں اہلِ گلشن کے چین کو تب بھی اجاڑے رکھتی تھیں، بھوک و افلاس کے ناگ ان کے سکون پر تب بھی اپنا بد رو پھن پھیلائے پھنکارتے رہتے تھے اور اہلِ حکم امریکی در پر سجدہ ریزی کو تب بھی حزرِ جاں بنائے ہوئے تھے پراس دورِ سیاہ سے قبل ایسا کبھی نہ ہوا تھا کہ ہوسِ اقتدار میں اندھے ہو کر کسی نا عاقبت اندیش نے اپنے دیس کی عفتوں کادام و درہم کے عوض کسی استعماری سوداگر سےسودا کر لیا ہواورایسابھی کبھی نہ ہو ا تھا کہ قوم نے اجتماعی بے غیرتی کی چادر اس سہولت کے ساتھ اتنے طویل عرصے تک تانے رکھی ہو۔
 جب پرویز مشرف اور اس کے چوہوں نے سرزمینِ پاک کے کھیتوں اور کھلیانوں کو اپنی خر مستیوں سے اجاڑنا شروع کیا تو اہلِ نظر کا ماتھا اس وقت ہی ٹھنک گیا تھا کہ یہ چوہے وہ عام دراندازیےنہیں جو کچھ وقت کے لیے چند باغوں کو ادھیڑیں گے ، کچھ کھلیانوں میں کتر بیونت کریں گے اور اپنا راستہ ناپیں گے بلکہ یہ تو وہ طاعون زدہ نسل ہے جو ساری بستی کو مرگِ انبوہ میں مبتلا کر دیں گے۔ پاکستانی
  قوم جوہمیشہ سے صبر کے گھاٹ پرقومی مفادات کو قربان کرتی چلی آئی ہے چوہا گردی کے اس دور میں بھی خاموش تماشائی بنی گلشن کے اجڑنے کا تماشا دیکھتی رہی ۔ سب سے پہلے پاکستان کے تھیٹر پر مشرف اور اس کے گر گوں نے جو مضحکہ خیز کرتب دکھائےاب تاریخ کا حصہ بن کر تا قیامت حساس پاکستانیوں کے احساسِ تفاخر و خودداری کو گھائل کرتے رہیں گے۔

سن 2003 ء کے نامسعود لمحوں میں جب مشرف نے وطن کی ایک بیٹی کا اپنے صلیبی یاروں سے سودا کیا تو اس کی رگوں میں بہنے والے رقاص خون کی گردش پر یقیناًکوئی اثر نہیں پڑا ہوگا کہ غیرت و حمیت کے جملہ مسائل سے وہ یکسر پاک تھا۔ مشرف کے گرد جمع ضمیر فروشوں کے ٹولے پر بھی اسلامی تاریخ کے اس شرمناک ترین سانحے کا کوئی اثر نہیں ہوا ہو گاکہ ہوسِ اقتدار میں وہ اس حد تک جا چکے تھے جہاں انہیں سب ہرا ہی ہرا نظر آرہا تھا۔ مشرف ایسے ابلیس صفت مسخرے کی کاسہ لیسی نے ان کے اندر بھی اسی جیسے خصائص پیدا کر دیے تھے چناچہ وہ سیاسی کرتب دکھانے کے علاوہ اور کچھ نہ کر سکتے تھے۔ لیکن ہمیں حیرت ہے تو پاکستان کے ان اداروں پرکہ بظاہر جن کا محور و مرکز کسی فرد کا اقتدار نہیں بلکہ پاکستان کی بقا و سلامتی ہے۔ وطن کی سالمیت کے ٹھیکیدار ان اداروں کے وہ اہلکار جنہوں نے مشرف کے حکم پرڈ اکٹر عافیہ کو نجس امریکیوں کے حوالے کیا یقیناًاپنے اس فعل کے گھناؤنے پن سے اچھی طرح واقف تھے۔ مشرف اور اس کے گر گے تو ایسے قبیح افعال امریکی خوشنودی کے ذریعے اپنے ناجائز دورِ آمریت کو طول دینے کے لیے کرتے رہے لیکن وطن کے ان رکھوالوں کو اس سے بجز ابدی لعنت گلے میں ڈالنے کے اور کیا حاصل ہوا کہ وہ اپنے ہاتھوں کو اس شرمناک فعل سے آلودہ کر بیٹھے؟  یہ تسلیم کرنا مشکل ہےکہ مشرف کے یزیدی احکامات پر عمل کرنے والے ان تمام اہلکاروں میں غیرتِ ملی اور حمیتِ قومی کی آخری رمق تک سوکھ چکی تھی تاہم اتنا بحر حال ماننا  پڑتا ہے کہ وہ تاریخ اسلامی کے بابِ غیرت و عزیمت کو یقیناً فراموش کرچکے تھے۔ ہم یہ تو نہیں جانتے کہ پاکستانی قوم کبھی اِن سیاہ کاروں کو جان سکے گی یا وہ یوں ہی چپ چاپ مشرف کی معیت میں سوئے جہنم روانہ ہو جائیں گے لیکن اتنا ہمیں یقین ہے کہ امریکی اذیت گاہ میں سسکتی ہماری مظلوم بہن کی آہیں ان کے خرمنِ سکون پرصدا بجلیاں گراتی رہیں گی۔

امریکا کے متعصب نظام انصاف نے مظلوم عافیہ کو جن جرائم کی سزا سنائی خود امریکی اچھی طرح جانتے ہیں کہ عافیہ کا اصل جرم یہ نہیں۔ اسلامی نظامِ حیات اور احیائے اسلام کی تڑپ وہ اصل جرائم ہیں جو امریکی استعمار کے نزدیک ناقابلِ معافی ہیں کہ یہ امریکی چو دھراہٹ کے راستے میں رکاوٹ پیدا کر نے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ عافیہ اور اس جیسے ہزاروں اسلام پسند ان ہی مقدس جرائم کی سزا پا رہے ہیں۔ مصائبِ قید و بند اسیرانِ اسلام کے لیے کوئی نئی بات نہیں کہ شعبِ ابی طالب سے لے کر گوانتانامو بے تک کی چودہ سو سالہ داستانِ عزیمت ان کی ہمیشہ سے زادِ راہ رہی ہے ۔ عافیہ صدیقی اسی بے مثل سلسلے کی کڑی بن کر اپنے نحیف و نزار جسم پر وہ اندو ناک مظالم برداشت کر رہی ہے جن کو صرف سوچنے سے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ساری دنیا پر غرانے والا امریکا صرف ایک کمزور لڑکی کے جذبہ ایمانی سے کس قدرخوفزدہ ہے کہ اسے پھسپھسے الزامات کے ذریعے ہر صورت پابندِ سلاسل رکھنا چاہتا ہے۔ عافیہ کا دکھ ساری قوم کا دکھ ہے پر اس قوم کا جو فالج زدہ ہو کر قوتِ عمل کھو چکی ہے اور اب سوائے غم زدہ ہونے کے کچھ نہیں کر سکتی۔

پرویز مشرف کے سبز قدم اس دیس سے اٹھے تو امید کی اس حو صلہ افزا کرن نے سر اٹھایا تھا کہ شاید اب عوام کے کندھوں پر چڑھ کر اقتدار کے ایوانوں تک پہنچنے والی جمہوری حکومت پاکستانی قوم کو خود مختاری اور خودداری کی دولتِ گم گشتہ واپس دلوا دے گی۔ آس کے بوٹے پر خوش گمانی کی اس کونپل نے آنکھ کھولی تھی کہ اس دیس کے وہ جگر گوشے جنہیں مشرف کا ڈالر زدہ عفریت امریکی استعمار کے ہاتھوں نہایت بے دردی سے بیچتا رہا اب ہمیں واپس مل جائیں گے۔ رجائیت کی اس لہر نے چند ساعتوں کے لیے ہماری رگوں میں حیاتِ نو کی یہ رو دوڑا دی تھی کہ امریکی اذیت خانوں میں سسکتے ہمارے تیرہ بخت بھائیوں اور بہنوں پر اتری سیا ہ رات کو اب سویرا نصیب ہو گا پر ہمیشہ کی طرح ہماری امیدیں ریت کے وہ کچے گھروندے ثابت ہوئیں جنہیں جمہوری آندھی کے پہلے ریلے نے ہی خاک میں ملا دیا۔ پرویزی نظام تلے اس آس پر قطرہ قطرہ جیتے تھے کہ جمہوریت کی دیوی آکر اس دیس پر تنی بد بختی اور بے غیرتی کی سیاہ چادر تار تار کر دے گی اور ہماری آنکھوں سے بے بسی کے آنسو پونچھ کر لبوں پر امید کی مسکراہٹیں بکھیر دے گی پر جمہوریت کی گھمبیرتا میں اب ہم سر بہ گریباں ہیں کہ کس امید پر زندگی کریں؟

ہماری کو تاہ نظری کہ ہم ان بونوں کو اپنے قد آور حکمران سمجھ بیٹھے جو خود بے چارے تار پر تنےکٹھ پتلوں سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتے کہ ان کا مالک جس حد تک چاہتا ہے انہیں نچاتا ہے جہاں چاہتا ہے ڈور کھینچ کر انہیں صمم بکمم کر دیتا ہے۔ان خالی ڈبوں سے ہم نے یہ توقع باندھی تھی کہ وہ اس دیس کی مظلوم بیٹی کو امریکی قید سے نکال لائیں گے جو خود امریکی آکسیجن پر اپنے فریبِ اقتدار کو زندہ رکھے ہوئے ہیں ۔ا ہلِ حکم ہونے کے سراب میں گرفتار یہ تو وہ مکروہ مہرے ہیں جو امریکی سامراجیت کے جنگلی پودے کو اپنے وطن کے خون سے سیراب کرنے کے صلے میں حکومت کا پروانہ حاصل کرتے ہیں۔ شیطانِ عظیم کے پنجوں سے عافیہ کو نکال لانا تو رہی دور کی بات یہ تو اپنے ملک کی منہ زور ایجنسیوں کے عقوبت خانوں میں زندہ درگور سینکڑوں حرماں نصیبوں پر طاری تیرگی کو صبحِ نور سے بدلنے کی ہمت بھی نہیں رکھتے۔

تو اے لوگو ہم ان کاٹھ کے الوؤں کے آگے بین بجانے کی بجائے کیوں نہ ان بازی گروں سے مخاطب ہوں جو طاقت کی اصل رتھ پر سوار ہیں؟ ہم کیوں نہ باوردی جوکروں ، ٹائی زدہ روبوٹوں اور پتھر دل مجسموں سے التجا کریں؟ جی کڑا کر ہم یہ فریاد باوردی جوکروں تک کیوں نہ پہنچا دیں کہ حضور آپ نے اس دیس کی بہت حفاظت کر لی اب خدارا اپنے اس مقدس فریضے کی قربان گاہ پر اس مظلوم دیس کی سلامتی کو صلیب مت دی جیے۔ ہم کیوں نہ ٹائی زدہ روبوٹوں تک ان کی سریا دار گردنوں کا واسطہ دے کر یہ عاجزانہ التجا پہنچا دیں کہ سر کار آپ کے نظمِ ملکی نے اس دیس کو نمونہ جنت بنا دیا ہے اب برائے مہربانی اپنی خداداد انتظامی صلاحیتوں کو واپس اپنی زنبیل میں ڈال لی جیے۔ ہم کیوں نہ خفیہ آستین والے سنگ دل مجسموں کو اپنے ان بینوں سے پگھلانے کی کوشش کریں جو ان کی اندھی قید میں سسک سسک کر جرمِ بے گنہی کی سولی پر لٹکتے ہمارے سینکڑوں اہلِ وطن کے دکھ نے ہمارے سینے میں ڈال دیے ہیں۔

پر ہم کیسے بولیں کہ ہماری زبانیں تو بے حسی کے بخار نے گنگ کر دی ہیں ۔ ہم کیسے کچھ کہیں کہ ہماری گویائی تو بے غیرتی کے وائرس نے چھین لی ہے اور ہم بجز اس کے کہ پتھرائی ہوئی آنکھوں سے اپنے وطن کے اجڑنے کا تماشا دیکھیں اور کر بھی کیا سکتے ہیں۔ وطن کی فضائیں مظلوموں کی آہوں سے لرز رہی ہیں ، وطن کے کھیتوں کھلیانوں میں حسینی لشکرکے لاشے بکھرے پڑے ہیں، وطن کے دریا بے کسوں کے خون سے رنگین ہو چکے ہیں اور ہم چپ ہیں کہ ہمیں ابھی بہت سے کام کرنے ہیں۔ ہم چپ ہیں کہ ہمیں اپنی تجارتیں، اپنی ملازمتیں اور اپنی سیاستیں اپنے ملک سے زیادہ عزیز ہیں۔71 ء میں جب مشرقی پاکستان جل رہا تھا ہم اسی طرح بت بنے تماشا دیکھ رہے تھے آج جب باقی مانندہ ملک جل رہا ہے ہم چپ کا تالا زبانوں پر ڈالےبدستورمحو تماشا ہیں۔

جمعہ، 7 مئی، 2010

سابق صدر سے بیہمانہ سلوک اور ہماری ذمہ داریاں

پاکستانی قوم ابھی اپنے عظیم قائد پرویز مشرف کے سکیورٹی سکواڈ کے ویزوں میں توسیع نہ دینے کے غیر منصفانہ بر طانوی فیصلے پرچیں بہ جبیں ہونے کی تیاری کر ہی رہی تھی کہ امریکی ائیر پورٹ پر روشن خیالی کے امام عالی مقام ہمارے کمانڈو قائد کو بیلٹ اور جوتے اتروائی کی مضحکہ خیز رسم سے گزار کر امریکا نے ہمیں بھو نچکا ہونے پر مجبور کر دیا ۔ ہم تو سمجھ رہے تھے کہ ہمارے قائد نے امریکی دوستوں سے وفاداری کی وہ درخشاں تاریخ رقم کی ہے کہ اب احسان مند امریکی تا حیات ان کے گن گائیں گے اور ان کی خاکِ پا کو اپنی آنکھوں کا سرمہ بنائیں گے لیکن بد ترین طوطا چشمی کے اتنے شرمناک مظاہرے کا تو ہم تصور بھی نہ کر سکتے تھے کہ جنگِ دہشت گردی کے اس جری سپہ سالارکی یوںمعمولی ائیر پورٹ اہلکاروں سے دن دیہاڑے توہین کر وائی جائے گی۔
 اگربرطانیہ ہمارے اس عظیم مصلح کی عافیت کو اب اتنا اہم نہیں سمجھتا اور ہمارے ایس ایس جی کے جانباز کمانڈوز کو مشرف کی رکھوالی کیلئے وہ مزید اپنے ملک میں برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں تو بات سمجھ بھی آتی ہے کہ ہم نے بر طانوی تاج کا سابقہ غلام ہونے کے باوجود اس کی وفاداری کا اس قدر دم کبھی نہیں بھرا کہ اس کے لیے اپنا تن من دھن نچھاور کر یا ہو لیکن ہمیں حیرت ہے تو اپنے امریکی دوستوں پر جو وفا شناسی کے مروجہ تمام اصولوں کو فراموش کر کے جانے کیوں ہمارے عظیم قائد کے ساتھ اس قدر ہتک آمیز سلوک روا رکھنے کاقبیح وطیرہ اختیار کر بیٹھے ہیں۔


کینیڈی ائیر پورٹ پر جب سکیورٹی اہلکار نے ہمارے سابق صدر سےجوتےاتارنے کی فرمائش کی ہوگی تو یہ سوچتے ہوئے کہ دہشت گردی کی جنگ میں امریکہ کے لیے ان کی خدمات سے واقف یہ احسان شناس شاید ان کی قدم بوسی کرنا چاہتا ہے مشرف صاحب نے فوراََ اپنے قدموں کو جوتوں کی قید سے آزاد کر دیا ہو گا لیکن بیلٹ اتارنے کا دوسرا نادر شاہی حکم ہمارے ا س عظیم قائد کی سماعتوں پر یقیناًبم بن کر گرا ہو گا۔ عالمِ مد ہوشی میں چارو نا چار اپنی بیلٹ کے بکل کھولتے ہوئے ایک لمحے کے ہزارویں حصے میں ہمارے اس فاتح کارگل و لال مسجد کے دماغِ فلک تاز میں امریکہ سے اپنی وفاداری کے جملہ منظر ایک ایک کر کے گھوم گئے ہوں گے۔ آزردہ دل سے اس نے ان ساعتوں کو آواز دی ہو گی جب رچرڈ آرمیٹیج کی ایک فون کال نے اس کے کمانڈو پن میں سے ہوا نکال کر اسے امریکی چوکھٹ پر سجدہ ریز ہونے پر مجبور کر دیا تھا۔ اس نے ان لمحوں کو یاد کیا ہو گا جب اپنے ملک کو امریکہ کی جنگِ دہشت گردی کا ایندھن بنانے کے لیے اس نے فرنٹ لائن اتحادی ہونے کا میڈل حاصل کیا تھا اور وفادارانِ بش کی فہرست میں اس کا نام سب سے اوپر لکھا گیا تھا۔ ان مبارک ساعتوں کو اس نے نمناک آنکھوں سے یا د کیا ہوگا جب اپنے وطن کے سینکڑوں مظلوموں کو امریکا حوالگی کے صلے میں دنیا کی تقدیروں سے کھیلنے والے جادوگر امریکیوں کے نازک لب صبح شام اس کے نام کی مالا جپتے تھے۔ امریکہ پرستی کے آئینِ نو سے نابلد قبائلی علاقوں پر آگ و آہن کی بارش سے لے کر محصورینِ لال مسجد پر فاسفورس بموں سے حملوں تک امریکا کے اشارہِ ابرو پر کیے جانے والے اپنے ایک ایک کارنامے کو اس نے پردہِ دماغ پر تازہ کیا ہو گا۔ اپنے امریکی آشناؤں کواپنے وطن کی سر زمین ڈرون حملوں سے پامال کرنے کی بخوشی اجازت دینے سے لے کر ان کی ایک ایک ادا پر اپنے ملک کی خود مختاری و سالمیت داؤ پر لگانے تک کی جملہ وفاداریاں اسے یاد آئی ہوں گی اور ڈبڈباتی آنکھوں سے اس نے یارانِ بے پرواہ کی ناقدری کا ماتم کیا ہو گا۔ زمانے کی یہ الٹی چال دیکھ کر اس کا دل کس قدر کٹ کٹ گیا ہو گا اور اسے وہ مکا بہت یاد آیا ہو گا جو دورانِ صدارت وہ اپنے ملک کے عوام کو موقع بے موقع دکھایا کرتا تھا۔


خود مختار پاکستان کے ایک سابق صدر اور ہماری بہادر افواج کے بہادر تر سپہ سالار کے ساتھ امریکا کے اس ناروا سلوک کی جس قدر مذمت کی جائے زیادہ ہے ۔ جس طرح آئینِ وفاداری نبھانے میں مشرف نے اس جانور کو بھی مات دے دی جو فنِ وفاداری میں بدنامی کی حد تک مشہور ہے اسی نسبت سے امریکا کو مشرف کی نمک حلالیوں کا صلہ دینا چاہیے تھا۔ لیکن بد قسمتی سے امریکا کا ماضی کا ریکارڈ بتا تا ہے کہ دوست داری کبھی بھی اس کا شیوہ نہیں رہا۔ ضرورت پڑنے پر گدھے کو بھی باپ بنا لینے کے سنہری اصول پر قائم امریکا صرف اس وقت تک اپنے پالتو وفاداروں کی ناز بر داریاں کرتا ہے جب تک وہ اس کی سامراجیت کے تحفظ کے لیے کوئی کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ چاہے وہ رضا شاہ پہلوی ہو یا پرویز مشرف صرف اس وقت تک امریکا کی آنکھ کا تارہ ہوتے ہیں جب تک وہ امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے اپنے ملک کی جڑ یں کاٹنے کی استعداد رکھتے ہوں۔ اقتدار کی با گ چھنتے ہی اپنے تئیں آسمان کے ستون سمجھنے والے یہ بے چارے راہنماستم گر امریکیوں کی نظروں میں چلے ہوئے کارتوسوں سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتے کہ مردہ گھو ڑوں پر شرطیں لگانا امریکی آئینِ سیاست کا حصہ نہیں۔ جب تک مشرف امریکا کے استعماری ایجنڈے کا پرزہ بن کر اپنے وطن کو خاک و خون میں نہلاتا رہا امریکا سے شاباشیاں لیتا رہا اب جب کہ اقتدار کی دیوی کا سایہ اس مظلوم سے چھن گیا ہے تو امریکی سکینگ مشینوں پر کھڑا کر کے جانے کیوں اسے نشانہ عبرت بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔


خواب غفلت میں اونگھتی ہوئی ہماری قوم کو اس نازک لمحے پر متحد ہو کر اپنے عزیز قائد کے لیے آواز بلند کرنی چاہیے۔ ہمیں اپنی تمام کھوئی ہوئی ہمتیں مجتمع کر کے امریکا سے کم از کم یہ سوال تو کرنا چاہیے کہ اس نے اپنے اس قدر وفاداردوست سے ایسا بیہمانہ سلوک کیوں کر برتا۔ یہ تو سوچابھی نہیں جا سکتا کہ مشرف کی تلاشی دہشت گردی کی روک تھام کے لیے اختیار کی گئی احتیاطی تدابیر کا حصہ تھی۔ امریکی دہشت گردی کے فروغ کے لیے مشرف کی خدمات سے امریکا کا بچہ بچہ واقف ہے اس لیے اس بات کا کوئی امکان نہیں کہ کینڈی ائیر پورٹ کے سکیورٹی اہلکار مشرف کو جانتے نہ تھے یا انہیں اس پر دہشت گرد ہونے کا شبہ تھا۔اسی طرح مشرف کے خوب رو چہرے کو دیکھتے ہوئے اس پرہیر وئین یا چرس کا سمگلر ہونے کا بھی شک نہیں کیا جا سکتا۔ حکومت چھن جانے پر دولت پیدا کرنے کے جملہ ذرائع بند ہو جانے کے باوجود مشرف مالی لحاظ سے اس حد تک خوشحال ہے کہ اس کو اس قسم کے گھٹیا کاموں کے ذریعے اپنی وہسکی کا خرچہ پورا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ مشرف سے اس شرمناک امریکی رویے کی لے دے کر ایک ہی منطقی وجہ نظر آتی ہے کہ امریکا مشرف کواس کی وفاداریوں کا صلہ اپنے مخصوص ستم گرانہ انداز میں دینا چاہتا ہے۔ بحر حال جو بھی وجہ رہی ہو ہمارے قومی لیڈر کی یہ توہین ساری قوم کے لیے باعثِ شرم ہے اور قوم کے ہر فرد کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس کے خلاف آواز بلند کرے۔ جلسے جلوسوں کے ذریعے امریکا تک یہ پیغام پہنچنا چاہیے کہ ہم امریکا کواپنے قومی ہیر و کی بیلٹ اتارنے کی کبھی اجازت نہیں دیں گے۔ ہمارے موجودہ حکمرانوں کو بھی ہوش کے ناخن لینے چاہئیں اور اس مسئلے پر تمام تعصبا ت کو بلائے طاق رکھ کر امریکا سے کھل کر بات کرنی چاہیے۔ اگرچہ امریکی چاکری میں انہوں مشرف کو واضح طور پر مات دے دی ہے لیکن اقتدارکی رخصتی پر کل کون جانے انہیں بھی مشرف کی طرح دیس بہ دیس پھر کر اپنی بیلٹیں اور جوتے اتروانے پڑیں۔ اگر آج ہماری قوم نے اس نازک مسئلے پر خود داری کا ثبوت نہ دیا اور ہمارے حکمران حقائق سے آنکھیں چرانے کا وطیرہ اختیار کیے رہے تو کل کو امریکا کی دیدہ دلیری کہیں اس قدر نہ بڑھ جائے کہ بیلٹوں اور جوتوں کے بعد پینٹیں اتارنے کی باری آجائے۔ مشرف کی ملک و قوم کے لیے وسیع تر خدمات ہم سے یہ مطالبہ کر رہی ہیں کہ ہم ایسی نا مسعود ساعتیں آنے سے پہلے پہلے امریکا کو یہ احساس دلا دیں کہ اس کی ایسی دراز دستیاں ہمیں سخت ناپسند ہیں۔


افسوس کہ اپنوں کی بے وفائی اور غیروں کی بے اعتنائی نے آج ہمارے عظیم لیڈر کی عظمت کو گہنا کر رکھ دیا ہے۔ نشا نہِ تمسخر و استہزا بنا یہ مردِ روشن خیال شرابِ خانہ خراب میں پناہ لینے پر مجبور ہے۔ سگاروں کے دھوئیں اور شراب کے خمار میں شب و روز اپنے غم بھلانے کی کوشش کرتا یہ عظیم لیڈر قوم کی اجتماعی بے حسی کا شکار ہے۔ اقتدار کی بہار تھی تو کیسے رنگ رنگ کے اور نسل نسل کے فصلی پکھیرو اس کے گرد آ اکھٹے ہوئے تھے اور دن رات اس کی تسبیح پڑھ پڑھ کر اس کا ڈھیروں خون بڑھایا کرتے تھے پر اب موسمِ خزاں کے سیاہ سایوں نے وہ ساری رنگینیاں چھین لی ہیں ۔ اب تو خوش کن یادوں اور صہبا کے سوا اس کے پاس پامال طوائفیں ہی بچی ہیں ۔ پس یہ بے چارہ انہیں پر پونڈ لٹاتا ہے اور اپنے امریکی یاروں کی طرف دزدیدہ نظروں سے دیکھتا ہے کہ کہیں سے اذنِ بار یابی مل جائے تو کھوئی ہوئی بہاریں لوٹ آئیں ۔ جب قوم اپنے لیڈروں کی قدر ترک کر دے اور بے حسی کی چادر تان لے تو لیڈر بے چارہ اس کے علاوہ کر بھی کیا سکتا ہے۔

ہفتہ، 1 مئی، 2010

قاید تحریک کی للکار

ایم کیو ایم کے تا ریخی پنجاب کنونشن نے بدامنی اور مہنگائی کے ستائے ہوئے پنجاب کے مظلوم عوام کو جہاں ایک طرف سستی تفریح فراہم کی ہے وہیں اس اجتماع نے ستم رسیدہ پنجابیوں کو الطاف حسین جیسے عظیم راہنما کی صورت میں وہ نجات دہندہ بھی فراہم کیا ہے جو ان کے تمام مسائل و مصائب کو بوریوں میں بند کر کے انہیں ان سے دائمی نجات دلانے کے فن میں مہارتِ تامہ رکھتا ہے۔اس کنونشن میں ظالم جاگیرداروں کے خلاف الطاف حسین کے نعرہِ مستانہ نے جو اہلِ پنجاب کی اصطلاح میں بڑھک کہلاتاہے بے چارے چو دھریوں اور سرداروں پر لرزہ طاری کر دیا ہے اور انہیں اپنی چودھراہٹیں اور سرداریاں شدید خطرے میں نظر آنے لگی ہیں۔

قائدِ تحریک کے پنجابی عوام سے براہِ راست تخاطب کے اس کامیاب مظاہرے کو ملاحظہ کرنے کے بعد اب ان کو تاہ نظر حضرات کو بھی اپنی رائے فوراََ بدل لینی چاہیے جو اب تک اس عظیم جماعت کو مسخروں اور جو کروں کا ایک بگڑا ہوا ٹولا سمجھتے تھے ا ور آتشِ تعصب انہیں ایم کیو ایم کو متحدہ کی بجائے مسخرہ قومی موومنٹ کہنے پر مجبور کرتی تھی۔
الطاف حسین جب پنجاب کے تین بڑے شہروں کی فضاؤں کو اپنی شعلہ بیانی سے گرما رہے تھے تو حاضرینِ مجالس ان کی قوت تقریر کے ساتھ ساتھ تخیل آرائی پر غیر معمولی گرفت کی بھی مبہوت ہو کر داد دے رہے تھے ۔ پنجاب کے عوام جو اب تک بی بی اور با بو کی بے رنگ تقریریں سننے کے عادی تھے اب جب انہیں الطاف حسین کی سات سروں میں گندھی ظرافت آمیز تقریر سننے کو ملی تو ان کا خوشگوار حیرت میں مبتلا ہو جانا کچھ ایسے اچنبھے کی بات نہیں۔اہلِ پنجاب کی حسِ مزاح یوں بھی ضرب المثل کی حیثیت رکھتی ہے اس لیے امید کی جاتی ہے کہ مستقبل میں قا ئدِ تحریک کے خطابِ خندہ انگیز سے لطف لینے کے لیے وہ جوق در جوق ایم کیو ایم کے کنو نشنوں میں آیا کریں گے۔ قیاس یہ کیا جا رہا تھا کہ پنجاب حکومت قائدِ تحریک کی انقلابی آواز کو پنجاب کے عوام کے کانوں تک نہیں پہنچنے دے گی اور عوامی انقلاب کی راہ میں روڑے اٹکائیں جائیں گے لیکن شہباز حکومت کو قائدِ تحریک کی مقبولیت کا کچھ اس قدر یقین تھا کہ نہ صرف ایم کیو ایم کے کنونشن کو فول پروف سکیورٹی فراہم کی گئی بلکہ شہباز شریف نے یہاں تک کہہ دیا کہ ایم کیو ایم جہاں چاہے جلسہ کر سکتی ہے۔ ہمارے خیال میں شہباز شریف پنجاب میں آلات و وسائلِ تفریح کی کمی سے اچھی طرح واقف ہیں چنا چہ انہوں نے ایم کیو ایم کے پنجاب کنونشن کے ذریعے اہلِ پنجاب کو ہنسنے بولنے کا ایک موقع فراہم کیاہے۔


قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک بد قسمتی سے پاکستانی عوام کی تقدیروں سے کھیلنے کا حق چند مخصوص افراد اور جماعتوں تک محدود تھا ۔ کبھی بنیادی جمہوریتوں کا جھانسا دے کر کبھی روٹی کپڑے اور مکان کانعرہ لگا کر کبھی مذہب کے دھوکے سے اور کبھی روشن خیالی کے سبز باغ دکھا کر پاکستان کے سادہ لوح عوام کوچند گنے چنے افراد اول روز سے ہی تابہ مقدور بے وقوف بناتے آئے ہیں۔ اکیسویں صدی نے سائنس و ٹیکنالوجی کے ذریعے معلومات کا وہ طوفان برپا کیا ہے کہ اب عوام الناس کو الو بنا کراوران کے حقوق غصب کر کے چین کی بنسری بجانا اتنا آسان نہیں رہا جتنا پہلے تھا۔ میڈیا کے ذریعے عوامی شعور کی بیداری نے روایتی سیاست دانوں کے کھوکھلے اور زنگ آلود نعروں کو بے نقاب کر کے رکھ دیا ہے چناچہ اب عوام کو مزید بے وقوف بنانے کے لیے ان خالی کارتوسوں سے کام نہیں لیا جا سکتا۔ ایم کیو ایم جو زمانہ شناس نوجوانوں کی ایک نہایت ہی منظم جماعت ہے حالاتِ حاضرہ کی اس کروٹ پر گہری نگاہ رکھے ہوئے ۔ ایم کیو ایم جانتی ہے کہ فرسودہ نعروں سے عوام کو گمراہ کرنا اب ممکن نہیں رہا ۔ چناچہ متوسط طبقے کو اقتدار کے ایوانوں تک پہنچانے کا نیا نعرہ لگا کر اس منفرد جماعت نے پاکستان کی روایتی سیاست میں کھلبلی مچا دی ہے۔وہ ظالم جاگیر دار جو روزِ ازل سے غریب کسانوں اور پسے ہوئے مزارعوں پر ظلم و ستم کے کوہِ گراں توڑتے آئے ہیں ایم کیو ایم کی للکار کا نشانہِ خاص ہیں۔ مشرف دور سے قبل الطاف بھائی ظالم جاگیر دار وں کے ساتھ جملہ آمروں کو بھی بے نقط صلواتیں سنایا کرتے تھے ارو ان کی مٹی پلید کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتے تھے لیکن مشرف کی گود میں چند سال بیٹھ کراقتدار کے جام سے اصولی لذت کوشی کے بعد اب انہیں آمریت اتنی قابلِ نفرت نہیں لگتی کہ ہر تقریر میں اس کے لتے لیے جائیں۔ اگر پنجاب کے ظالم جاگیر داروں نے بھی مشرف کی طرح ایم کیو ایم کو مناسب مقدارمیں گھاس ڈال دی اور اسے پنجاب میں قدم جمانے کا موقع فراہم کیا تو امید کی جاسکتی ہے کہ قائدِ تحریک ظالم جاگیر دار کےخلاف بھی اپنی للکار پر نظر ثانی فرما لیں۔


پنجاب کے عوام جو اب تک ڈنڈوں اور سوٹوں والی ڈھیلی ڈھالی سیاست سے آشنا تھے ایم کیو ایم کے پنجاب میں نزول کے بعد اب انہیں تڑ تڑاتی ہوئی گولی بردار سیاست کے لیے ذہنی طور پر تیار ہو جانا چاہیے۔ اس انوکھی جماعت سے پنجاب کے عوام کو نت نئے دلچسپ تجربوں سے شناسائی کا موقع ملے گامثلاََ وہ بوریاں جنہیں وہ اب تک دانہِ گندم و دھان وغیرہ کو محفوظ رکھنے کیلئے استعمال کرتے آئے ہیں اب ان کے نئے نئے حیرت انگیز استعمال ان کے سامنے آئیں گے۔اسی طرح بھتہ خوری کا فنِ خصیص جو اس سے پہلے اچکے بدمعاش نہایت ہی بھونڈے اور اجڈ انداز میں برت رہے تھے اب ایم کیو ایم کی آمد کے بعد اسے منظم انداز میں جدید سائنسی خطوط پر استوار کیا جائے گا۔غرض ایم کیو بہارِ تازہ کے جھونکے کی طرح گلستانِ پنجاب کو ہر معاملے میں ترو تازہ کر دے گی۔


ایم کیو ایم کے ان جانثار کارکنوں کو جنہیں یہ کنونشن کامیاب کرنے کے لیے کراچی سے بطور خاص در آمد کیا گیا تھا اگر شرکائے مجلس کی مجموعی تعداد میں سے منہا بھی کر دیا جائے تو پیچھے کرسیوں کے علاوہ خاصی تعداد ان حاضرین کی بچتی ہے جو بقائمی ہوش وحواس اس محفلِ دلپذیر سے حظ اٹھانے آئے تھے۔ اس کثیر تعداد میں اہلِ ذوق کا پنجاب کنونشن میں حاضری دینا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ ایم کیو ایم کا سورج پنجاب میں بھی طلوع ہونے کو ہے اور قائدِ تحریک کے وہ دلچسپ خطاب جو اہلِ کراچی کی سماعتوں میں رس گھولا کرتے تھے اب پنجاب کے عوام بھی ان سے لطف اندوز ہو سکیں گے۔ سلطان راہی مرحوم کے قتل کے بعد یوں بھی اہلِ پنجاب ایک طویل عرصے سے اپنے صوبے کی فضا میں جوش آور بڑھکوں کی کمی شدت سے محسوس کر رہے تھے امید ہے کہ قائدِ تحریک کی پاٹ دار للکار یہ کمی بہت حد تک پوری کر دے گی۔ اسی طرح لاہور کے مزا حیہ تھیٹر جو قابل فنکاروں کی عدم دستیابی کے باعث تیزی سے زوال پذیر ہیں قائدِ تحریک کی تقریریں ان کے احیا کے لیے بھی کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں۔


محرومیوں اور مجبوریوں کے پنجے میں جکڑے ہوئے پنجاب میں یوں تو ایم کیو ایم کو اپنے اصولوں کی سیاست کرنے میں کسی مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا تاہم چند معمولی نوعیت کے مسائل ہیں جن سے نپٹنا ہی ایم کیو ایم کا پنجاب میں اصل امتحان ہو گا۔ کراچی کے تعلیم یافتہ عوام کے بر عکس جو پچھلے لگ بھگ ڈیڑھ درجن سالوں سے الطاف بھائی کے ٹیلیفونک خطابوں کو سنتے سنتے اس فنِ لطیف میں کمال حاصل کر چکے ہیں پنجاب کے نسبتاََکم تعلیم یافتہ عوام کو اس نازک فن پر عبور حاصل کرنے کے لیے کچھ وقت درکار ہو گا۔ ایم کیو ایم کو اپنی فکری نشستوں کے ذریعے جن میں ٹیلیفونک خطاب سننے کے آداب و فوائد پر مفصل بحث کی جائے اہلِ پنجاب کی تہذیب و تربیت کا فوراََ انتظام کرنا چاہیے ۔ بہتر تو یہ ہوتا کہ قائدِ تحریک دیارِ فرنگ چھوڑ کر اپنے اس پیارے دیس واپس تشریف لے آتے جس کی فلاح و بہبود کا خیال انہیں ایک دم کے لیے بھی چین نہیں لینے دیتااور وہ اپنے کارکنوں کے درمیان رہ کر متوسط طبقے کے انقلاب کی راہنمائی کرتے لیکن بدقسمتی سے قتل ،اغوا اور ریپ کے وہ 234 جھوٹے مقدمات جو مخالفین نے قائدِ تحریک کی مقبولیت سے خائف ہو کر ان کے خلاف درج کروائے تھے قائد کی واپسی میں سدِ راہ ہیں۔ ہمارے خیال میں ایم کیو ایم کو ان 234 کیسوں کے مدعیان، گواہان اور وارثان کی صفائی کا کام تیزتر کر دینا چاہیے تا کہ قائدِ تحریک کی واپسی کی راہ میں حائل تمام روڑوں کو مناسب انداز میں ٹھکانے لگا کر پاکستانی سر زمین کو قائدکی قدم بوسی کا اعزاز جلد سے جلد بخشا جا سکے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ عوام کو بے وقوف بنانے پر ن لیگ و پیپلز پارٹی کا اجارہ ختم کر کے عوام کی جماعت کو عوام کی خدمت کا بھر پور موقع دیا جائے ۔ کراچی میں ایم کیو ایم کا درخشاں ریکارڈ بتاتا ہے کہ جیسی عوام کی خدمت کرنے کا جذبہ اور صلاحیت اس جماعت میں ہے اور کسی کو نصیب نہیں۔ قائدِ تحریک کی للکار سے اگر اونگھتے ہوئے پنجابی جاگ پڑے تو یہی بیداری نویدِ انقلاب ثابت ہو گی۔

ہفتہ، 24 اپریل، 2010

یہ اعزاز کہیں چھن نہ جائے

اگر دنیا کی صابر ترین اقوام کی فہرست مرتب کی جائے تو پاکستانی قوم کانام بلاشبہ سرِ فہرست ہوگا۔ مثل تھرمامیٹر کے صبر ماپنے کا اگر کوئی آلہ ہوتا اور اس سے پاکستانی قوم کی قوتِ برداشت کو جانچا جاتا تو نتائج حیران کن نکلتے۔ راہ گزر کے وہ پتھر جو ہمیشہ ٹھوکروں کی ضد میں رہتے ہیں اور اس دیس کے عوام جو ازل سے ظلم و ستم کی چکی میں پستے آئے ہیں ہر دو کا درجہِ برداشت ایک سا نکلتا۔ ہر طلوع ہونے والاسورج پاکستانی قوم کے صبر کا ایک نیا امتحان لیتا ہے اوراس منفرد قوم کو ہر ابتلا سے ٹھنڈے پیٹوں سرخرو ہوتا دیکھ کر انگلیاں دانتوں میں داب لیتا ہے۔  اس قوم کے چوسٹھ سالہ عرصہِ حیات میں کبھی یوں نہیں ہوا کہ ظلم و استبداد کی ہوائے سنگین سے گھبرا کر اس کے صبر کا پیمانہ چھلک پڑا ہو یا جبرو استحصال کے نیزوں کی ضرب سے اس کی برداشت کی حدیں ٹوٹ کر بکھر گئی ہوں ۔ بتِ بے خبر کی طرح ایستادہ اس قوم کو ظلم سہنے کی ان تھک عادت تو ہے پر بغاوت کرنے کا ذرہ بھر مادہ بھی شاید قدرت نے اس کے اندر نہیں رکھا۔
روسی استعمار کی غارت گرِ دین و ایماں اشتراکیت تلے چھ دہائیوں تک پسنے والے کر غزستان کے مسلمان اپنے مذہب ، ثقافت اور اقدار کے ساتھ ساتھ اگر اپنی طاقتِ گویائی بھی کھو دیتے ، سالہاسال تک اشتراکیت کے آہنی ہتھوڑے تلے سسکتے سسکتے اور اس کے مکروہ پراپیگنڈے کو سہتے سہتے اگر وہ ہر حال میں راضی بہ رضا رہنے کی صو فیانہ منش اپنا بھی لیتے تو کچھ باعثِ حیرت بات نہ تھی لیکن کرپشن اور اقربا پروری کے جوہڑ میں رقص کرتے اپنے کو ر نگاہ حکمرانوں کی خر مستیاں یہ قوم زیادہ دیر تک برداشت نہ کر سکی۔ سات اپریل کو کر غزستان کے وہ عوام جنہیں سوویت یونین کے اشتراکی فلسفے نے بھیڑ بکریوں کی طرح منہ پر قفل باندھ کر صرف چرنا سکھایا تھا دارالحکومت بشکیک کی گلیوں میں دھاڑتے ہوئے نکلے اور اپنے بدعنوان صدر قرمان بیک یووف کو سر پر پاؤں رکھ کر بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ہمارے دوسرے پڑوسی اہلِ ایران اگر مغربی ثقافت اور عریانگی کی افیون کھا کر اپنے حال و مستقبل سے بے نیاز حال مست ہو جاتے تو بھی کچھ عجیب بات نہ تھی لیکن 1979 کو رضا شاہ پہلوی کو ایرانی عوام نے امریکی سامراجیت کی چاکری کرنے کے جرم میں اس نفرت اور استہزا سے دھتکارا کہ اسے آنیوالی نسلوں کے لیے نمونہِ عبرت بنا دیا۔پاکستانی عوام کے نقطہِ نظر سے دیکھا جائے تو قرمان بیک یووف اور رضا شاہ پہلوی کے قصور اس درجیکے نہ تھیکہ ان کے ساتھ ایسا غیر شاہانہ سلوک روا رکھا جاتا۔قرمان بیک یووف نے اپنے پانچ سالہ دورِ اقتدار میں اپنوں کو نوازنے ، بد عنوانی و رشوت ستانی کی سر پرستی کرنے اور مہنگائی و گراں فروشی کے ذریعے عوام کی زندگی اجیران کرنے جیسے معمولی اشغال ہی تو کیے تھے۔ رضا شاہ پہلوی نے اپنے استحصالی ہتھکنڈوں کے ذریعے ایرانی عوام کے خون سے امریکی یارانے کی شمع روشن کرنے کا عام سا فعل ہی تو کیا تھا۔ یہ دونوں مردانِ عبرت اگر پاکستان میں پیدا ہوتے تو سر آنکھوں پر بٹھا ئے جاتے ۔اقتدار کی کرسی تا حیات ان کی جاگیر رہتی اور کرپشن و بدعنوانی کا کوئی شغل ، امرکی چاکری کا کوئی الزام ان سے اقتدار نہ چھین سکتا۔یہ محض ہوائی دعوٰ ی نہیں ۔ آپ پاکستان کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لی جیے۔ پاکستانی رضا شاہوں اورقرمان بیک یووفوں کے سامنے یہ دونوں بے چارے تو نہایت منحنی سے بونے لگتے ہیں ۔سکندر مرزا سے لے کر آصف زرداری تک پاکستای رضاشاہوں اور قرمانوں کی تاریخ اتنی تابناک ہے کہ نگاہیں چند ھیا جاتی ہیں ۔ اس تاریخ کا ایک ایک ورق ایسے شاندار کارناموں سے رقم ہے کہ بے اختیار پاکستانی قوم کے جذبہ برداشت کو داد دینے کو جی چاہتا ہے۔

جو قوم ملک کو دو لخت کرنے والوں کے باجماعت ترانے گا سکتی ہے اور انہیں اقتدار کے سنگھاسن پر عزت و تکریم سے بٹھا سکتی ہے ، جس قوم کی مروت اس درجے تک بڑھی ہوئی ہو کہ اپنے ان سورما جرنیلوں کوجو پیشیہ وارانہ مہارت کی تاریخ رقم کرتے ہوئے نوے ہزار فوجیوں کو دشمن کے سامنے ہتھیار ڈلوا دیں مرنے پر نہایت عزت و احترام کے ساتھ توپوں کی سلامیاں دے دے کر رخصت کرسکتی ہو، جس قوم کو روئے ارضی کے بد عنوان ترین افراد حکومت کے لیے منتخب کرتے وقت رائی برابر احساسِ پشیمانی نہ ہو ، جس قوم کا ہر نام نہاد راہنما خوابوں اور سرابوں کی ایک حسین دنیا دکھا کر اقتدار کے تخت پرتشریف لائے اور بھوک و افلاس کے تحفے دے کر اس بد نصیب قوم کی رگوں سے زندگی کا آخری قطرہ تک چوس کر لے جائے ایسی سخت جان قوم کے درجہ برداشت کوداد نہ دینا اس کے ساتھ صریح زیادتی ہے۔

پاکستانی قوم کا یہی ایوبی صبر ہے جس کے صدقے یہ اس نہج پر پہنچ گئی ہے جہاں اس پر ایسی بلائیں حکمران بن بن کر نازل ہو رہی ہیں جن پر ایک اچھے حکمران تو کجا اچھے انسان ہونے کا بھی شک نہیں کیا جا سکتااور جو کسی ملک تو کجا اپنے گھر پر حکومت کرنے کے بھی لائق نہیں۔ کرپشن اور بدعنوانی کی غلاظت میں لت پت یہ وہ مخلوق ہے جس کی کوتاہ بینی اسے اپنی دم کے گرد چکر کاٹنے اور اپنے مفادات کی پوجا پاٹ کرنے سے ہی فرست نہیں لینے دیتی۔ پاکستان کی حکومتی سیج پر کھلنے والا ہر نیا شگوفہ لوٹ گھسوٹ اور بدعنوانی کے نت نئے طریقے لے کر اس یقین سے آتا ہے کہ وہ ملک کی لٹیا ڈبو کر بھی کامیاب و کامران مسرت کے بین بجاتا جائے گا اور چند سال اپنے کسی بھائی بند کو اقتدار کے جام سے لذت کوشی کروانے کے بعد دوبارہ نیا روپ بھر کر عوام کو الو بنانے کے شغل میں لگ جائے گا۔

مشرف کے نو سالہ دورِ زیاع میںیوں لگ رہا تھا جیسے بدعنوانی ، نااہلیت اور مسخرہ پن اپنے انتہا کو پہنچ گئے ہیں اور پاکستانی قوم کو مشرف اور اس کے جوکروں سے بڑھ کر شاید کوئی عذاب اب مستقبل میں برداشت نہ کرنا پڑے ۔ پاکستان کے بے خبر عوام جب مشرف کے رخصت ہونے پر خوشیوں کے بین بجا رہے تھے تو کون اندازہ کر سکتا تھا کہ پرویزوں ، وصی ظفروں اور شیرافگنوں کی ایک نئی کھیپ نئے رنگ روپ میں ان کی آرزؤں اور تمناؤں کا تمسخر اڑانے کی تیاری کر رہی ہے۔ مشرف کے جانے کے بعد بہت جلدہی پاکستانی قوم پر یہ عقدہ وا ہو گیا تھا کہ سیاسی سرکس میں جوکروں نے صرف لباس بدلا ہے ا ور چہروں پر نئے غازے مل لیے ہیں ان کا اندروں مشرف کے جوکروں کی طرح تاریک تر ہے۔

پاکستان کے مجبور و مقہور عوام پی پی کی عوامی حکومت کو بھگتتے دو سال سے زائد کا عرصہ کاٹ چکے ہیں ۔ ظلم و استحصال کو پاکستانی عوام چھ دہائیوں سے سہتے آئے ہیں اس لیے یہ گھنگورتاریکی ان کے لیے نئی بات نہیں۔ان کے صبر کا پیمانہ نہ پہلے کبھی چھلکا نہ آئندہ چھلکنے کاڈر ہے، نہ پہلے انہوں نے کسی حکمران کو بدعنوانی و کرپشن کے جرم میں پھانسی پر چڑھایا نہ آئندہ چڑ ھائیں گے لیکن اتنا ضرور ہے کہ پے در پے آفات نے انہیں آزرد کر دیا ہے ۔ ان کی آنکھیں جن میں کبھی ایک فلاحی مملکت کے خواب چراغاں کیے رکھتے تھے اب ہر دم چھلکنے کو بے تاب رہتی ہیں ۔ جن سینوں میں کبھی اپنے وطن سے عشق ٹھاٹھیں مارا کرتا تھا اب اس پہ غم و غصے کے سیاہ بادل سایہ فگن رہتے ہیں ۔ جو زبانیں صرف زندہ باد کے نعروں سے آشنا تھیں اب مردہ باد کا ورد بھی سیکھنے لگی ہیں۔ پاکستانی عوام کی تاریخِ صبر تو ایسا کچھ نہیں بتاتی لیکن جانے کب وہ ہاتھ جو تالیاں پیٹنے کے عادی ہیں بھنچ کر مکوں کی شکل اختیار کر جائیں اور پاکستانی دنیا کی صابر ترین قوم ہونے کا اعزاز گنوا بیٹھیں۔

منگل، 20 اپریل، 2010

نقلی ویڈیو کے اصلی فائدے

پاکستانی قوم کو روشن خیال اعتدال پسندی کے جھولے پے اٹھکیلیاں کرتے ابھی کچھ زیادہ مدت نہیں بیتی لیکن اس کے ثمرات نے اس دیس کے کوچہ و بازار کوابھی سے معطر کرنا شروع کر دیا ہے۔ چارسو پھیلتی حسینانِ توبہ شکن کے جاں فزا جلوں کی بہتات ،  پروینانِ نیک آرا کے عاشقانِ پاک طینت کے ہمراہ بھاگنے کے روز افزوں واقعات اور رشوت ستانی و بد عنوانی کے پھلتے پھولتے کاروبار پہ ہمارے حکمرانوں کا شفقت بھرا ہاتھ یہ سب واضح علامات ہیں اس امر کی کہ روشن خیالی کے نخل نے برگ و بار لانا شروع کر دیے ہیں اور اب پاکستان بھی ترقی و خوشحالی کی ریس میں سرپٹ دوڑنے کے قابل ہو گیا ہے۔

وہ انتہا پسند اور قدامت پرست طبقہ جو پاکستان کو روشن خیالی کے زینے پر چڑھتے کسی صورت نہیں دیکھ سکتا اور جو ہمیشہ اس تاک میں رہتاہے کہ کب موقع ملتے ہی پاکستان کی ٹانگیں کھینچ کر اسے واپس رجعت پسندی کے دوزخ میں دھکیل دیا جائے حالاتِ موجودہ پر نہایت غمگین ہے اور اس بے چارے کو سمجھ نہیں آرہی کہ روشنیوں کے اس سیلاب کا کیسے مقابلہ کیا جائے۔ چناچہ کو ئی مناسب صورت نہ پاکر اب یہ طبقہ اوچھے ہتھکنڈوں سے اس شمع کو بجھانے کے درپے ہے جسے حضرت مشرف اپنے مبارک ہاتھوں سے روشن کر گئے تھے۔ سوات والی ویڈیو کے خلاف حالیہ دنوں اٹھنے والا طوفان درا صل انتہا پسندوں کا ایسا ہی ایک اوچھا وار ہے جس کی مدد سے وہ روشن خیالی کے خوبصورت چہرے تلے چھپی مکر و فریب کی جھریوں کی اشاعت عام کر کے اسے چاروں شانے چت گرانے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ اس خبر نے کہ ایک سال پہلے سوات آپریشن سے قبل منظر عام پر آنے والی وہ ویڈیو جس میں ایک نوجوان لڑکی کو سرِ عام کوڑے ماے جاتے دکھایا گیا تھا اور جس کا سہرا طالبان کے سر باندھا گیا تھا کلی طور پر جعلی تھی ہمارے انتہا پسند طبقے کے شکستہ حوصلوں اور پست امیدوں میں جان ڈال دی ہے ۔ چناچہ اس ویڈیو کلپ کی کامیاب ڈائریکٹر اور  پروڈیوسر محترمہ ثمر من اللہ کی شان میں نہایت نامناسب گستاخیوں کا ایک غیر مختتم سلسہ شروع ہو گیا ہے جس میں انہیں اور ان کی این۔ جی۔ او ایتھنو میڈیا کو امریکا کی پالتو ایجنٹ اور مغرب کی زرخرید آلہ کار ثابت کرنے کی کامیاب کوشش کی جارہی ہے۔ ایک طرف قدامت پرست اس واقعے کے ذریعے ہماری پیاری این ۔ جی۔ اوز کے ان چہروں کو عوام کے سامنے لانے کی کوشش کر رہے ہیں جو اب تک نہات کامیابی سے تہذیب و شائستگی کے میک اپ تلے چھپے ہوئے تھے تو دوسری طرف روشن خیال اس فتنہ ساماں ویڈیو کو اصلی ثابت کرنے کے لیے کمر کس کر میدان میں اتر آئے ہیں اور ایسے ایسے دلائل اور نکات اٹھا رہے ہیں جن میں دلیل سے زیادہ ان کے جدت طبعی اور نکتہ رسی جھلکتی ہے۔غرض ان دونوں متحارب گروپوں کے درمیان گھمسان کی جنگ جاری ہے اور ہمارے جیسے ضروریاتِ زمانہ اور سیاستِ حاضرہ سے ناواقف سر بہ گریباں ہیں کہ کس کی بات مانیں اور کس کو جھو ٹا گردانیں۔ البتہ حالیہ دنوں میں ہماری حکومت کے کارپرداز خصوصاََہمارے وزیر داخلہ صاحب نے جس شدومد سے اس ویڈیو کے اصلی ہونے کا بار بار اعلان کیا ہے اسے دیکھتے ہوئے ہمیں گمان ہوتا ہے کہ یہ ویڈیو واقعتا جعلی تھی ۔

قطع نظر اس امر سے کہ یہ ویڈیو اصلی تھی یا نقلی اس سے نہایت مختصر مدت میں متنوع فوائد حاصل ہوئے۔ طالبان کے خلاف اس ویڈیو نے ہمارے سادہ لوح عوام کی رائے ہموار کرنے میں تاریخی کردار ادا کیا۔ پاکستانی عوام جو پچھلے کئی برسوں سے طالبان کے خلاف پھس پھسی حکومتی دلیلیں اور آئی۔ ایس ۔ پی۔ آر کے مضحکہ خیز بھاشن سن سن کر عاجز آچکے تھے اور جنہیں یہ سمجھ نہیں آتی تھی کہ وہ جارح امریکی استعمار سے بر سرِ پیکار طالبان کے خلاف ہماری اس حکومت کی بات کیسے مان لیں جو غلامیِ مغرب میں اپنا تن من نچھاور کر کے کاسہ لیسی اور دریوزہ گری کی نئی تاریخ رقم کر رہی ہے ۔ یہ ایک تاریخی امر ہے کہ یہود و نصاری کی دوستی پاکستانی عوام کے گلے سے کبھی بھی نہیں اترپاءی۔ چناچہ منظر نامہ یہ تھا کہ امریکی ڈور پر تھر کتی ہماری حکومت کا اپنی ہی سر زمین پر آپریشن کرنے کا فیصلہ عوام الناس میں سخت غیر مقبول تھا کہ اچانک مارچ 2009 کو ایک بے بس لڑکی کو مبینہ طالبان کے ہاتھوں کوڑے کھاتے دکھا کر کایا پلٹ دی گئی۔ پاکستان کی بھولی بھالی عوام جو 1971میں بھی مکتی باہنی اور بھارتی افواج کے خلاف ہماری بہادر افواج کی فتوحات پر آخری دم تک سر دھنتی رہی اب پھر جھانسے میں آگئی۔ ہماری فوج کے جوانوں کے ڈانواں ڈول مورال کے لیے اس ویڈیو نے مہمیز کا کام کیا اور محمد بن قاسم کے فرزند ایک بے کس لڑکی کی مظلومانہ پکار پر لبیک کہتے ہوئے میدانِ کارزار میں دیوانہ وارکود پڑے۔ سوات آپریشن کی برکت سے آپریشن در آپریشن کا ایک سلسلہ شروع ہوا جس نے پاکستان کی معاشی اور سماجی حالت کو بے حال کر دیا۔ ان آپریشنوں میں بہنے والے خونِ ناحق کی ذمہ داری جہاں امریکہ کی بے لگام استعماری خواہش اور پاکستان کی دا ئمی ہوسِ زر ہے وہیں اس ویڈیو جیسے چھوٹے چھوٹے عوامل نے بھی جلتی پر تیل کا کام کیا۔ اس ویڈیو کے جعلی ہونے کے انکشاف نے جہاں ان تمام تجزیہ نگاروں اور دانش وروں کو کھسیانا کر دیا ہے جو اس کے ظہور پذیر ہونے پر گھنٹوں اس کی مذمت میں نہایت پر مغز اور پر اثر تبصرے کرتے رہے وہیں وہ سیاسی پارٹیاں جو اس کے سامنے آنے پر انسانی حقوق کے چیمپین بننے کے شوق میں اس کے خلاف نہایت جوشیلے مظاہروں کا اہتمام کرتی رہیں اب اصل حقیقت کے کھلنے پر دَم سادھے اور دُم دبائے بیٹھی ہیں۔ ہمارے میڈیا نے جو اس ویڈیو کے منظر عام پر آنے پہ نہایت جوش و خروش سے اس کی ترویج میں دن رات مشغول رہا اب دوسری تصویر سامنے آنے پر نہایت ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے چپ ہے۔

ہم یہ تو نہیں جانتے کہ طالبان کو رسوا کرنے والے اس منفرد آئیڈیے نے محترمہ ثمر صاحبہ کے خلاق دماغ میں جنم لیا یا ہمیشہ کی طرح اس کی پشت پر دانشِ افرنگ کار فرما ہے لیکن اتنا بحرحال واضح ہے کہ کسی قوم کو بحیثیتِ مجموعی الو بنانے کی شاید ہی کوئی ایسی مثال اس سے قبل موجود ہو۔اگر یہ محترمہ ثمر صاحبہ کی تخلیق ہے تو ان کے ذہنِ رسا کی داد دینی چاہیے اور ہمیں بحیثیتِ قوم فخر کرنا چاہیے کہ ہماری سر زمین نے مشرف کی روشن خیالی کے صدقے ایسے دیدہ ور پیدا کرنے شروع کر دیے ہیں جو کسی عالی مقصد کے حصول کے لیے  ملی، ملکی یا اخلاقی اقدار کو پاؤں تلے روندتے ہوئے ذرا نہیں ہچکچاتے ۔

اس ویڈیو کے جعلی ثابت ہونے پر لوگوں کا مضطرب ہونا ہماری سمجھ سے باہر ہے ۔  اگر یہ الزام درست بھی ہے کہ اس ویڈیو کی تخلیق کے لیے امریکی لابی نے لاکھوں ڈالر محترمہ ثمر صاحبہ کو دیے تو بھی بھلا اس سے پاکستان کے مفادات پر کہاں زک پڑتی ہے؟ غیروں سے ڈالر لے کر اپنوں کی گردنیں مارنا ہمارے ملک میں اب اتنا انوکھا فعل نہیں رہا کہ محترمہ کی اس حرکت پر ان کے خلاف واویلا برپا کر دیا جائے۔ آخر امریکا و یورپ سے ڈالر کھینچ کھانچ کر پاکستان لانا ہی تو ہماری حکومت کا اول و آخر مقصد و منشور ہے جس کے حصول کے لیے ہم پچھلے کئی سالوں سے اپنے قبائلی علاقوں میں آگ و خون کا ہولناک کھیل رہے ہیں۔ پس اگر محترمہ نے اس مقصد کے لیے ذرا مختلف انداز اپنا لیا تو کیا برا کیا ؟

مذکورہ ویڈیو سے محترمہ ڈائریکٹر صاحبہ اور ان کی این۔ جی۔ او کو توجو فوائد و ثمرات حاصل ہوئے وہ ان کی محنت کا پھل ہیں اور انہیں ملنا ہی چاہیے تھے لیکن خود پاکستان بھی اس کے ثمرات سے نہال ہوئے بغیر نہیں رہا۔ اقوامِ عالم میں شہرتِ عام کا جو تمغہ اس ویڈیو کے صدقے پاکستان کے گلے میں ڈالا گیا اس نے ہمارے نام کو چار چاند لگا دیے ہیں۔ اس خیال انگیز ویڈیو کے حق میں محترمہ ثمر صاحبہ کی یہ دلیل مخالفین کی دراز زبانیں بند کرنے کے لیے کافی ہے کہ اس میں وہی تو دکھایا گیا تھا جو طالبان کے زیرِ سایہ سوات میں آئے روز ہو رہا تھا۔ ہم ان کی بے نظیر منطق کی نہ صرف تائید کرتے ہیں بلکہ ان سے استدعا کرتے ہیں اس معاشرے میں دندناتی دوسری قبیح برائیوں جیسے زنا ، چوری ، ڈکیتی اور قتل و غارت وغیرہ کو بھی فلما کر ساری دنیا کے سامنے پیش کریں تا کہ پاکستان کے نام اور مقام کو مناسب طور پربلند کیا جاسکے۔

جو لوگ مشرف کو ایک ناکام اور نکما ڈکٹیٹرسمجھتے ہیں مذکورہ ویڈیو ان کی آنکھیں کھول دینے کے لیے بھی کافی ہونی چاہیے ۔ مشرف کے لگائے گئے روشن خیالی کے بوٹے نے ثمر من اللہ جیسے پھل دینے شروع کر دیے ہیں ۔ دیکھنا یہ ہے کہ اب اور کتنے ثمر ٹپکنے کو ہیں۔

ہفتہ، 10 اپریل، 2010

صبح نو کا پیام

بدامنی، لاقانونیت اور مہنگائی کی مسموم گھٹاؤں میں گھرے ہوئے مظلوم پاکستانیوں کے لیے یقیناًیہ خبر بادِ صبا کے کسی روح پرور جھونکے سے کم نہیں ہونی چاہیے کہ پاکستان کی بھٹکتی ہوئی ناؤ کو پار لگانے کے لیے پرویز مشرف نے آل پاکستان مسلم لیگ کے نام سے ایک نئی جماعت کے قیام کی داغ بیل ڈال دی ہے۔ پاکستانی عوام اگر سیاسی شعور کی دولت سے بہرہ ور ہوتے تو وہ اِس نویدِ مسرت پر خوشی کے شادیانے بجاتے ، اپنے گھروں پے گھی کے چراغ جلاتے اور اس مسیحا سے جو بعض بیہودہ وجوہات کی بنا پر مجبوراََ دیس سے بھاگ کر پر دیس جاچھپا ہے واپس لوٹ آنے کی التجا کرتے۔


عاقبت نااندیشی اوراحساسِ سودوزیاں سے بے نیازی کی بھلااور کیا انتہا ہو گی کہ مشرف کے اس تاریخ ساز فیصلے کو اکثر پاکستانیوں نے نہایت غیر سنجیدہ انداز میں لیا۔ ملک و قوم کی تقدیر بدل دینے والی ایک انقلابی جماعت کے قیام پر پاکستان کے نا سمجھ عوام کا یہ غیر ذمہ دارانہ رویہ ہماری سمجھ سے باہر ہے اور ہمیں حیرت ہے کہ پاکستانی عوام مشرف جیسے عظیم لیڈر کی قائدانہ صلاحیتوں کو ٹھکراکر اس کا مضحکہ اڑانے کا قابلِ مذمت وطیرہ کب تک اختیار کیے رکھیں گے۔

دسمبر 1906ء کو ڈھاکہ میں آل انڈیا مسلم لیگ کے قیام نے جس طرح انگریز سامراج کی مکروہ چکی میں پستے ہوئے بر صغیر کے بے زبان مسلمانوں کی کایا پلٹ ڈالی ہمیں یقین ہے کہ اب مشرف کی بے مثل قیادت میں آل پاکستان مسلم لیگ بھی با لکل اسی طرح پاکستانی مسلمانوں کی کایا کو الٹ پلٹ کر رکھ دے گی۔ ان دونوں لیگوں میں اس لحاظ سے کس قدر مماثلت بھی ہے کہ جہاں قائد والی لیگ کی بنیاد وقار الملک اور محسن الملک جیسے جید سیاست دانوں کے ہاتھوں اٹھائی گئی وہیں آل پاکستان لیگ کی بنیاد وں میں بھی مشرف جیسے منجھے ہوئے لیڈر کی سیاست کاری ، شیر افگن جیسے بے باک راہنما کا متنوع تجربہ اور ارباب غلام رحیم جیسے زیرک سیاستدان کی مشاورت شامل ہے۔ بلکہ اگر ان دونوں جماعتوں کے راہنماؤں کا تقابلی مطالعہ کیا جائے تو کئی لحاظ سے مشرف والی لیگ کو توفق حا صل ہے مثلاََ پاکستان کے قیام کی کئی سالوں پر محیط جدوجہد میں کبھی ایک دفعہ بھی کسی لیگی راہنما نے جوتیاں کھانے کا اعزاز حاصل نہیں کیا جبکہ مشرف لیگ کا کردار اس میدان میں نہایت درخشاں ہے ۔ اسی طرح ہندؤں کی تمام تر مخالفتوں اور مخاصمتوں کے باوجود اس تعداد میں اور اس معیار اور جسامت کی گالیاں آل انڈیا مسلم لیگ کے کل راہنماؤں کو بھی نہیں پڑیں جتنی گالیاں کھانے کا اعزاز تنہا مشرف صاحب کو حا صل ہوا ۔

آئینِ نو سے ڈرنے اور طر زِ کہن پر اَڑنے والی پاکستانی قوم بھلا ایک انقلابی جماعت کے قیام کو کیسے ٹھنڈے پیٹوں بر داشت کر سکتی ہے چناچہ اس اعلان کے ساتھ ہی اس نئی پارٹی کے متعلق نہایت مضحکہ انگیز لطائف کا اک سلسلہ شروع ہو گیا ہے اور بد گمانی کی انتہا تو یہ ہے کہ اگر شیر افگن نیازی نئی جماعت کے وجود میں آنے کی تاریخی خوش خبری سناتے ہوئے فراست سے کام نہ لیتے اور پارٹی کے ساتھ لفظ سیاسی پر زور نہ دیتے تو پاکستانی عوام کی اکثریت مشرف کی اس نو زائیدہ پارٹی کو ان کی طبلے اور سارنگی سے جذباتی تعلق کے سبب بینڈ پارٹی سمجھ لیتی۔ ہم اکثر کم فہم پاکستانیوں کے اس خیال سے تو اتفاق نہیں کرتے کہ مشرف اپنے اور اپنی ٹیم کی ہفت رنگ فنکارانہ صلاحیتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اگر سیاسی پارٹی کی بجائے کوئی تھیٹریکل کمپنی ، کوئی میوزیکل گروپ یا پھر لکی ایرانی طرز کی کوئی سرکس بنا لیتے تو زیادہ کامیاب ہوتے لیکن اتنا بحرحال ہم تسلیم کرتے ہیں کہ مشرف اور ان کے حاشیہ نشین ایسے صاحبِ طرز اور ہر فن مولا ہیں کہ رزم ہو یا بزم جس میدان میں جائیں گے فتوحات کے جھنڈے گاڑیں گے اور مخالفین کو خاک چٹوائیں گے ۔

بدقسمتی سے مشرف اور اس کی ٹیم کو پاکستانی قوم کے جس اجتماعی استہزا کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے یہ کوئی نئی بات نہیں ۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی قوم کے غم میں سلگنے والے کسی مصلح نے اس کی فلاح و بہبود کا بیڑا اٹھانا چاہا قوم نے طرح طرح سے اس کا مذاق اڑایا اور طنز کے تیروں سے اس کے عزمِ کو چھلنی کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ مشرف صاحب کا فنونِ لطیفہ و غیر لطیفہ سے شغف اپنی جگہہ لیکن یہ بھلا کہاں کا انصاف ہے کہ میڈیا پر کھلے عام اس جیسے منفرد لیڈر کے شوقِ طبلہ نوازی پر چوٹ کرتے ہوئے اسے اشاروں کنایوں میں بھانڈ اور میراثی تک قرار دے دیا جائے۔ گائیکی ایک فن ہے اور اگر یہ فن ہمارے کسی لیڈر میں موجیں مار رہا ہے تو اس کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے نہ یہ کہ اس کا نہایت بھونڈے انداز میں مذاق اڑایا جائے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مشرف صاحب کو مخالفین کے اس گھٹیا حملے کا اپنے مخصوص کمانڈو انداز میں ترکی بہ ترکی جواب دینا چاہیے اور اپنی نئی جماعت کے پہلے باقاعدہ اجلاس میں نہ صرف ڈھول کو اپنا انتخابی نشان قرار دینے کا اعلان کرنا چاہیے بلکہ اپنے منشور میں روٹی ، کپڑا اور مکان کی طرز پے کوئی بینڈ باجوں والا سلوگن بھی دینا چاہیے۔ دورِ حاضر میں کوئی پیشہ اور فن کسی خاص ذات یا قومیت کی جاگیر نہیں رہا۔ ہوائے نو نے اب ہر چیز کو نہایت خوش کن انداز میں آپس میں غلط ملط کر دیا ہے ۔ چناچہ اب میراثیوں کے سیاست کرنے اور سیاست دانوں کے میراثی پن کرنے پے معترض ہونا پرے درجے کی دقیانوسیت ہے۔ ڈوموں کو سیاستدان بننے اور سیاست دانو ں کو ڈوم بننے سے روکنا بنیادی انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزی ہے جس کی ہمارے خیال میں ہر سٹیج پر مذمت ہونی چاہیے۔

کچھ ستم ظریف حضرات مشرف صاحب کے پاکستان قدم رنجہ فرمانے پر طرح طرح کی پیشین گوئیاں کر رہے ہیں جس میں جوتوں اور گندے انڈوں کا بار بار ذکر ہو رہا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مشرف صاحب بھی پاکستانی عوام کے کھلنڈرے پن کو مدنظر رکھتے ہوئے فوراََ پاکستان آنے کا فیصلہ نہیں کریں گے بلکہ الطاف بھائی کی طرح لندن میں بیٹھ کر پہلے پاکستانی عوام کی تربیت کرنے کا فریضہ ٹیلیفونک خطابوں سے پورا کیا کریں گے۔ چناچہ جب پاکستانی عوام ذہنی بلوغت کی اس سطح پر پہنچ جائیں گے کہ وہ مشرف صاحب جیسے عظیم لیڈر کی عظمت کا بوجھ برداشت کر سکیں تب وہ پاکستان تشرف لانے کا اعلان فرمائیں گے۔ ویسے بھی الطاف بھائی اور مشرف میں بہت حد تک مماثلت ہے کہ دونوں روایتی سیاست دانوں سے بالکل مختلف ہیں اور بظاہر دیکھنے اور سننے سے کسی طرح سیاست دان نہیں لگتے۔ دونوں مسائل و مصائب کے طو فانوں میں گھرے منہ بسورتے پاکستانی عوام کو اپنے لطائف سے ہنسانے کے فن میں خاص ملکہ رکھتے ہیں اور دونوں ہی ظالم جاگیر دار اور روایتی سیاست دان کو سلطان راہیانہ انداز میں للکارنے پر یقین رکھتے ہیں۔

مشرف صاحب کی نئی جماعت جسکی ترجمانی کا فریضہ فی الوقت تنہا شیر افگن نیازی نہایت فصاحت و بلاغت سے بہ احسن و خوبی فرما رہے ہیں پاکستان کی روایتی سیاست میں ایک دھماکے سے کم نہیں ۔ وہ جاگیر دار نما سیاست دان جو پچھلے چوسٹھ سالوں سے پاکستانی عوام کو رنگ برنگے خواب دکھاکر بیوقوف بناتے آئے ہیں اس انقلابی جماعت کا قیام ان کے لیے یہ للکارہے کہ اب ان کا وقت ختم ہو چکا ہے، اب مظلوم پاکستانی عوام سے طرح طرح کے ڈرامے رچا کر ان کی قسمت سے کھیلنا ان کا تنہا استحقاق نہیں رہا۔ مشرف صاحب کی جماعت کے وجود میں آتے ہی یوں لگ رہا ہے جیسے پاکستان کی سیاسی کتاب کا ورق پلٹنے کو ہے، صدیوں پرانے بر ج الٹنے کا وقت آن پہنچاہے اور تخت گرانے اور تاج اچھالنے کی پاکستانی عوام کی دیرینہ خواہش بھی جلد ہی حقیقت کا روپ دھارنے والی ہے۔ مشرف لیگ کے ستاروں کی تنک تابی دیکھتے ہوئے یوں لگتا ہے کہ صبحِ روشن طلوع ہونے میں اب تھوڑی ہی کسر رہ گئی ہے یعنی اگر مشرف صاحب کے انداز میں کہا جائے تو سیاست میں سارے گاما پادھا نی سا ہونے کو ہے۔

جمعہ، 2 اپریل، 2010

پاکستان کا دکھ

اس روح فرسا خبر نے کہ ہمارا ازلی دوست امریکا افغانستان کے سنگلاخ پہاڑوں اور سنگ دل طالبان سے کامل نو سال تک سر ٹکرانے کے بعد اب وہاں سے با عزت طور پر بھاگنے کے منصوبے بنا رہا ہے ہمیں شدید غم و اندوہ میں مبتلا کر دیا ہے۔ ہم تو سمجھ رہے تھے کہ امریکا ایک طویل مدت تک سرزمینِ افغانستان پر گولہ بارود کے ذریعے اپنی تہذیب و شائستگی کے پھول بکھیرتا رہے گااور دہشت گردی کی جنگ کے صدقے ہم پر امریکا اور آسمان سے رحمتوں کے نزول کا سلسہ جاری رہے گالیکن ایسا اندو ناک منظر تو ہم اپنے بدترین خواب میں بھی تصور نہ کر سکتے تھے کہ ہمارا فاتح عالم دوست اجڈ اور گنوار طالبان کے چھوٹے چھوٹے حملوں سے ڈر کر اتنی جلدی سر پر پائوں رکھ کر بھاگنے کی نیت کر لے گا۔


ہم جانتے ہیں کہ افغانستان کی ستم گرآب وہوا ہمارے گلفام دوست کی طبع نازک کے لیے کسی طرح مناسب نہیں ۔ ہمیں اس کا بھی پورا پورا ادراک ہے کہ ویت نام کے جنگلوں سے اٹھنے والے بخارات اور افغانستان کے پہاڑوں سے اٹھنے والی گرد ہمارے نازو و نعمت کے پلے دوست کی صحت کے لیے کس حد تک زہر ناک ہیں پر گزشتہ نو سال کی قربت اور نگاہِ یار کے افسوں نے ہمیں اس قدر دیوانہ بنا دیا ہے کہ اب اس کے ہمارے پہلو سے رخصت ہونے کا خیال ہی ہم پر اداسی طاری کر دیتا ہے۔یہ سوچ کہ جیبِ یار سے آنیوالی ڈالروں کی وہ مدھر مہک جس نے پچھلے نو سال سے ہمارے مشامِ جاں کو معطر کیے رکھا اب بہت جلد داغِ مفارقت دینے والی ہے ہمیں ابھی سے گلوگیر کر رہی ہے۔ ایک باوفا اور ناز پرور دوست کی قربت کسی دوست آشنا کے لیے کیا معنی رکھتی ہے اس کا اندازہ وہی لوگ بہتر کر سکتے ہیں جنہوں نے کسی تنِ سیمیں کی نزدیکیوں سے لذتِ کام و دہن کیا ہو اور فرقتِ یار قلب و نظر پے ستم کے کیا پہاڑ ڈھاتی ہے اس کا اندازہ بھی صرف وہی لوگ کر سکتے ہیں جنہوں نے ہجر کی کٹھنائیاں کاٹی ہوں۔ ہمارا درد بھی کوئی اہلِ نظر ہی سمجھ سکتاہے۔

آج سے نو سال قبل جب ہمارے دوست امریکا نے نائن الیون کی جادوئی رتھ پے سوار ہو کراپنے پورے طمطراق کے ساتھ گرجتے برستے سر زمینِ افغانستان پر قدم رنجہ فرمائے تھے تو ہمیں یقینِ کامل تھا کہ اب چودہ سو سال قبل کے فرسود ہ خیالات و نظریات رکھنے والے طالبان کی گھگی بندھ جائے گی۔ قربتِ یار کی لذت اور اس لذت سے اٹھنے والے نشے نے ہمیں کبھی یہ سوچنے کی کی فرصت ہی نہ د ی کہ یوں شیر کیطرح دھاڑتے ہوئے ہمارے پڑوس میں وارد ہونے والا ہمارا یہ دوست کبھی گیدڑ کی طرح دم دبا کرتشریف لے جانے کی بھی سوچ سکتا ہے۔ دورِ نو کی برکات عالیہ سے سے محروم اور تہذیبِ حاضر کے تقاضوں سے ناآشنا ہمارے وہ تنگ نظرعوام جو طالبان کے ساتھ ہمارے طوطاچشم رویے پر چیں بہ جبیں تھے اور جنہیں ہمارا یوں امریکا کی پہلی جھلک کے ساتھ ہی اس پر فریفتہ ہو کر طالبان سے نظریں پھیر لینا شائستگی اور انسانیت کے جملہ قواعد کے خلاف لگتا تھا ہم نے انہیں اپنے ان نامور دانش وروں کے ذریعے جو ہم نے خاص ایسے ہی مواقع کے لیے پال رکھے ہیں اور جن کی دانش ان کی توند کی حد وں سے آگے دیکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتی یہ باور کروا دیا تھا کہ اب طالبان کا روئے ارضی سے مٹ جانا لوحِ تقدیر پر ثبت ہو چکا ہے کہ منطقی طور پر دیکھا جائے تو بی-باون طیاروں کا مقابلہ کلاشنکوفوں سے کرنا ایسے ہی ہے جیسے چیونٹی کو ہاتھی کے مقابل کھڑا کر دیا جائے۔ ہم نے اپنے ان خلاق تجزیہ نگاروں کو جنہیں دکانِ مغرب سے خوشہ چینی کرنے میں کمال حاصل ہے او ر جو دانش افرنگ سے اپنے تجزیوں کے دیے اس جادوگری سے جلاتے ہیں کہ عقل اور شرافت دنگ رہ جاتے ہیںخاص اس کام پر مامور کر دیا تھا کہ وہ برکاتِ قربتِ امریکیہ پر دن رات لیکچر دیا کریں اور اپنی اصلی اور نقلی دلیلوں سے ہمارے جاہل عوام کو یہ سمجھائیں کہ طالبان سے ہمارے دیرینہ تعلقات ،تہذیب وشرافت اور حقوقِ ہمسائیگی کے جملہ نظریات امریکا کی ایک نگاہِ ا فسوں ناک کے سامنے کس طرح خاک ہیں۔

ہم نے اپنے تئیں طالبان کو بھی صراطِ مستقیم پر چلانے کی مقدور بھر کوشش کی تھی۔امریکا کی آتش مزاجی کے تاریخی حوالے دے دے کر ہم نے ناسمجھ طالبان کو بارہا یہ درس دیا تھا کہ امریکی مطالبات کے سامنے سر بسجود ہو جانا ہی عقل و خرد کا تقاضا اور افغانستان کے وسیع تر مفاد کے عین مطابق ہے۔ ہم نے گنوار طالبان کو سو سو طرح سے احساس دلایا تھا کہ امریکا کے ان ہولناک بموں اور میزائلوں سے مقابلہ کرنے کا خیال خام جو پہاڑوں تک کا سینہ چیر کر رکھ دیتے ہیں اورجو جہاں گرتے ہیںاردگرد کی آکسیجن سلب کر کے جینے کے سارے اسباب بھسم کر دیتے ہیں نہایت درجے کی حماقت کے سوا اور کچھ نہیں۔ ہمیں حیرت ہے کہ طالبان ہماری نافرمانی کرنے کے باوجود اورہماری صدیوں کی آزمودہ صائب رائے کو پائوں تلے روندنے کے باوصف آج بھی نہ صرف افغانستان میں دندناتے پھر رہے ہیں بلکہ کمال دیدہ دلیری سے ہمارے دوست کے مورال کا تیاپانچہ کرنے میں مصروف ہیں۔ ہمارے خیال میں طالبان کے اتنے ہیبت ناک بموں اور میزائلوں کو خاطر میں نہ لانے کی صرف دو ہی وجوہات ہو سکتی ہے کہ یا تو ان بموں میں کسی وجہ سے تکنیکی خرابی رہ گئی ہے جس نے انہیں ان کی تاثیر سے محروم کر دیا ہے یا پھرطالبان سائنس سے نابلد ہونے کی وجہ سے انسانی زندگی میں آکسیجن کی اہمیت سے ہی ناواقف ہیں۔

پچھلے نو سالوں میں جیسے جیسے طالبان کی تخریبی سر گرمیاں ہمارے دوست کے سکونِ قلب کو تہہ وبالا کرنے لگیں ہم نے اپنے تئیں اس کی ہر ممکن مدد کی ۔ اپنے دوست کے سر سے آفات و بلیات کے منحوس سائے ہٹانے کے لیے ہم نے دہشت گردی کی دیوی کے چرنوں میں اپنے ہزاروں قربانی کے بکروں کی بھینٹ نہایت شان سے چڑھائی ۔ افغانستان کے طالبان کی امریکا کش کاروائیوں کا بدلہ ہم نے اپنی زمین پر پاکستانی طالبان کا قلع قمع کر کے لیا۔ تبسمِ یار کی ایک جھلک کے حصول کے لیے ہم نے جس خشوع و خضوع سے اپنے قبائلی علاقوں پر آگ و آہن کی بارش کی اس کا عشر عشیر بھی اگر71ء میں ہم بھارت کے خلاف استعمال کرتے تو ہمیں یقین ہے کہ مشرقی پاکستان کبھی بنگلہ دیش نہ بنتا۔ ہمیں اس بات کا احساس ہے کہ امریکا کی گود نشینی میں ہمارے جی کے ساتھ ایمان کے ضیاع کا بھی خدشہ ہے لیکن اس امر میں ہمارا اصول یہ ہے کہ جس کو دین ودل عزیز ہو امریکا کی گلی میں جائے ہی کیوں؟

اب جب کہ حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ ہماری ساری تگ و دو اور قربانیوں کے باوجود ہمارا دوست افغانستان سے اپنابوریا بستر اور گولہ بارود گول کرنے کے چکر میں ہے ہمیں سمجھ نہیں آرہی کہ ہم کس کو اپنا دکھڑا سنائیں ؟ اپنی آہِ بے اثر کو کوسیں یا اپنی تقدیرِ شکستہ کا ماتم کریں ۔ ہم سوچتے ہیں کہ جب امریکا رخصتِ سفر باندھے گا تو ہمارا قلبِ حزیں کیسے اس المناک منظر کی تاب لائے گا ؟ گزرے ہوئے لمحاتِ خوش کن کی یاد سے کلیجہ منہ کو آئے گا اور وہ تمام گیت جوعاشقانِ نامراد اپنے محبوبوں کے بچھڑنے پے کبھی سر میں اور زیادہ تر بے سرے گایا کرتے ہیں ہمارے ہونٹوں پر آ آکر دم توڑیں گے۔ دلدار دوست کی ناز پروریاں اور زود رنجیاں ہمیں رہ رہ کر یاد آئیں گیا اور وہ ادائیں اور گھاتیں کہ جب کھبی ہمارے دوست کی پیشانی کسی وجہ سے شکن آلود ہوتی ہم اپنے قبائلی علاقے کی کسی مسجد ، کسی مدرسے یا کسی گائوں پر بمباری کر کے اس کے نازک ہونٹوں کی مسکان واپس لے آتے اور اسی طرح جب کھبی ہمیں غصہ آتا ہمارا ادا شناس دوست ڈالروں کے نئے توڑے بھیج کر ہمیں ہشاش بشاش کر دیتایہ ساری باتیں ایک ایک کر کے یاد آئیں گی اور ہمیں بے طرح رلائیں گی۔

موسمِ ہجر کے بڑھتے سائے ہیں اور ہم دشتِ یاس میں حواس باختہ و برہنہ پا سر گرداں ہیں۔جب وہ گل رو رخصت ہو گا کہ جس کے دم سے ہماری نگاہ میں چمک اور اور قلب میں رونق ہے تو ہم کس طرح ان اجڈ طالبان کےطعنے سنیں گے جنہیں دنیا کے 44 ممالک مل کر بھی نو سالوں میں انسانیت کا سبق نہ سکھا سکے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ ہمارے دوست کی دم پر طالبان کا پائوں زیادہ زور سے پڑ رہا ہے اور اس کی دردناک چیائوں ہماری نیندیں اڑا رہی ہے۔ ہمیں ڈر ہے کہ دوست کے رخصت ہونے پر طالبان کی نظر کہیں ہماری دم پر نہ پڑ جائے۔ لوگو کیا ستم ہے کہ طالبان کو امریکا سے ڈراتے ڈراتے ہم خود ڈر کی صورت بن گئے ہیں۔ جس کھونٹے کے زور پر ہم دہشت گردی کی جنگ کے کارزار میں اندھا دھند اچھلتے رہے اب اس کے اکھڑنے کا سن کر جانے ہماری سانسیں کیوں اکھڑ رہی ہیں! ہمارا دکھ کون سمجھ سکتا ہے ۔ ہمارے دوست کو طالبان کی شر پسندیوں سے ذرا فرصت ملتی تو ہمارا دکھڑا سنتا اور سمجھتاپر اسے تو جانے کی پڑی ہے ہم اب کس کو اپنا دلِ ریزہ ریزہ دکھائیں؟؟؟؟

ہفتہ، 27 مارچ، 2010

قومی یک جہتی

بزرگوں سے سنتے آئے ہیں کہ ہندو بنیا کچھ دیکھ کر ہی گرتا ہے اسکی شاطر نظریں وہ سب کچھ دیکھ رہی ہوتی ہیں جس کا ہم عموماََ ادراک نہیں کر پاتے ۔تشکیلِ پاکستان کے وقت نہرو ریڈکلف گٹھ جوڑ اسی ذہنیت کو آشکار کرتا ہے ۔ ایک سازش کے تحت جونا گڑھ کا مسلم اکثریتی علاقہ بھارت کو دے دیا گیاتا کہ وہ اس کے رستے کشمیر جنت نظیر میں اپنی ناپاک فوجیں داخل کر سکے۔وہ جانتا تھا کہ کشمیر نہ صرف سیاحت کے اعتبار سے سونے کی چڑیا ثابت ہوگابلکہ یہ پاکستان میں بہنے والے تمام بڑے دریاوں کا منبع بھی ہے اور اس پر قابض ہو کروہ کسی بھی وقت پاکستان کو بنجر و بیابان کرسکتا ہے۔

 اُس وقت پاکستان کو خوش قسمتی سے قائدِ اعظم جیسے لیڈر کی مدبرانہ قیادت میسر تھی ۔ آپ نے باطل کے اس گٹھ جوڑ کو بھانپتے ہوئے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا ۔ جسطرح شہ رگ کے بنا زندگی کا وجود ممکن نہیں بلکل اسی طرح کشمیر کے بنا پاکستان ادھورا اور نامکمل ہے ۔ اپنی اس شہ رگ کو عیار دشمن سے چھڑانے کے لیے بے سروسامانی اور ناگفتہ بہ حالت کے باوجو د آپ نے کشمیری حریت پسندوں کی کلی حمایت کا اعلان کیا اور پاکستانی فوج کو اپنے کشمیری بھائیوں کو ہندو بنیے کے چنگل سے بچانے کے لیے متحرک ہونے کا حکم دیا اور قوم کو اس کڑی گھڑی میں یک جہتی سے اپنے حقوق کے لیے لڑنے کا درس دیا۔ مجاہدینِ اسلام کی پیش قدمی جاری تھی اور قریب تھا کہ وہ اپنی دھرتی کو ہنو مانیت کے ناپاک پنجوں سے بچا لیتے کہ مکار بنیا اس مسئلے کو اقوام متحدہ میں لے گیااور اقوامِ عالم سے وعدہ کیا کہ وہ کشمیریوں کو ان کی امنگوں کے مطابق انہیں بھارت یا پاکستان سے الحاق کا حق دے گا۔ قائد کی رحلت کے بعد پاکستان کی نا عاقبت اندیش قیادت ہندو بنیے کی چکنی چپڑی باتوں میں آگئی اور ہندو سرکار نے شیخ عبداللہ کو وزارت کا لالچ دے کر اپنا ہمنوا بنا لیااور جب اس نے کشمیر پر اپنی گرفت مضبوط کر لی تو بھارت نہ صرف استصوابِ رائے کے وعدے سے مکر گیا بلکہ کشمیر کو اپنا اٹو ٹ انگ قرار دینے کا راگ بھی الاپنے لگااور پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت شروع کر دی۔ اردو بنگلہ زبان کا تنازعہ پیدا کر کے مشرقی اور مغربی پاکستان میں ایک دوسرے کے لیے بد گمانیاں اور نفرتیں پیدا کرنے لگا اور گاہے بہ گاہے مختلف تنازعات کو ہو ا دیتا رہا اور بالا آ خر 1971 کو اپنے مذموم مقاصدمیں کامیاب ہو گیا۔پاکستان جو شروع دن سے ہی علاقائی تفریق کا شکار تھا بھارت کی سلگائی ہوئی آگ اس کے لیے زہرِ قاتل ثابت ہوئی اور اس نے اس شکستہ قوم کو مزید پارہ پارہ کر دیا۔
کٹھے پٹھے پاکستان کی نر گسیت زدہ قیادت ان دگرگوں حالات میں بھی اپنے سودو زیاں کا ادراک کرنے میں ناکام رہی اور بھارت پہلے کی طرح باقی مانندہ پاکستان میں بھی صو بائیت کے مکروہ بیچ بونے لگا۔ قوم پرستی کے مرض میں مبتلا اپنے ذاتی مفادات کی آلائشوں میں گھرے وہ نام نہاد علاقائی راہنما جو ہمیشہ سے بھارتی مفادات کے فروغ کے لیے دانستہ یا نادانستہ آلہ کار کے طور پر استعمال ہوتے رہے اور انہوں نے چھوٹے صوبوں کی عوام کے دلوں میں یہ بات پختہ کر دی کہ پنجابی اسٹیبلشمنٹ انہیں کبھی بھی ان کے جائز حقوق خوشی سے نہ دے گی ۔پختون ، بلوچ اور سندھی قومیت کے فتنے کو ہوا دی گئی اور کالا باغ ڈیم جیسے بے ضر ر منصوبے کہ جس کے بارے میں جملہ بین الاقوامی ماہرین متفق ہیں کہ اس سے کسی شہر کے ڈوبنے کا کوئی اندیشہ نہیں اور نہ ہے اس سے کسی علاقے کے بنجر و ویران ہونے کا خطرہ ہے کو پنجابی اسٹیبلشمنٹ کا منصوبہ قرار دے کر اسے کے خلا ف شور و واویلے کا طوفان برپا کر دیا گیا۔ اگر اس عظیم منصوبے کو حقیقت بننے دیا جاتا تو نہ صرف لاکھوں ایکڑ اراضی سیراب ہو کر پاکستان میں سبز انقلاب کی بنیاد رکھتی بلکہ نہایت ارزاں بجلی کا حصول بھی ممکن ہوتا اور اس سے ہماری صنعت و حرفت دن دگنی رات چوگنی ترقی کر تی ا ور ہم یوں کاسہ گداءی لے کر اغیار کے قدموں میں نہ لوٹ رہے ہوتے اور امریکی غلامی کا وہ طوق جو کالا باغ اور اس جیسے دوسرے منصوبوں کی پایہ تکمیل تک پہنچنے کی صورت میں یوں آج ہماری جان کا روگ نہ بن چکا ہوتا۔
ہماری ناعاقبت اندیشی اور نا اتفاقی ہمیں آج اس نہج پر لے آئی ہے کہ غلیظ امریکی ہمیں ڈالروں کے عوض اپنی مائیں تک بیچنے کا طعنہ دے رہے ہیں۔ ہمارے بے حمیت اور بزدل حکمران ہوسِ زر اورحکومت کے لالچ میں اندھے ہو کر ہماری قوم کے سینکڑوں غیور بیٹے اورپاکدامن بیٹیاں امریکی سامراج کے ہاتھ بیچنے جیسے قبیح فعل کے مرتکب ہو کر در اصل ہماری اجتماعی قومی بے حسی کو عیاں کر رہے ہیں۔ بزدلی اور بے حسی کی چادر تانے پاکستان کے سترہ کروڑ عوام آج اپنی ایک عافیہ کو یہوو نصاری ٰ کے چنگل میں یوں مجسم فریاد دیکھ کر بھی سوائے کرلانے اور ممنانے کے کچھ نہیں کر پا رہے۔
آج کا پاکستان اجتماعیت سے کوسوں دور ذاتی مفادات کی کبھی ختم نہ ہونے والی دوڑ میں اندھا دھند شریک ایک ایسی راہِ گم کردہ قوم کا دیس بن چکا ہے جنہیں قوم کہنا بھی لفظ قوم کی تو ہین ہے۔ چھوٹے چھوٹے فروعی مفادات کے گھناؤنے کاروبار میں مشغول یہ ان سوداگروں کا دیس بن چکا ہے جو پاکستان کے حال و مستقبل سے لاپرواہ اپنی اپنی ڈفلی بجانے میں مست ہیں۔ایک طرف ہماری اجتماعی بے حسی اپنے کریہہ ترین روپ میں ہمارے ملکی مفادات کے درپے ہے تو دوسری طرف ہمارا ازلی دشمن ہمیں زک پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔ پاکستان کے حصے کا پانی روک کر زراعت پے انحصار کرنے والے اس بد قسمت دیس کی زمینوں کو بنجر کرنے کا خوفناک منصوبہ ہو یا بلوچستان میں علیحدگی کے بیچ بونے کیہولناک سازش بھارت کا ہندو بنیا ہر دم پاکستان پے ضربِ کاری لگانے کے لیے بے چین نظر آتا ہے۔ جہاں ہمارے کو تاہ بیں حکمران بھارت سے دو طرفہ تعلقات کی پینگیں بڑھانے کے لیے بے تاب نظر آتے ہیں وہیں انڈیا قدم قدم پے اپنے بغضِ باطن کا اظہار کر کے اپنی پاکستان دشمنی کا ثبوت فراہم کر رہا ہے۔اپنوں کی بے اعتنائی اور غیروں کی سازشوں میں گھری ہوئی پاکستانی قوم جانے کب اپنی کھوئی ہوئی منزل پہ اپنے سفرِ گم گشتہ کو دوبارہ شروع کر پائے گی۔

پیر، 22 مارچ، 2010

ہاے لوڈ شیڈنگ

ہمار ے پانی و بجلی کے وفاقی وزیر صاحب جو پچھلے ڈیڑھ سال تک دسمبر 2009 میں قوم کو لوڈ شیڈنگ سے نجات دلانے کا مژدہ سنا کر اس کے مردہ دہانوں میں جان ڈالا کرتے تھے آج کل امتدادِ زمانہ کے سبب کچھ حقیقت پسند ہو گئے ہیں۔ چناچہ اب وہ کوئی متعین تاریخ دینے سے گریز کرتے ہیں اور قوم کو مزید دو تین سال تک صبرِ ایوبی کا درس دے کر اپنے فرضِ منصبی سے عہدہ بر آہونے کی کوشش کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔
 پیپلز پارٹی کی حکومت کو اقتدار کی زمام کار سنبھالتے وقت جو لاینحل مسائل ورثے میں ملے تھے ان میں سے بجلی کا مسئلہ سرِ فہرست تھا جسے پی پی کی عوامی حکومت نے اپنے تئیں عوامی انداز میں حل کرنے کی کوشش کی اور اسی وجہ سے اس کے مختلف لیڈرانِ کرام اپنی بے پناہ قائدانہ صلاحیتوں کے زعم میں اس مسئلے کو در خورِ اعتنا نہ سمجھتے ہوئے چٹکیوں میں اڑاتے رہے
 اوراس مسئلے کے ختم شد ہونے کی کبھی ایک اور کبھی دوسری تاریخ دیتے رہے۔اب دو سالتک مسئلے کو الجھانے کی پے درپے کوششوں کے بعدجب مسئلہ واقع الجھ چکا ہے تو کسی کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا کہ کیا کیا جائے۔ چناچہ وقت گزارو پالسی کے تحت کرائے کے بجلی گھر نصب کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ ان مانگے تانگے کے بجلی گھروں سے بجلی کے نرخوں میں کس قدر اضافہ ہو گا اور اس اضافے سے اس مخلوق کی جسے عام آدمی کہا جاتاصحت کسقدر متاثر ہوگی یہ وہ گنجلک حساب کتاب ہیں جنہیں کرنے کی نہ ہمارے عالی نصب حکمرانوں کو ضرورت ہے اور نہ ہی وہ اس میں پڑ کر اپنا قیمتی وقت بربا د کر سکتے ہیں۔ چناچہ امید کی جاتی ہے کہ پی پی کی حکومت اگر اسی خشوع وخضوع سے بجلی کے مسئلے کا قلع قمع کرنے میں لگی رہی تو وہ آنے والی حکومت کویہ مسئلہ تحفے میں دے کر جائے گی ۔اس سے بحر حال ایک فائدہ تو ہوگا ہی کہ مابعد کے لیڈرانِ کرام کو بھی اپنی قائدانہ صلاحیتوں کے جوہر دکھانے کا بھرپور موقع ملے۔

جمعہ، 12 مارچ، 2010

ذ کر چالیس چوروں کا

رائے ونڈ والے میاں صاحب نے اگلے روز ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اپنے تئیں بڑی جگت ماری کہ مشرف کو علی بابا اور ان کے جملہ حواریوں کو چالیس چور قراردیا۔ ہمارے خیال میں مشرف اور اس کے قبیلے کی سات آٹھ سالہ کار کردگی اور ملک و قوم کے لیے وسیع تر خدمات کو مد نظر رکھتے ہوئے ایسا کہنا صریح زیادتی ہے۔ مخالفین مشرف اور اس کے ساتھیوں کو بھانڈ کہہ سکتے ہیں مسخرے کا لقب دے سکتے ہیں دل کا بوجھ ہلکا کرنے کے لیے ڈاکو اور لٹیرے بھی قرار دے سکتے ہیں لیکن ان جیسی نادر روزگار ہستیوں کو چورٹھہرانا حد درجے کی بد ذوقی ہے۔
 چوری ایک نہایت بزدلانہ اور غیر معقول فعل ہے جس کا پرویزی کابینہ پر الزام دراصل ان کے کارناموں کوگٹھاکر پیش کرنے کی ایک سازش کے علاوہ اور کچھ نہیں۔

میاں صاحب شاید نہیں جانتے کہ فلک برسوں سر پٹکتا ہے تب خاک کے پردے سے ایسے انوکھے انسان نکلتے ہیں۔خیر اس امرمیں میاں صاحب کا بھی کچھ خاص قصور نہیں کہ جس دورِ زریں میں مشرف اور اس کے ساتھی پاکستانی عوام کوااپنے دلچسپ کرتبوں سے ورطہِ حیرت میں ڈال رہے تھے وہ جدہ کے السرور پیلیس میں جلاوطنی کاسرور اٹھا رہے تھے اور پاکستان کے حالات سے زیادہ انہیں عربی مہمان نوازی اور انڈین فلموں سے محضوظ ہونے میں دلچسپی تھی ۔ اس لیے ان کی رائے  میں اگر مشرف علی بابا اور اس کے حواری چالیس چوروں سے زیادہ کیچھ نہیں تو اس پہ حیرت نہیں ہونی چاہیے۔پاکستانی عوام جو جو کامل آٹھ نو سال تک میاں صاحب کے بر عکس عملی طور پر پرویزیت کے رنگ برنگے مظاہرے دیکھتے رہے جانتے ہیں کہ مشرف اور اس کے حواریوں کی خصوصیات کو ٹھیک ٹھیک بیان کرنے کے لیے جو الفاظ چاہیئیں وہ اردو کیا دنیا کی کسی زبان میں موجود نہیں۔نہ علی بابا مشرف کے پائے کا تھا نہ چالیس چور پرویزی ٹولے کے مرتبے کو پہنچتے ہیں۔ میاں صاحب کو یوں انہیں عام سے چور قرار دے کر ان کی صلاحیتوں اور مرتبے کی نفی نہیں کرنی چاہیے۔

ہفتہ، 6 مارچ، 2010

بسنتی بہار

باتوں سے پھول جھڑنے کا ذکر ہم نے فرازصاحب مرحوم کی شاعری میں تو سنا تھا لیکن آپ اسے ہماری کور نگاہی کہئے یا بدنصیبی کہ ہمیں آج سے چند روز قبل تک کسی غنچہ دہن کے لبِ لعلیں سے لفظوں کے جھڑتے پھول دیکھنے کا اتفاق نہ ہوا تھا۔ ہماری اس حسرتِ دیرینہ کو اگلے روز ہمارے نہایت ہر دل عزیز گورنر صاحب نے اپنے بسنتی اعلان سے پورا کرکے ہمیں باغ باغ کر دیا۔
 جب گورنر صاحب اپنے اس عظمِ صمیم کا برملا اظہار فرما رہے تھے کہ وہ عدالت کے بسنت کش فیصلوں اور شہباز حکومت کی معصوم پتنگ بازوں کے خلاف جاری لٹھ برداری کے باوجود نہ صرف اس سال بسنت منائیں گے بلکہ اس کارِخیر کو تاحیات جاری رکھیں گے تو ہمیں واقعتا یوں لگ رہا تھا جیسے گورنر صاحب کا دہن مبارک کوئی موتیے کا لدا پھندا بوٹا ہو جس سے دھڑا دھڑ پھول کلیاں جھڑ رہی ہوں۔

ہم جانتے ہیں کہ ہمیشہ کی طرح گورنر صاحب کے اس اظہارِ شوق کو بھی مخالفین توڑ موڑ کر عوام کے سامنے پیش کریں گے ۔ بسنت کے خلاف عدالتی فیصلوں کے حوالوں سے لے کر ہر سال اس کھیل کے ہاتھوں درجنوں لوگوں کی ہلاکتوں کو ذکر ہو گا ۔ ملک میں بد امنی، بدحالی اور فاقہ کشیوں کا رونا رویا جائے گا ۔ن لیگ کے شعلہ بیان مقرر جو ہمارے گورنر صاحب کی قابلِ ستائش صلاحیتوں سے جانے کیوں ہمہ وقت خائف رہتے ہیں اپنی تقریروں اور بیانوں میں دگرگوں ملکی حالات کو گورنر صاحب کی پتنگ بازی کی معصوم خواہش سے غلط ملط کر کے ان کی بے حسی کا ماتم کریں گے اور انہیں اس نیرو سے تشبیہ دی جائے گی جو روم کے جلنے پر بھی ہر شے سے بے نیاز بانسری بجا رہا تھا۔لیکن ہمیں لاکھ غور کرنے پر بھی یہ منطق سمجھ نہیں آتی کہ بھلا لوگوں کے افلاس کا یا ان کے بھوک کے ہاتھوں خود کشیاں کرنے کا پتنگ بازی سے کیا تعلق؟ ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ہمارے گورنر صاحب جیسے اہلِ ذوق لوگوں کے شوقِ بسنت نے پچھلے پانچ سالوں میں صرف لاہورشہر میں 61 بچوں سمیت 171 افراد کوموت کی نیند سلا یالیکن اس سے بحر حال، ہمارے خیال میں،کسی بھی طرح بسنت بازی کا برا کھیل ہونا ثابت نہیں ہوتا ۔ہماری ناقص رائے میں اس قسم کے حادثات کو چند حفاطتی اقدامات سے بہ آسانی روکا جاسکتا ہے ۔ مثلابسنت کے دنوں میں غیر بسنتی آبادی پر کرفیو نافذ کر کے یا پھر انہیں شہر بدرکر کے بسنت بازی کے سبب ہونے والی غیر ضروری اموات سے بچا جا سکتا ہے ۔ ہمارے گورنر صاحب کے پاس اگر مکمل اختیارات کی ڈور ہوتی اور ن لیگ والے ان کی راہ میں روڑے نہ اٹکاتے تو وہ یقیناًایسے ہی انقلابی اقدامات سے بسنت پر اٹھنے والے تمام اعتراضات رفع کروا دیتے ۔
گورنر صاحب نے اپنے اسی بسنتی بیان میں لاہور میں ہونے والے حالیہ فیشن شو کی بھی مدح فرمائی ا ور اسے ثقافتی ہم آہنگی کے فروغ کا ایک اہم ذریعہ قرار دیا ۔ ہم اپنے باذوق گورنر صاحب کی اس بات سے غیر مشروط اتفاق کرتے ہوئے صرف اتنا اضافہ کریں گے کہ پاکستان کے رجعت پسند اور تنگ ذہن معاشرے میں فیشن شو کا انعقاد بادِ صبا کے اس جھونکے کی طرح ہے جو اپنے ساتھ روایت پرستی اور قدامت پسندی کی ساری کلفتوں کو بہا لے جائے۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ یورپ اور امریکا کی ہوشربا ترقی کا راز بھی در اصل ان کے فیشن شو زہی میں مضمر ہے ۔ جب تک ہم اپنی بہو بیٹیوں کو اتنا روشن خیال نہ کریں گے کہ وہ بھی کسی کیٹ واک پر بغیر لجائے بلی کی چال چل سکیں ہماری ترقی کرنے کے تشنہ خواب کبھی حقیقت کا روپ نہیں دھار سکتے۔ ا پنے لیڈرانِ کرام کی طرح روشن خیالی کو سینے سے لگا کر او ر غیرت جیسی فرسودہ روایات کوقصہِ پارینہ بنا کر ہی ہم ترقی کی عالمی میراتھن میں شریک ہوسکتے ہیں۔ گورنر صاحب کی باذوق شخصیت کو دیکھتے ہوئے ہمیں کبھی کبھی حیرت ہوتی ہے کہ ان جیسا صاحبِ شوق اور خوش رو کیسے گورنری جیسے کرخت عہدے پر براجمان ہے انہیں تو کسی کو ٹھے پرپتنگ باز سجنا ں بن کر بو کاٹا کے نعرے لگاتے ہوئے یا کسی کیٹ واک میں دلفریبیِ اندازِ نقشِ پا کا مظاہرہ کرتے ہوئے نظر آنا چاہیے تھا۔ بحرحال یہ قدرت کے فیصلے ہیں کہ وہ کبھی گدھے کو گھوڑے کی تھا ن پر اور کبھی گھوڑے کو گھدے کی تھان پر باندھ دیتی ہے ۔ ہم اس پر اعتراض نہیں کر سکتے ۔ قدرت کی ستم ظریفیوں کے سامنے ہمیں سرِ تسلیم خم کرنا ہی پڑتا ہے ۔

بدھ، 24 فروری، 2010

اب ہمیں لطیفے بھی سنانے ہیں

ہمیں حیرت ہے کہ امریکا بہادر ہمارے ناتواں کندھوں پر ذمہ داریوں کے اور کتنے بوجھ لادے گا ۔ ہماری کمر ابھی فرنٹ لائن اتحادی ہونے کے بوجھ سے ہی سیدھی نہیں ہوئی تھی کہ اب امریکا نے ہمارے ذمے اپنے پالیسی سازوں کو ہنسنے ہنسانے کا جانگسل کام بھی لگا دیا ہے۔

 چناچہ اگلے روز ہمارے وزیرِ خارجہ صاحب نے نہایت سنجیدگی سے یہ انکشاف کیا کہ پاکستانی حکومت نے سوات اور قبائلی علاقوں میں کیے جانے والے آپریشن کسی کی ڈکٹیشن پرشروع نہیں کیے بلکہ یہ اس کاذاتی فیصلہ تھا اور یہ کہ اگر شمالی وزیرستان میں کوئی آپریشن شروع کیا جاتا ہے تو اس کا سارا کریڈٹ بھی اان کی گورئنمنٹ کو ہی جائے گا ۔ ہمیں اپنے وزیر صاحب کے اس بیان پرپورا یقین ہے اورہم یہ بھی جانتے ہیں کہ 16 دسمبر 1971ء کو ریس کورس گراؤنڈڈھاکہ میں اختتام پذیر ہونے والے گرینڈ آپریشن سے لے کر جنوبی وزیرستان تک ہماری پیاری حکومتوں اور بہادر فوج نے سارے کارنامے وسیع تر ملکی مفاد کے لیے خود ہی سر انجام دیے ہیں اور جو لوگ ان میں کوئی بیرونی ہاتھ تلاش کرتے ہیں وہ یقیناًرا اور موساد کے نمک خوار ہیں۔ وزیر صاحب کے اس بیان پر جہاں ہم سر دھن رہے ہیں وہیں ہمیں لگتاہے کہ جملہ امریکی منصوبہ ساز زیرِلب خنداں ہوں گے اور ان میں سے جن کے ہاتھ میں جادو کی ان ڈوریوں کے سرے ہیں جنہیں ہلا کر وہ ہر کام جھٹ پٹ کروا لیتے ہیں وہ تو یقیناً ہنسی سے لوٹ پوٹ رہے ہوں گے اور ایک دوسرے کے ہاتھ پر ہاتھ مار کر کہ رہے ہوں گے ’لو کر لو گل‘۔ببہر حال اس دلچسپ بیان سے ہمارے وزیر صاحب نے یہ تو بخوبی ثابت کر دیا ہے کہ ہم رزم ہی کے مردِ میدان نہیں بزم میں بھی ہررنگ کے شگوفے کھلا سکتے ہیں۔

اتوار، 14 فروری، 2010

پر تین حرفNRO

این -آر-او پر تین حرف بھیجنے والے سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلے نے جہاں عوام کو یہ امید افزاء پیغام دیا ہے کہ پاکستان کی عدالتیں نظریہ ضرورت کے منحوس آسیبی چکر سے نکل کرآزادانہ اپنے فیصلے کرنے کا اپنا حق حاصل کر چکی ہیں وہیں اس اہم فیصلے نے ان چند لوگوں کے چہروں پر پڑے ملمعے بھی اتار دیئے ہیں جو اب تک کسی ذاتی مفادو کی تار سے بندھے آزاد عدلیہ کے نعرے لگاتے تھکتے نہ تھے۔ اس فیصلے نے جہاں کرپٹ اور اور غیر کرپٹ عناصر کے درمیان حدِ فاصل کھینچ دی ہے وہیں اس نے پھسپھسے حیلے بہانوں اور لولی لنگڑی دلیلوں سے کرپشن کا دفاع کرنے والے مکروہ چہروں سے بھی نقاب اتار کے رکھ دیا ہے ۔
 چناچہ پاکستانی عوام آجکل رنگا نگ کے رونے سن رہے ہیں ۔ کسی انسانی حقوقکی ٹھیکیدارکے لیے اسلام کا ذکر سوہانِ روح بنا ہوا ہے تو کسی وکیل صاحب کی زندگی کا مقصد صدر صاحب کا استشناثابت کرنا ٹھہرا ہے۔طرح طرح کی ان بولیوں کی آوازیں اور سر جدا جدا ہیں پر ان کا مقصد ایک ہی ہے کہ کسی طرح ان بے چاروں کو سزاسے بچایا جائے جو پچھلی کئی د ہائیوں سے کرپشن کے جو ہڑ میں بلا خوف وخطر اٹھکیلیاں کر رہے تھے اور اس نئی عدلیہ نے آکر جن کے رنگ میں بھنگ ڈال دیا ہے۔ہمیں امید ہے کہ ہماری ہر دم بیدار عدلیہ نہ صر ف ان بے چاروں کو ان کے منطقی انجام تک پہنچائے گی بلکہ پاکستان کے قانون اور آئین سے مسخریاں کرنے والے اس جوکر کو بھی انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا جو پاکستانی عوام کے ساتھ نو سال تک رنگ برنگے ڈرامے رچاکر اپنے دورِسیاہ کو طول دیتا رہا۔ حق وانصاف کا تقاضا بھی یہی ہے کہ جہاں کرپشن کرنے والوں کوانکے کیے کیسزا دی جائے وہیں کرپشن کو تحفظ دینے والے کا بھی گریبان پکڑا جائے۔ظالم کو پکڑلینا اورظلم کی سر پرستی کرنے والے اور اس کو تحفظ دینے والے کو نظر اندازکر دینا یقیناًایک مستحسن قدم نہیں قرار دیا جا سکتا۔ ہماری نئی عدلیہ نے جس جراء ت کے ساتھ پچھلے کچھ عرصے میں چند نہایت اہم فیصلے کرکے سمجھوتوں اور پسپائیوں سے لبریز عدلیہ کی تاریخ میں عزیمت اور بے باکی کے ایکنئے باب کا اضافہ کیا ہے ہم امید کرتے ہیں کہ پاکستان کی تاریخ کے بیہودہ ترین آمر کا احتساب کرکے ہماری عدلیہ یہپیغام بھی مستقبل کے پرویزوں تک پہنچائے گی کہ آئین اور قانون سے کوئی ماورا نہیں چاہے کسی نے خاکی وردی اوڑھ رکھی ہو یا سیاہ شیروانی سے اپنے آپ کو ڈھانپ رکھا ہو۔پاکستانی عوام شدت سے اس روزِ سعید کے منتظر ہیں جب مشرف کو نہایت عزت و احترام سے اس کے موجودہ بل سے نکال کرواپس اس ملک لایا جائے گا جس کی تقدیر کے ساتھ وہ نو سال تک مسخریاں کرتا رہا اور اسے اس کے جملہ کارناموں کا ٹھیک ٹھیک صلہ دیا جائے گا۔

جمعہ، 12 فروری، 2010

سارا فساد میڈیا کا ہے

حالات کی بلاکم و کاست ٹھیک ٹھیک تصویر کشی کرنامیڈیاکا بنیادی فرض ہے جس کو پورا کرنے میں بدقسمتی سے ہمارا میڈیا بری طرح ناکام رہا ہے۔ اس ناکامی کا ایک مظاہرہ اگلے دن اس وقت سامنے آیا جب میڈیا نے ہماری عوامی حکومت کے خلاف نہایت شر انگیز انداز میں یہ رپورٹ سامنے لائی کہ زندگی پچھلے دو سالوں میں عام آدمی کے لیے پچاس فیصد مہنگی ہو گئی ہے ۔

 فروری 2008 سے جنوری 2010 تک کا احاطہ کرتی اس رپورٹ میں نہایت گمراہ کن انداز میں مختلف اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کا موازنہ کرنے کے بعد یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ بعض اشیائے صرف کا اڑھائی سو سے تین سو فیصد تک مہنگا ہونا ہماری عوامی حکومت کی ناکامی ہے ۔ ہماری خیال میں یہ ایک متوازن رپورٹ نہیں ہے کیونکہ اس میں ہماری عوامی حکومت کو خواہ مخواہ تنقید کا نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے ۔ ہماری حکومت جس طرح دن رات عوام کی خدمت میں لنگوٹی کس کر لگی ہوئی ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ تسلیم کہ پچھلے دو سالوں میں بعض ناگزیر وجوہات کی بنا پر زندگی گزارنا پچاس فیصدمہنگا ہو گیا لیکن اس کے تکملے کے طور پر موت کو سو فی صد سستا کرنا بھی تو ہماری اسی حکومت کا کارنامہ ہے ۔ چناچہ اب مرنے کے لیے پاکستانیوں کو کوئی جوکھم اٹھانے کی ضرورت نہیں۔ وزیرستان کے پہاڑوں سے لے کر کراچی کی سڑکوں تک موت جابجا ارزاں کر کے ہماری حکومت نے مہنگائی تلے پستے عوام کو کم از کم یہ سہولت تو مہیا کی ہے کہ اگر وہ آسانی سے جی نہ سکیں تو سہولت کے ساتھ مر تو سکیں۔ہمیں جہاں حکومت کی خامیوں پرنہایت ادب کے ساتھ تنقید کرنی چاہیے وہیں ا س کے کارناموں پر داد کے ڈونگرے بھی برسانا ہماری ذمہ داری ہے ۔

بدھ، 10 فروری، 2010

بھونڈ حملے

راست گوئی میں رسوائی کا کٹھکا تو لگا ہی رہتا ہے لیکن کا ر زارِ سیاست میں سچ گوئی کا پھل کبھی کبھی گالیوں اورجوتوں کی صورت میں بھی کھانا پڑتا ہے اس لیے ہمارے سیاست دان عموماًسچ بولنے سے احتراز برتتے ہیں اورعوام کو جھوٹ کی میٹھی گولیاں کھلا کر اپنی دھوتی صاف بچا لے جاتے ہیں ۔ اس عمومی روایت سے البتہ چندایسے سیاست دان مستشنیٰ ہیں جو ہر حال میں حق گوئی اور بے باکی کا دامن تھامے راستی از فتنہ انگیز کو دروغ ازمصلحت آمیز پر ترجیح دیتے ہیں

 اور اپنی اسی صاف گوئی کے جرم میں اکثر مخالفین کے ٹھٹھول کا نشانہ بنتے ہیں۔ ہمارے وزیرِ دفاع صاحب کا شمار بھی ایسے ہی نابغہ روزگاروں میں ہوتا ہے جوسچائی کو مصلحت کے پردوں میں چھپانے کے قائل نہیں۔اگلے روز انہوں نے یہ تسلیم کر کے کہ پاکستان ڈرون حملوں کو نہیں روک سکتا پاکستان کے ناقابلِ تسخیر دفاع پر کماحقہ روشنی ڈالی ۔ مخالفین چاہے کتنے بھی چیں بہ جبیں ہوتے رہیں حقیقت یہی ہے جو ہمارے دفاع کے ذمہ دار وزیر صاحب نے کھل کر بتا دی۔ اس بیان سے یہ بھی صاف عیاں ہے کہ ہمارے لیڈران کرام جو اکثر پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے والے کی آنکھ کا حشر نشر کرنے کی دھمکیاں دیتے رہتے ہیں وہ ازراہِ تفنن ہی ہوتی ہیں کیونکہ ہم طالبان کی طرح اجڈ تو ہیں نہیں کہ دشمنوں کی آنکھیں نکالتے پھریں۔وزیر صاحب کی اس بیان سے ہم نے اپنے ملک کی دفاعی تیاریوں کا تو بخوبی اندازہ لگا لیا ہے لیکن ایک بات کی وضاحت وزیرمحترم کے اس بیان سے نہیں ہو سکی کہ آیا پاکستان کے پاس ان بھونڈ حملوں کو روکنے کی حربی صلاحیت ہی نہیں یا ایسا کرنے کی ہمت مفقود ہے۔ہمارے قیاس میں معاملہ دوسرے والا ہے کہ پچھلے چند سالوں میں امریکی ڈالروں کی اعصاب شکن مہک نے جہاں ہمارے حواسںِخمسہ پر نہایت خمار آور اثرات ڈالے ہیں وہیں اس نے ہماری جراتوں کو بھی تہذیب یافتہ کر کے ہمیں ہر قسم کے جنگ و جدل سے دور کر دیا ہے ۔ویسے منطقی طور پر بھی ہمارا ڈرون حملوں کو روکنا ملک کے وسیع تر مفاد کے خلاف ہے کیونکہ انہی کی برکت سے ہمارا زود رنج دوست امریکا ہم پہ مہربان رہتا ہے۔ چند شدت پسندوں کو بچانے کے لیے ہم اپنے اتنے عزیز دوست کی رنجش بھلا کیوں مول لیں۔ہمارے وزیر صاحب نے کڑوا سچ جس جرات اور سہولت سے بیان کیا یہ انہی کا خاصہ ہے ۔ انہی جیسی نادر شخصیات سے پی پی کا کلاہِ سلطانی ہمہ وقت جگمگ جگمگ کرتا رہتا ہے۔

جمعرات، 28 جنوری، 2010

مہنگائی کے جن کی درگت

ہماری عوامی حکومت نے اگلے روز پیٹرول کی قیمت میں یکلخت 64پیسے کی کمی کر کے عوام پر شادی مرگ کی سی کیفینت طاری کر دی ہے ۔ جہاں بہت سے عوام کے منہ اس خوشخبری پر استعجابِ حیرت سے کھلے کے کھلے رہ گئے ہیں وہیں ایک کثیر تعداد کو یہ سمجھ نہیں آرہی کہ وہ اس نویدِ مسرت پر ہنسیںیاروئیں۔ مہنگائی کا وہ ستمگرجن جو پچھلے کچھ عرصے سے ہمہ وقت عوام کے اعصاب پر سوار دندناتا پھرتا تھا حکومت کے اس انقلابی فیصلے سے اب واپس اپنی بوتل میں بند ہو کر تھر تھر کانپ رہا ہے اور اسے پہلی دفعہ عوامی جمہوریت کی طاقت کا صحیح اندازہ ہواہے ۔


عوام کے جذبات اور مسائل سے نابلد ایک آمریت میں اور عوامی دھڑکنوں سے آشناجمہوریت میں یہی فرق ہوتا ہے کہ جہاں آمریت عوامی مسائل کو درخورِاعتنا نہیں سمجھتی اور اقتدار کی موج میں مست ہو کر عوام پر مصائب کے پہاڑ گراتی رہتی ہے وہیں جمہوریت عوام کے درد کو اپنے دل کا روگ بنا کر ہر وقت ان کے مسائل کو حل کرنے کے لیے نئے نئے اقدامات ااٹھانے کی فکر میں لگی رہتی ہے ۔ہماری عوامی حکومت کا حالیہ فیصلہ بھی لیلیِٰ جمہوریت کی ایک ایسی ہی دل خوش کن جھلک تھی جس نے پاکستانی عوام کویکسر مبہوت کر کے رکھ دیا ہے ۔وہ بے چاری مخلوق جو سابقہ دورِ آمریت میں مہنگائی کے بوجھ تلے دبی چوں بھیکرنے کی سکت نہ رکھتی تھی اورسسک سسک کر گزرتی ہوئی زندگی جس کے لیے ایک مستقل بوجھ بنتی جا رہی تھی ہماری عوامی حکومت نے آتے ہی اسے اسطرح پے در پے ریلیف دیے ہیں کہ اب اس کے تنِ ناتواں میں مسرت و شادمانی کے جھرنے پھوٹ پڑے ہیں‘ یاس کی سیاہ گھٹاؤں کی جگہ امید کی بادِ صبا نے لے لی ہے اور وہ بے چارے ہونٹ جو حالتِ ناامیدی میں ’ ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مر چلے ‘ کا ورد کرتے نہ تھکتے تھے آج کل خوشی سے ان کی باچھیں کھل کھل جاتی ہیں اور وہ ’ہوا دے نال اڈی اڈی جانے ‘ کی آرزو کرتے نظر آتے ہیں۔
پیٹرول کی قیمتوں میں انقلابی کمی کایہفیصلہ یقیناًایک روز کا کھیل نہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ ہماری حکومت کے جملہ کارپر دازوں نے بہت سوچ بچار اور غورو حوض کے بعد عوام تک حیرت انگیز ریلیف پہنچانے والا یہ قدم اٹھایا ہو گا ۔اس پہاڑ کو سر کرنے کے لیے انہیں اعداد و شمار کے جانے کتنے جھمیلوں سے گزرنا پڑا ہو گا اور نہ جانے کتنی اعصاب شکن میٹنگوں میں اس مسئلے کا عرق ریزی سے جائزہ لینے کے بعد حکومت عوام کو یہ روح افزا خوشخبری سنانے میں کامیاب ہوئی ہو گی ۔ہماری حکومت کے وہ معاشی مشیر جنہوں نے اپنے بیش قیمت مشوروں سے پچھلے دو سالوں میں عوام کی حالتِ زار میں تبدیلی لانے کے لیے دن رات ایک کیے رکھے آخر کار عوام کی توقعات پر پورے اترتے ہوئے انہیں وہ ریلیف دینے میں کامیاب ہو ہی گئے جس کا وعدہ پی پی کی گورئنمنٹ نے اقتدار کی باگ ڈور سنبھالتے وقت کیا تھا۔ہمارے نہایت ہر دل عزیز وزیر اعظم صاحب نے یہ فرما کر کہ دو سال مشکلات سے نبٹتے گزرے اب باقی مانندہ تین سال عوام کو ریلیف دیں گے پاکستانی عوام کو آنیوالی خوشگوار رتوں کا عندیہ ابھی سے دے دیا ہے۔ پیٹرول کی قیمتوں میں مذکورہ کمی شاید اسی ریلیف کی پہلی قسط تھی ۔ اہلِ نظر اس ریلیف کو سامنے رکھ کر آنیوالے تین سالوں کے متوقع ریلیف کی دھندلی سی تصویر ابھی سے ملاحظہ کر سکتے ہیں۔ بحر حال جو بھی ہو عالمی معاشی بحران کے باوجودہماری حکومت کا عوام کو یوں ریلیف در ریلیف دینا لائقِ تحسین ہے اور ہمیں حیرت ہے کہ ہماری حکومت مالیاتی بحرانوں کی یلغار میں بھی عوام کو ریلیف دینے کے اپنے وعدے پر کس عزم بالجزم سے قائم ہے ۔ ملک سے محبت سچی اور کھری ہو اور عوام کی فلاح کا خیال ہر دم ساتھ ہو تو ایسے محیر العقو ل کارنامے سر انجام پاتے ہی رہتے ہیں۔
اب جب کے مہنگائی کے ہاتھوں زندہ درگور عوام اس انقلابی فیصلے کے ثمرات کو محسوس کرتے ہوئے سکھ کاسانس لینے کی تیاریاں کر رہے ہیں ہماری عوامی حکومت کے جملہ مخالفین سے بھی دست بستہ درخواست ہے کہ وہ مخالفت برائے مخالفت کی عینک اتار کر اور تعصب کے خول سے نکل کر اس حکومتی کارنامے کی دل کھول کر مدح کریں اور ہوشربا مہنگائی کا جو الزام وہ پچھلے دو سالوں سے عوامی حکومت کے سر رکھتے رہے تھے اب اس مہنگائی کا قلع قمع کرنے والے اس فیصلے کو مدنظر رکھتے ہوئے خدا لگتی کہیں کہ کیا واقع ایسی قابل حکومت اس سے قبل پاکستانیوں کو نصیب ہوئی ہے ؟ اپنے مخالف کی تعریف کرنا یقیناًایک نہایت کٹھن کام ہے لیکن جب مخالف ہماری حکومت کے پائے کا ہوکہ جس کے کارناموں کا طوطی چار سو ہمہ وقت بول رہا ہو تو اس کی تعریف کیے بنا رہا نہیں جاسکتا چاہے تعصب اور تنگ نظری کا پارہ کتنا ہی چڑھاہوا کیوں نہ ہو ۔ ہمیں یقین ہے کہ پیٹرل کی قیمتوں میں چوسٹھ پیسے کی یہ انقلابی تخفیف عوام کی معاشی مشکلات کے پہاڑ کو کم کرنے میں نہایتممد ثابت ہوگی ا ور اس اچانک کمی سے نہ صرف ہماری اونگھتی ہوئی صنعتیں ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھیں گی بلکہ اشیائے صرف کی قیمتیں بھی جو آسمان سے باتیں کر رہی ہیں نیچے اتر کر زمیں والوں سے ہم کلام ہونے لگیں گی۔ غرض کہ کو ئی مانے یا نہ مانے ہمیں تو حکومت کے اس چھوٹے سے اقدام میں عوام کی معاشی زندگیوں میں آنیوالے انقلاب کی تصویر صاف نظر آرہی ہے ۔
ہمارے جانیوالے وزیر خزانہ صاحب اپنے ایک سابق ہم نام پیشرو کی طرح وہ جادوئی عد سہ تو نہ رکھتے تھے جس میں دیکھنے سے سارا پاکستا ن ہرا ہی ہرا نظر آتا ہے اور بھوک سے بلبلاتے ہوئے عوام خود کشیوں کی بجائے خوش فعلیاں کرتے نظر آتے ہیں لیکن انہوں نے بھی اپنے اس نامی پیش رو کی مانند اپنے تئیں پاکستانی عوام کی معاشی حالت سدھارنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ چناچہ آج کے پاکستانی کی معاشی صحت کا دو سال قبل کے پاکستانی کی صحت سے موازنہ ہمیں صاف صاف بتاتا ہے کہ ہم عوامی حکومت کے سنگ معاشی ترقی کے سفر میں چلتے چلتے کتنے دور نکل آئے ہیں۔ پی پی کی حکومت کا ہمیشہ سے یہ طرحِ امتیاز رہا ہے کہ یہ اصولوں پر سودے بازی نہیں کرتے ۔ چناچہ ہمارے رخصت ہونے والے وزیر صاحب نے بھی جاتے جاتے اپنے اصولوں پر سودے بازی نہ کرنے کا اعلان فرمایا جس سے جملہ عوام الناس بہت محظوظ ہوئے ۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شر پسندوں کے خلاف دو سمتی حکمت عملی اختیار کرنے کے بعد ہماری حکومت کویہ طریقہ اتنا مر غوب ہو گیا ہے کہ اب ہر میدان میں اسی سے کام چلایا جا رہا ہے۔معاشی خوشحالی کے دیرینہ خواب کی تعبیر کے لیے بھی ایسی ہی ایک دو رخی تدبیر اختیار کی گئی ہے ۔ اس حکمت عملی کے پہلے مر حلے میں جملہ وزرا و مشیران کرام کی معاشی حالت میں بہتری لانے کے لیے چند انقلابی و غیر انقلابی اقدامات شامل ہیں ۔معاشی خودمختاری کے دوسرے مرحلے میں عوام کو ریلیف دینے کا وہ کثیر المقاصد منصوبہ شامل ہے جس کی ایک جھلک ہم نے پیٹرول کی قیمت میں کمی کی صورت میں دیکھی ۔ ہمیں افسو س ہے کہ ہمارے وزیر خزانہ صاحب پہلے ہی مر حلے میں حکومتی ایوانوں کوخیر آباد کہہ گئے اور انہوں نے ملکی معیشت پر اپنی ذاتی معیشت کو ترجیح دی حالانکہ ہمیں یقین ہے کہ وہ حکومت میں رہ کر ہر دو کی بہتری کے لیے زیادہ بہتر طور پر کام کر سکتے تھے۔آج سے دو سال قبل جب عوامی حکومت نے اقتدار کی باگ ڈور سنبھالی تو ہمیں اسی وقت کشف ہوگیا تھا کہ اب مہنگائی کے جن کی خیر نہیں۔ اس نامعقو ل مخلوق کی درگت کاجو سلسہ پیٹرول کی قیمتوں میں مذکورہ کمی سے شروع ہوا ہے اس کے بہت سے مزید دلچسپ مناظر ہمیں آنیوالے دنوں میں جوں جوں انتخابات کے قرب کی نشانیاں ظاہر ہوتی جائیں گی دیکھنے کو ملیں گے۔عوامی حکومت کے جلالی مزاج کو ملاحظہ کرتے ہوئے اب لگتا ہے کہ مہنگائی کے جن کی خیر نہیں۔